International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, August 6, 2008

ہند ۔ امریکہ جوہری معاہدہ خطرے میں۔




بھارت مےں جوہری مواد اور ٹےکنالوجی کی غےر قانونی نقل وحمل روکنے پر مامور ادارے کے اہلکاروں کو جوہری مواد اور ٹےکنالوجی کی چوری کے کے انکشاف کے بعد انہےں حراست مےں لے لےا ہے ۔جوہری ٹےکنالوجی کی چوری مےں ملوث مہش وردےو سنگھ نےٹ ورک کے ارکان کا تعلق بھارتی رےاست بہار کے شہر سےال اور مغربی بنگال کے شہر بےرےم سے ہے ۔بھارت مےں جوہری ٹےکنالوجی چوری کروانے والے گروہ کے پکڑے جانے سے پوری دنےا خطرے مےں پڑ گئی ہے ۔جبکہ اِس بات کو نظر انداز نہےں کےا جا سکتا کہ بھارت اےسے ملکوں کو جوہری ٹےکنالوجی فروخت کر رہا ہے جو امرےکہ مخالف ہےں ۔اِس بات کا ندازہ ےوں لگاےا جا سکتا ہے کہ اےٹمی ٹےکنالوجی کی چوری مےں ملوث افراد کو بھارتی حکومت کی مکمل حمائےت حاصل ہے اور وہ صرف دنےا کو دکھانا چاہتے ہےں کہ چوری مےں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے۔اِس انکشاف کے بعد ہندوستان اور امرےکہ کے درمےان مجوزہ جوہری معاہدہ خطرے مےں پڑ گےا ہے کےونکہ ہندوستان کی اےٹمی ٹےکنالوجی کی منتقلی (مبےنہ طور پر چوری) کا سب سے زےادہ نقصان امرےکہ کو ہو گا ۔اسکی سب سے بڑی وجہ ےہ ہے کہ دنےا کے بےشتر ممالک امرےکہ کی جنگی پالےسےوں کی وجہ سے اسکے خلاف ہےں اور وہ بھارت کی جانب سے مہےا کی جانے والی اےٹمی ٹےکنالوجی کو بالآخر امرےکہ کے خلاف بھی استعمال کر سکتے ہےں۔امرےکہ ےہ تو جانتا ہے کہ بھارتی خفےہ اےجنسی ”را“ کے افغان طالبان کے ساتھ مکمل رابطے ہےں ۔کہےں ےہ نہ ہو کہ امرےکہ اسامہ کی تلاش کے چکر مےں بھارت سے ہاتھ لگوا بےٹھے کےونکہ ےہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ بھارت کے مبےنہ چور وں نے طالبان کو اےٹمی مواد فروخت کر دےا ہو ۔دوسری جانب بھارتی جنتا پارٹی اور دےگر بائےں بازو کی جماعتوں کو ےہ بات زہن نشےن کرنا ہو گی کہ حکومتی جماعت اپنی پارٹی کو مظبوط کرنے کے لئے اےٹمی ٹےکنالوجی فروخت کرکے اچھا خاصا سرماےہ کما رہی ہے اس لئے بی جے پی اور بائےں بازو کی جماعتوں کو چاہئے کہ اِس اےشو کو ےہاں ختم نہ ہونے دےں اور عوام کو سڑکوں پر لائےں تاکہ اےٹمی ٹےکنالوجی فروخت کرنے والی حکومت کو نصےحت ہو سکے۔ اےٹمی مواد کی چوری کے انکشاف کے بعد ہندوستان اور امرےکہ کا مجوزہ جوہری معاہدہ ناممکن ہو گےا ہے لےکن قارئےن کو اس مجوزہ معاہدے کی تارےخ اور اہم نکات کے بارے مےں آگاہی ضروری سمجھتا ہوں ۔ہندوستان اور امرےکہ کے درمےان مجوزہ جوہری معاہدہ کی تارےخ کچھ اس طرح سے ہے کہ جولائی 2005ءمےں ہندوستانی وزےر اعظم منموہن سنگھ اور امرےکی صدر جارج ڈبلےو بُش دونوں ملکوں کے درمےان جوہری معاہدے پر رضامند ہوئے ،مارچ 2006ءمےں امرےکی صدر جارج ڈبلےو بُش نے ہندوستان کا تےن روزہ دورہ کےا اس دورے کے دوران ہندوستان نے سولےن اور فوجی استعمال کے جوہری ری اےکٹروں کوالگ الگ کرنے کا معاہدہ کےا ،دسمبر 2006ءمےں امرےکی پارلےمان نے سمجھوتے کی توثےق کی جوہری معاہدے کو حتمی شکل دےنے کے لئے پےنتالےس ارکان پر مشتمل ےورےنےم سپلائر گروپ کے ممالک، آئی اے ای اے اور امرےکی پارلےمان کی منظوری کو ضروری قرار دےا گےا۔جولائی 2007ءکو امرےکہ اور ہندوستان نے اےک ماہ کی طوےل بات چےت کے بعد سمجھوتے کو حتمی شکل دےنے کا اعلان کےا ۔اگست 2007ءمےں ہندوستان اور امرےکہ کے درمےان ہونے والے سمجھوتے کی تفصےل کو دونوں ملکوں مےں اےک ساتھ جاری کےا گےا ۔12اکتوبر 2007ءکو ہندوستانی وزےر اعظم نے جوہری معاہدے کے برعکس بےان مےں کہا کہ ” اگر جوہری معاہدہ نہےں ہوتا تو زندگی ےہےں ختم نہےں ہو جاتی ۔دسمبر 2008ءمےں بائےں بازو کی جماعتوں نے زور دےا کہ بھارتی حکومت آئی ای اے ای سے بات چےت کرنا بند کردے ۔فروری 2008ءمےں امرےکہ نے ہندوستان سے کہا کہ وہ صدر جارج ڈبلےو بش کی صدرات کی مدت کے ختم ہونے سے قبل جوہری معاہدے کو حتمی شکل دے دےں کےونکہ امرےکہ مےں نئی حکومت کے آنے کے بعد معاہدے پر از سرِ نو بات چےت کرنی پڑے گی ۔ےکم جولائی 2008ء بائےں بازو کی اےک اہم جماعت مارکسی کےمونسٹ پارٹی نے کہا کہ وہ ہند امرےکہ جوہری معاہدے پر متحدہ ترقی پسند اتحاد سے حمائےت واپس لےنے پر غور کر رہی ہے ۔8جولائی 2008ءمرکز مےں مخلوط ترقی پسند اتحادی ےعنی ےو پی اے کے اتحادی بائےں بازو نے حمائےت واپسی کا اعلان کےا ۔ےہ تو تھے جوہری معاہدے کے نشےب و فراز اور اب قارئےن کو اس معاہدے کے اہم نکات کے بارے مےں بھی بتاتا چلوں۔معاہدے کے اہم نکات درج زےل تھے۔:جوہری توانائی کی جدےد ترےن تحقےق و ترقی مےں اشتراک:جوہری توانائی سے متعلق حفاظتی امور مےں تعاون : دونوں ممالک کے جوہری سائنس دان باہمی تحقےق ،سےمےنار اور مےٹنگوں کے لئے اےک دوسرے کے ملک جا سکےں گے ۔جوہری رےکٹروں کے سلسلے مےں مکمل تعاون کرنا اور دونوں ملکوں اور منظور شدہ افراد کے درمےان صنعتی سطح پر جوہری اےندہن اور جوہری ٹےکنالوجی کا تبادلہ :ہندوستان اپنے ری اےکٹروں کے کام کرنے کی عمر تک اےندھن کی سپلائی برقرار رکھنے کے لئے اےندھن کا زخےرہ کر سکے گا ۔:ماحولےات،موسمی تبدےلےوں ،صنعت اور زراعت سمےت نےوکلئےر سائنس مےں اےڈوانس تحقےق مےں اشتراک :جوہری سازو سامان کی سپلائی :منتقل کئے جانے والے اےندھن اور تمام جوہری سازو سامان اور اس سے پےدا ہونے والے اضافی مادے عالمی جوہری جوہری ادارے آئی اے ای اے کی نگرانی مےںرہےں گے۔:ہندوستان کے سبھی سول جوہری ری اےکٹرز آئی اے ای اے کے معائنے کے دائرے مےں آئےں گے ۔: معاہدہ ٹوٹنے کی صورت مےں معاہدے کے تحت جو بھی جوہری سازو سامان، اےندہن اور غےر جوہری سامان منتقل کئے گئے وہ واپس کرنے ہونگے۔: غےر معمول صورتحال مےں ےہ معاہدہ باہمی صلاح مشورے کے بعد معطل کےا جائے گا ۔ےہ معاہدہ چالےس برس کے لئے ہو گا اسکے بعد ےہ مزےد دس دس برس کے لئے بڑھاےا جا سکتا ہے ۔دونوں فرےق چھ مہےنے کے نوٹس پر چالےس برس بعد کسی وقت بھی معاہدہ ختم کر سکتے ہےں ۔ےہ تھے معاہدے کے اہم نکات ۔اب سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ کےا ” آئی اے ای اے“اس بات پر غور کرتی ہے کہ بھارتی اےٹمی ٹےکنالوجی منتقل ہوتی رہی ہے اور اگر ”آئی اے ای اے “ دونوں ملکوں کو اس معاہدے کی اجازت دے دےتے ہےں تو کےا بھارت جوہری ٹےکنالوجی دوسرے ممالک مےں منتقل تو نہےں کر گا۔” آئی اے ای اے“ کو ےہ بات زہن مےں رکھنی چاہئے کہ ہندوستان مےں حکومتی جماعت کے ساتھ ساتھ دےگر جماعتےں بھی اےسی ہےں جو ہندوستان کی خطرناک اےٹمی ٹےکنالوجی دےگر ممالک کو فروخت کر سکتی ہےں اسلئے اس معاہدے کی بالکل اجازت نہےں ہونی چاہئے بلکہ مےں تو ےہ کہوں گا کہامرےکہ بھی اتنا بڑا رسک نہ لے۔ہندوستان سے ٹےکنالوجی منتقل کرنے والے اگر تو ےہ جانتے تھے کہ ہندوستان مےں دو ری اےکٹرز خالصتاً فوجی مقاصد کے لئے ہےں ۔ےہ ٹرامبے مےں بھابھا اٹامک رےسرچ سنٹر مےں واقع ہےں۔اِن مےں سائرس چالےس مےگا واٹ اور دھروا سو مےگا واٹ صلاحےت کا ہے ۔ےہاں سے نکلنے والا پلوٹونےم صرف جوہری بم بنانے کے لئے مخصوص ہے وہ اگر ےہ سب کچھ جانتے ہےں تو مےں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے جوہری بم بنانے والی ٹےکنالوجی امرےکہ کے دشمن ممالک کو فروخت کی ہو گی۔اے پی ایس


No comments: