


وکلا رہنماوں اور عوام نے حکمران اتحادی جماعتوں کی طرف سے صدر کے مواخذے کے اعلان پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے مواخذے سے پہلے معزول ججوں کو بحال کیا جانا چاہیے۔ انہیں حکمران اتحادی جماعتوں کے اعلان سے مایوسی ہوئی ہے۔ ان کے بقول اتحادی جماعتوں کے اعلامیہ میں ججوں کی بحالی کے معاملے کی ترجیح کو کم کر کے دوسرے نمبر پر لے آئے ہیں حالانکہ پہلے ججوں کو بحال کیا جانا چاہیے تھا اس کے بعد صدر کا مواخذہ کیا جاتا۔ عوامی حلقوں نے نشاندہی کی ہے کہ اعلامیہ میں وقت کا تعین نہیں کیا گیا کہ یہ موخذاہ کب ہوگا اور اس میں کتنا وقت لگے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اعلامیہ کے بعد ججوں کی بحالی کا معاملہ صدر کے مواخذے سے مشروط ہوگیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ اعلامیہ بھی ایک تاخیری حربہ ہو تاہم وکلاءکا پندرہ اگست کو اہم اجلاس ہورہا ہے جس میں چودہ اگست تک جج بحال نہ ہونے کی صورت میں آئندہ کی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ وکلاءکے اس اعلامیہ سے وکلاءتحریک پر کوئی فرق نہیں پڑےگا بلکہ وکلاءتحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک معزول جج بحال نہیں ہوتے۔ اس اعلامیہ کے بعد ججوں کی بحالی کا معاملہ اعلان مری سے بھی پیچھے چلا گیا ہے۔ ان کے بقول اعلان مری میں یہ کہا گیا تھاکہ معزول ججوں کو تیس دنوں میں اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے بحال کیا جائے گا لیکن اب جو اعلامیہ سامنے آیا ہے اس میں کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا بلکہ ججوں کی بحالی کو صدر کے مواخذے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ ججوں کی بحالی کو اولین ترجیح دینی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور ججوں کی بحالی کے تحریک چلانے والے وکلاء اور سوسائٹی کے ارکان کو’لولی پوپ‘ دیا گیا ہے۔ اعلان مری میں یہ کہا گیا کہ معزول ججوں کو تیس دنوں میں اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے بحال کیا جائے گا لیکن اب جو اعلامیہ سامنے آیا ہے اس میں کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا بلکہ ججوں کی بحالی کو صدر کے مواخذے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ صدر پرویز مشرف کا مواخذہ یعنی’گو مشرف گو‘ اور ججوں کی بحالی یہ دونوں ہی وکلا اور عوام کے مطالبات ہیں تاہم وکلاءاور عوام کو ان کی ترتیب پر اختلاف ہے کیونکہ پہلے ججوں کو بحال کیا جاتا اور پھر صدر مشرف کا مواخذہ ہوتا۔ حکمران اتحاد نے جو اعلامیہ جاری کیا ہے اس سے ججوں کی بحالی کا معاملہ سردخانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے جس طرح پہلے ججوں کی بحالی کا وعدہ کرکے اس وعدہ کو پورا نہیں کیا گیا اس طرح اب ایک مرتبہ پھر عوام کو دھوکا دیا گیا ہے۔ عوام نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ حکمران اتحاد کی طرف سے صدر کے مواخذے سے قبل صدر خود حکمران اتحاد کا مواخذہ کر دیں گے۔ پاکستان کے حکمران اتحاد کی جانب سے صدر مشرف کے مواخذے کے اعلان پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے اور جہاں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس اعلان کا محتاط انداز سے خیر مقدم کیا گیا ہے وہیں ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ ملک کو صدر مشرف کے مواخذے سے بڑے مسائل درپیش ہیں۔ ’اعلان جمہوری قوتوں کے لیے خوشی کی بات ہے لیکن کہیں اس کا حال بھی وہی نہ ہو جائے جو مری اعلامیے کا ہوا تھا‘۔ یہ جماعتیں اپنے اقدامات میں غیر ضروری تاخیر کر رہی ہیں جس کا نقصان ہو سکتا ہے۔ صرف اس اعلان میں ہی تین دن لگا دیے گئے ہیں اور اگر تمام اتحادی جماعتیں صدر کے مواخذے پر راضی ہیں تو پھر انہیں صوبائی اسمبلیوں کی قراردادوں میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں تھی وہ رات کو ہی مواخذے کی تحریک جمع کرا دیتے۔ ادھر لندن سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ’سارا زور اس بات پر لگایا جارہا ہے کہ صدر آئینی ہیں یا غیر قانونی۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ اگر صدر مشرف غیر آئینی ہیں تو اصولی طور پر ان کی صدارت میں ہونے والے تمام انتخابات بھی غیر آئینی ہیں۔ ان انتخابات کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلیاں بھی غیر آئینی ہیں۔ اس طرح صدر یا ان کے نامزد کردہ گورنر سے وزارت کا حلف اٹھانا بھی غیر آئینی ہے، لہذا اس اصول کے تحت صدر مشرف کے مواخذے کے ساتھ غیر آئینی عمل کے مرتکب ہونے والے سیاسی رہنماو¿ں کا بھی مواخذہ ہونا چاہیے‘۔ یہی دونوں لیڈر چار مہینے پہلے بھی ایک اعلان مری کر چکے ہیں جس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا اور یہ ایک نیا اعلان مری بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ لوگ مخلص ہیں تو انہوں نے کوئی ٹائم فریم کیوں نہیں دیا اور اگر ان جماعتوں کی پارلیمنٹ میں اکثریت ہے تو انہوں نے پہلے اٹھاون ٹو بی کا خاتمہ کیوں نہیں کیا؟ قومی مفاہمتی آرڈیننس اور غیرملکیوں کی ثالثی میں ہونے والی ڈیلیں صدر مشرف کے مواخذے کے راستے میں حائل رہیں گی۔ ویسے بھی اتحادی جماعتوں کے پاس مواخذے کے لیے مطلوبہ اکثریت موجود نہیں ہے اسی لیے انہوں نے ایک لمبا راستہ اپنایا۔ حکمران اتحاد کے پاس سات آٹھ ووٹ کم ہیں ورنہ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک جمع کرانے میں وہ ایک روز بھی نہ لگاتے۔ملک داخلی سلامتی کی صورتحال اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں عوام چاہتے ہیں کہ صدر مشرف اب چلے جائیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ جبکہ اپوزیشن کہتی ہے کہ حکومت چلی جائے تو حالات درست ہو جائیں گے۔ حکومتی جماعتوں نے مخدوش حالات کی ذمہ داری سابقہ حکومت پر عائد کی ہے جبکہ موجود حکومت بھی عوام کے جان و مال ، عزت اور آبرو کے تحفظ کے حوالے سے بنیادی آئینی ذمہ داری کی ادائیگی میں ناکام ہے۔عوام کا مطالبہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی پر اس حوالے سے بھارت کی طرح ملک میں خاطر خواہ ریلیف دی جا ئے۔ملک میں تشدد دہشت گردی اور جرائم بڑھ رہے ہیں حکومتی اداروں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ڈکیتی ، اغواءبرائے تاوان اور دیگر جرائم میں 40 فیصد اضافہ ہو ہو رہا ہے۔ پنڈی میں ایک ماہ میں 63 کروڑ کی ڈکیتیوں کی وارداتیں ہو ئیں۔ چار ماہ میں کسی شعبے کی کارکردگی بہتر نہیں رہی ملک بھر میں آٹے کی قلت ہے جس میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے خوراک کا بحران ہے ہر روز ایک چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے ۔ جو گزشتہ روز ایل پی جی ٹی قیمتوں میں دس فیصد اضافہ کر دیا گیا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ایک مافیا کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ جب چاہیں گیس کی قیمت بڑھا دیں گزشتہ تین دنوں سے اتحادی جماعت بیٹھی ہیں مہنگائی آٹے کی قیمت سمیت ایک عوامی ایشوز پر توجہ نہیں کی گئی۔ عوام کے مسائل پر سا بقہ حکمرانوں کی طرح مو جودہ حکمرانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں پاکستان میں 40 فیصد اضافہ ہو گیا ہے تیل کی قیمتوں کو جواز بتاتے ہوئے کرایوں میں 63 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے مہنگائی کی سرکاری سرپرستی ہو رہی ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے عوام کو ریلیف دیا جائے۔ ڈالر 74 روپے کو چھو رہا ہے۔ صنعتیں ہڑتالوں پر ہیں ۔امن وامان کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے 9 سالوں میں کیاکچھ نہیں کیا۔ پاکستان کی دولت کو لوٹ کر بریف کیس اٹھا کر شارٹ کٹ عزیز باہر چلے گئے ۔ صدر پرویز مشرف بھی اتحادی جماعتوں کے خلاف سازشیں چھوڑ دیں تو ہو سکتا ہے کہ ڈالر نیچے آ جائے ۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا افراط زر نہیں بڑھا ۔ دہشت گردی عروج پر ہے۔ غیر ملکی ایجنٹوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں کام کر رہی ہے۔ حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ حکومت کو منقسم مینڈیٹ ملا ہے ۔ قوم کو بے یقینی کی صورتحال کا تحفہ دیاگاہے۔ جو حالات ہیں سابقہ و مو جودہ حکمرانوں کا ہاتھوں کا کیادھراہے۔ لال مسجد میں فاسفورس بم پھنکے گئے۔ مسجد کا تقدس پائمال کیاگیا ۔ مقدس اور ( ق ) کی بے حرمتی کی گئی۔ نعشوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے۔ ملکی سلامتی داو¿پر لگی ہوئی ہے ۔ مہنگائی عروج پر ہے ۔ سابقہ حکومت نے بے گناہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکا کے سپرد کیا ۔ اس کی چیخیں اور آہیں دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہیں امن وامان نچلے درجے پر پہنچ گیا خانہ جنگی کی صورتحال ہے۔ انتہا پسندی دہشت گردی کے حوالے سے منظم قوتیں متحرک ہیں۔ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں ۔ ملک بھر میں اغوا کار دندناتے پھر رہے ہیں ۔ حکومتی ادارے بے بس ہیں ملک میں قانون کی حکمرانی قائم نہیں کر سکتے ۔ عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں ایسی صورتحال میں حکومت کو سنجیدہ ہو نا ہو گا۔ جبکہ وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ صدر کے مواخذے کے لئے ایوان میں پیش کی جانے والی قرار داد کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے ۔ وزیر اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس 11 اگست کو طلب کرنے کے لئے سمری روانہ کر دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے صلاح مشورے سے ایک مشترکہ قرار داد کا ڈرافٹ بھی تیار کر لیا گیا ہے ۔ دریں اثناء حکمران اتحاد کے مشترکہ اعلامیے میں صدر کو کہا گیا ہے کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ لیں ۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ( ن ) اور پیپلزپارٹی کے رہنماو¿ں شیری رحمان ‘ رضا ربانی ‘ احسن اقبال ‘ اور اسحاق ڈار پر مشتمل کمیٹی نے مشترکہ اعلامیے کا مسودہ تیار کیا ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ لیں اور چاروں صوبائی اسمبلیاں آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت قرار دادیں منظور کریں گی جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اعتماد کا ووٹ لیں اور اگر صدر مملکت اسمبلیوں سے ووٹ نہیں لیتے تو حکمران اتحاد صدر کے خلاف چارج شیٹ تیار کی جائے گی ۔ جو مواخذے کی تحریک پر مبنی ہو گی اور صدر کو دفاع کے لئے کہا جائے گا ۔ اور ان کے خلاف مواخذے کی تحریک پش کی جائے گی ۔ مشترکہ اعلامیے میں معزول ججوں کی بحالی چیف جسٹس سمیت اعلان مری کے تحت کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ صدر کے مواخذے کو مشترکہ اعلامیے میں اولین ترجیح دی گئی ہے ۔ جس کے بعد تمام معزول ججوں کو اعلان مری کے مطابق بحال کیا جائے گا ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اتحادی قیادت اس عزم کا بھی اعادہ کرتی ہے کہ متنازعہ 17 ترمیم بھی ختم کی جائے اور اتحاد اس مقصد کے لئے عملی اقدامات کرے گا ۔ مشترکہ اعلامیے میں مسلم لیگ ( ن ) کے وزراءکی وفاقی کابینہ میں واپسی کو بھی شامل کیا گیا ہے تاہم اس کی ڈیڈ لائن درج نہیں ہے ۔ جبکہ پنجاب اسمبلی میں آئین کے آرٹیکل 58-2Bکے تحت اسمبلی توڑنے کا صدارتی اختیار ختم کرنے کیلئے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ مسلم لیگ (ق) کے ارکان نے بھی قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ جمعرات کے روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس اپنے اختتامی مراحل میں تھا کہ اجلاس ختم ہونے سے پندرہ منٹ قبل مسلم لیگ (ق) فارورڈ بلاک کے پی پی 4 سے منتخب رکن راجہ شوکت عزیز بھٹی نے ڈرامائی طور پر قرار پیش کی کہ صدر مملکت اور گورنر سے قومی اسمبلی اور وصوبائی اسمبلیاں توڑنے کا اختیار واپس لیا جائے اور یہ اختیار قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو سونپا جائے کہ وہ فیصلہ کریں کہ کن حالات میں اسمبلی کو توڑنا اور مرکز یا صوبے میں صدارتی یا گورنر راج قائم کرنا ضروری ہے۔ قرارداد کی کسی رکن نے بھی مخالفت نہیں کی اور مسلم لیگ (ق) کے ارکان کی بڑی تعداد کی ایوان میں موجودگی میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرارداد کے محرک راجہ شوکت عزیز بھٹی نے قرارداد کے حق میں دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملک میں بڑی مشکل سے اور بڑی قربانیوں کے بعد جمہوریت قائم ہوئی ہے جبکہ ایک فرد واحد جب چاہتا ہے اسمبلیوں کو ملیا میٹ کردیتا ہے۔ ارکان اسمبلی عوام سے جمہوری مینڈیٹ لینے کے بعد ایوان میںپہنچتے ہیں اس لئے فرد واحد کو یہ اختیار حاصل نہیں ہونا چاہئے کہ وہ قومی یا صوبائی اسمبلی کو برخاست کرے۔ صدر وگورنر کا یہ اختیار ختم کرنے کیلئے آئین میں ضروری ترمیم کی جائے اور قانون سازی کے ذریعے یہ اختیار صدر یا گورنر کی بجائے متعلقہ اسمبلیوں کو دیا جائے کہ وہ فیصلہ کریں کہ کیا حالات اس نہج پر ہیں کہ اسمبلیاں ان کا حل کرنے میں ناکام ہیں اور ملک میںصدر راج یا صوبے میں گورنر راج قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) فارورڈ بلاک کے رکن راجہ شوکت عزیز نے صدر کے آرٹیکل 58-2Bکے تحت اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کرنے کیلئے پیش کی گئی قرارداد کا متن اس طرح ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور پنجاب کے عوام کے حقوق کی پاسبانی کیلئے وفاقی حکومت سے پرزور سفارش کی جائے کہ آئین میں 58-2Bجو کہ فرد واحد یعنی صدر پاکستان کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ جب چاہے اس کا ناجائز استعمال کرکے عوام کی منتخب شدہ وفاقی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو ختم کردے اور صوبوں میں اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے گورنر راج نافذ کردے اور جب چاہے اس ملک کے عوام کا جمہوری قتل کردے۔ جس طرح کہ ماضی اس بات کا گواہ ہے۔ اس طرح یہ ہر دو شقیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وجود کی نفی کرتی ہیں بلکہ پاکستان بھر کے عوام کی رائے کو قتل کرنے کے مترادف ہیں۔ ان ناجائز اختیارات کو جلداز جلد ختم کیا جائے اور اس کا اختیار صرف اور صرف قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو دیا جائے۔حکمران اتحاد کی چار بڑی جماعتوں نے اپنے ایک سربراہی اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ 'جنرل مشرف' کا آئین کے آرٹیکل سینتالیس کے تحت مواخذہ کیا جائے۔اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میڈیا کو صدر مشرف کے خلاف چارج شیٹ سناتے ہوئے کہا 'اسلام آباد اور کراچی میں مشاورت کے بعد اتحادیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ حقیقی جمہوریت کی طرف سفر کیا جائے۔' انہوں نے کہا کہ 'فروری کے انتخابات میں عوام نے جمہوریت اور جمہوری قوتوں کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور حکومت کی تبدیلی اور جنرل مشرف کے انخلاءکا فیصلہ دیا تھا ان کی کنگز پارٹی کو شکست دے کر۔' جنرل مشرف نے صاف کہا تھا کہ کہ ان کی حکومت اگر انتخابات میں ہارتی ہے تو وہ وہ صدر کا عہدہ چھوڑ دیں گے لیکن انہوں نے یہ نہیں کیا۔ جنرل مشرف نے اپنے وکیل کے ذریعے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ آنے والی پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیں گے لیکن انہوں نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا۔ اور انہوں نے آئین کے آرٹیکل 56 کے تحت پارلیمنٹ سے خطاب بھی نہیں کیا۔ جنرل مشرف کی معاشی پالیسیوں سے ملک کو مشکلات کا سامنا ہے، بجلی کا بحران ہے اور لوگوں کا قومی اداروں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ اور انہوں نے کنگز پارٹی کے ساتھ مل کر جمہوریت کے خلاف سازشیں کی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی ، پاکستان مسلم لیگ (ن) ، عوامی نیشنل پارٹی ،جمعیت العلماء اسلام (ف) اور فاٹا پر مشتمل حکمران اتحاد نے آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت صدر پرویز مشرف کے مواخذے اور ججز کو تین نومبر کی پوزیشن پر بحالی کیلئے اقدامات کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمران اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں قرار دادیں منظور کی جائیں گی جس میں صدر سے مطالبہ کیاجائے گاکہ وہ اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ لیں حکمران اتحاد نے واضح کیا ہے کہ 80ء اور 90ء کی دہائی نہیں ہے کہ کوئی اٹھاون ٹی بی استعمال کر سکے نہ ملک اس کا متحمل ہو سکتاہے نہ عوام اسے قبول کریں گے۔اس امر کا اظہار حکمران اتحاد کے تین روزہ طویل مشاورتی اجلاسوں کے بعد اعلان اسلام آباد میں کیا گیا ہے۔ اعلان اسلام آباد زرداری ہاو¿س میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدسابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کے نمائندوں کے ہمراہ پر ہجوم پریس کانفرنس میں جاری کیا۔اعلان اسلام آباد میں کہاگیاہے صدر پرویز مشرف کا مواخذہ ضرور اور بہت جلد ہو گا تمام جمہوری قوتیں جمہوریت کے استحکام کیلئے مل کر کام کریں گی اٹھارہ فروری کو عوام نے جمہوریت کیلئے واضح مینڈیٹ دیاتھا اور تمام جماعتیں جمہوریت کیلئے کام اور جدوجہد کرتی رہیں گی اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ صدر کا مواخذہ ہر صورت ہو گا کیونکہ صدر نے اس سے پہلے بھی یہ وعدہ کیا تھا کہ ان کی ہم خیال جماعت کو انتخابات میں شکست ہو گئی تو وہ یہ عہدہ چھوڑ دیں گے تو انہوں نے ایسا نہیں کیا کنگز پارٹی کی شکست پر صدر پرویز مشرف کو مستعفی ہوجانا چاہیے تھا آئین کے آرٹیکل 56کے تحت صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی نہیں کیا۔ صدر نے جمہوریت کو نقصان پہنچانے کیلئے اقدامات کئے ہیں تمام اتحادی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ وہ جمہوریت کے لئے اقدام اٹھائیں اور وہ قوتیں جوجمہوریت کو پس منظر میں رکھنا چاہتی ہیں ان کامواخذہ ہر صورت کریں گے ۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ صدر نے کنگز پارٹی سے مل کر سازشیں کی ہیں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے صدر کا گزشتہ اسمبلی سے انتخاب بھی ایک سوالیہ نشان ہے ۔ پیپلز پارٹی اور باقی جماعتیں اسے غیر آئینی اور غیر قانونی تصور کرتی ہیں۔ ان باتوں کی موجودگی میں مطالبہ کرتے ہیں صدر مشرف چاروں صوبائی اسمبلیوں اور اس کے بعد قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں مواخدے کی تحریک جلد پیش کی جائے گی اورجلد ہی صدر کے خلاف چارج شیٹ بھی جاری کر دی جائے گی ۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ میثاق جمہوریت کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے اور صدر کے مواخذے کے بعد اعلان مری کے مطابق ججز بحال کئے جائیںگے۔ اعلان اسلام آباد میں مزید کہاگیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی ، آئین کی بالا دستی ، قانون کی حکمرانی ، غربت مہنگائی اور پختون خواہ کو جو مسائل درپیش اس سے متعلق بھی موثر اقدامات کئے جائیںگے۔تمام ججز اعلان مری کے مطابق بحال ہوں گے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کابینہ میں واپس آ جائے حکمران اتحاد نے واضح کیاہے کہ عوامی مینڈیٹ کاتقاضا ہے کہ حقیقی جمہوریت اور حقیقی پارلیمانی نظام کی بحالی کیلئے سترہویں ترمیم سمیت جمہوریت کے منافی تمام اقدامات کو ختم کیاجائے گا۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ فاٹا کے حوالے سے آپریشن کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیاجائے گا۔اس موقع پر میاں محمد نواز شریف نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ مکمل طور پر مشترکہ اعلامیہ سے متفق ہے تین دنوں تک مفید گفتگو رہی اتحادی جماعتوں کے مشکور ہیں مشترکہ اعلامیہ بنایا گیا ہے آج تاریخی دن ہے مشترکہ اعلامیہ کے ایک ایک حرف سے متفق ہوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اس کے کارکنان اور ہمارے حمایتی اس سے متفق ہیں اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے سینٹ میں پارلیمانی لیڈر حاجی عدیل خان ، جمعیت العلماءاسلام (ف) کی نمائندگی کرتے ہوئے وفاقی وزیر رحمت اللہ کاکڑ ، فاٹا کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی نور الحق قادری نے مشترکہ اعلامیہ کی حمایت اور توثیق کا اعلان کیا۔پرویز مشرف غیر آئینی صدر ہیں سندھ ہائی کورٹ کے معزول ججز کے حوالے سے نوٹیفکیشن کے بارے میں مواخذے کا عمل چند دنوں میں شروع ہو جائے گامشاورت سے مشترکہ اعلامیہ تیار کیاگیاہے ۔ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہاکہ جمہوریت اتنی کمزور نہیں کہ کوئی اٹھاون ٹو بی استعمال کرسکے انہوںنے کہاکہ ایسا اقدام کرنے والے کو پاکستان سے محبت نہیں ہوگی یہ اس کا آخری اقدام ہو گا اس حوالے سے صلاح مشورے سے حکمت عملی طے کریں گے مواخذے کی کامیابی کے بارے میں نوے فیصد امید ہے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو اور عوام کیلئے جرات مندی سیاسی ارادے اور ہمت کا ثبوت دیں ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہاکہ 80ءاور 90ءکی دہائی نہیں ہے کہ اٹھاون ٹو بی استعمال ہو سکے ۔ پاکستان بدل چکاہے ۔آزاد عدلیہ آنے پر اس نظام کا تحفظ کرے گی انہوں نے کہاکہ قوم اٹھاون ٹی بی کوتسلیم نہیں کریں گے ملک مارشل لاء نہ اٹھاون ٹو بی نہ کسی طالع آزما کی طالع آزمائی کامتحمل ہو سکتا ہے اب وہ وقت نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیا جائے گا اس زخم کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا اور نہ ملک مزید اس قسم کے زخم کو برداشت کر سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہاکہ (جمعہ تک ) آج وفاقی کابینہ میں واپسی کافیصلہ کرلیں گے حکمران اتحاد چٹان کی کھڑا ہے آصف علی زرداری نے کہاکہ جمہوریت اور میڈیا کی طاقت کی وجہ سے یہ اقدام کرر ہے ہیں صدر کا مواخذہ معمول کی بات ہے جمہوری حق ہے عوام کایہ جمہوری حق ہے کہ وہ ایوان صدر اور جمہوریت کو مکمل کریں ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ اٹھارہ فروری کو جہاں کھڑے تھے اسی موقف پر قائم ہیں ۔مواخذہ چند دنوں میں شروع ہو جائے گا ہر صوبائی اسمبلی پرویز مشرف کے غیر آئینی صدارت کو چیلنج کرے گی یہ معاملہ صوبائی اسمبلیوں سے شروع ہو کر قومی اسمبلی میں آ جائے گا چند دنوں کی بات ہے ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہاکہ پرویز مشرف کے مواخذے کے بعد آئندہ کے صدر کے بارے میں حکمران اتحاد مشاورت سے طے کرے گا تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لیں گے آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ این آر او سیاسی دستاویز ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ ہمارے پاس ووٹ ، ہمت اور سیاسی ارادہ موجود ہے اور ہم مواخذے میں کامیاب ہو جائیں گے ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہاکہ پرویز مشرف کا مواخذہ ہمارا داخلی معاملہ ہے اس میں کسی بیرونی مداخلت کو تسلیم نہیں کرتے۔آئین کی شق 47 کے مطابق صدر کا مواخذہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں کیا جاسکتا ہے اور اس کے لیے پارلیمنٹ کی دوتہائی اکثریت لازمی ہے ۔قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پارٹی پوزیشنوں پر نظر ڈالی جائے تو حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کے پاس ارکان کی مطلوبہ تعداد موجود ہے۔قومی اسمبلی کا ایوان تین سو بیالیس ارکان پر مشتمل ہے جبکہ سینیٹ کے ارکان کی تعداد ایک سو ہے ۔اس طرح چارسو بیالیس کے مشترکہ ایوان میں صدر کے مواخذے کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی دو سوپچانوئے ووٹ درکار ہوں گے۔حکمراں اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی کے اس وقت قومی اسمبلی میں ایک سو چوبیس ،مسلم لیگ نون کے اکیانوے ،عوامی نیشنل پارٹی کے تیرہ اور ایم ایم اے کے سات ارکان موجود ہیں۔اگر فاٹا کے ایون میں موجود تمام دس آزاد ایم این ایز بھی حکومت کا ساتھ دیں تو یہ تعداد دوسو چھالیس بنتی ہے۔سینیٹ میں ایم ایم اے کے اٹھارہ ،پیپلزپارٹی کے گیارہ ،مسلم لیگ ن کے چار ،عوامی نیشنل پارٹی کے دو ،پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے تین اور بی این پی عوامی،بی این پی مینگل اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک ایک جبکہ فاٹا کے آٹھ سینیٹرز ہیں۔اس طرح سینیٹ میں حکمراں اتحاد کوانچاس ارکان کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد دوسوپچانوے بنتی ہے اور اتنی ہی تعداد درکارہے۔اس صورت حال میں فاٹا کے اٹھارہ ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے کیونکہ چند ووٹ صدر کا مواخذہ کامیاب یا ناکام بناسکتے ہیں تاہم کئی برسوں سے قبائلی علاقوں میں جاری آپر یشن کے باعث ان ارکان کا صدر پرویز مشرف کی حمایت کرنا مشکل دکھائی دیتاہے۔فاٹا ارکان کے بعد اگر صدارتی کیمپ کی نگائیں کسی پرٹہرسکتی ہیں تو وہ مولانافضل الرحمن ہیں۔جے یو آئی کے ایم این ایز کی تعداد سات ہے جبکہ ایم ایم اے کے اٹھارہ سینیٹرز میں بھی جے یوآئی کے ارکان اکثریت میں ہیں۔اگر جے یوآئی کے ارکان قومی اسمبلی ہی میں مواخذہ میں صدر پرویز مشرف کے حق میں ووٹ دیں یا پھر کسی وجہ سے اس سارے عمل کا بائیکاٹ بھی کردیں تو صدر پرویز مشرف کی صدارت بچ سکتی ہے۔حکمران اتحاد کا مشرف کے خلاف مواخذے کا عزم اگرچہ ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن یہ مواخذہ پا یہ تکمیل تک پہنچنے میں کتنا وقت لے گا اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاتا لہذا عوام کو زیادہ خوش ہو نے کی ضرورت نہیں کیونکہ سیاسی منا فقت کے دور میں اس طرح کی باتیں عوام گزشتہ چھ ما ہ سے سن رہے ہیں لہذا جب تک مشرف کے خلاف عملی طور پر مواخذہ ہو نہیں جا تا ہم کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ اس ضمن میں ججز کی بحالی سے پہلے حکمرانوں کا مشرف کے مواخذے کا انتخاب بھی عقل والوں کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے؟ کہ حکمران اتحاد ایک ایسا محاذ کھو لنا چا ہتا ہے جس میں کم از کم اسے مزید ایک سال کا وقت مل جا ئے۔ مواخذہ جیسے ایشو پر عوام ا ور میڈیا کی تو جہ لگا کر با قی ما ندہ ایشو کو زمین دوز کر دیا جا ئے۔حکمران اتحاد کا مواخذہ کے حوالے سے یہ اقدام ایک لحاظ سے ٹھیک بھی ہے کہ سب سے پہلے برائی کی جڑ کا خاتمہ کر نا چا ہیے لیکن عوام کاسیا سی منافقت کے عدم اعتماد کی وجہ سے اپنے لیڈروں سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ جبکہ صدر پرویز مشرف نے مواخذے سے بچاو کیلئے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور آئینی ماہر شریف الدین پیرزادہ سے تفصیلی مشاورت کی ہے اوراپنا دورہ چین بھی منسوخ کر دیاہے اطلاعات کے مطابق صدر نے آئینی ماہر شریف الدین پیرزادہ سے صدارتی کیمپ آفس میں د وگھنٹے تک مشاورت کی ہے اور مواخذے سے بچاو کیلئے تمام امورپر بات چیت کی ہے اس کے علاوہ صدر نے ٹیلی فون پر چوہدری شجاعت حسین ، شیخ رشید احمد اور آفتاب شیر پاوسے رابطہ کیاہے اور مواخدے سے بچاو کے بارے میں صلاح مشورہ کیاہے اس کے علاوہ صدر نے پیر پگاڑا سے بھی رابطہ کر کے ان سے مواخذے سے بچاوکیلئے تعاون طلب کیا ہے بعض ذرائع یہ بھی خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ صدر مواخدے سے بچاو کیلئے کوئی انتہائی اہم اقدام بھی اٹھا سکتے ہیں۔ پرویز مشرف نے اٹھاون ٹو بی استعمال کرنے کی کوشش کی تو تمام جمہوری قوتیں اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں حکمران اتحاد کے فیصلوں سے جمہور ی عمل میں پیش رفت ہو گی اور یہ مضبوط ہوگا ۔ حکمران اتحاد ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی چاہتا ہے حکمران اتحاد کے اقدامات سے ملک میں یکجہتی کو فروغ حاصل ہوگا آئین کی بالادستی کے حوالے سے اہداف کے حصول سے یقیناً غیر جمہوری عناصر کو مایوس ہو گی حکمران اتحادمل کر ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو ملک میں جمہوری عمل کو آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ ملک کسی ڈکٹیٹر کی چراگاہ نہیں ہے عوام کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں جمہوری پاکستان معرض وجود میں آرہا ہے۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment