International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, August 7, 2008

ڈاکٹر عافیہ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا

نیو یارک ۔ پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ کے مقدمے کی سماعت کے دوران امریکی جج نے کہا کہ اتنی جلدی تو آدمی (نیویارک میں) برانکس سے مینہٹن نہیں پہنچ پاتا جتنے وقت میں آپ لوگ مدعاعلیہ کو افغانستان سے نیویارک لے آئے ہیں۔گزشتہ پانچ برسوں سے لاپتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو منگل کی شام نیویارک کی عدالت یونائٹیڈ سٹیٹس کورٹ سدرن ڈسٹرکٹ میں پیش کیاگیا۔ عافیہ صدیقی کی کسی امریکی عدالت میں یہ پہلی پیشی تھی۔ اس موقع پر ایک عدالتی اہلکار نے عدالت میں لوگوں کے داخلے کو منظم کرنے کے لیے اعلان کیا کہ’ سب سے پہلے سکیچ آرٹسٹس، پھر فیملیاں، پھر میڈیا کے لوگ اور پھر قانون نافذ کرنے والے۔عدالتی کارروائی شروع ہوئی۔ مدعاعلیان آتے رہے، پیش کیے جاتے رہے۔ خواتین آرٹسٹ مدعاعلیان کے سکیچ بنانے کے موقع پر ان کو دور بین اٹھا کر دیکھتی رہیں۔اتنے میں ایک خاتون عدالت میں داخل ہوتی ہیں جن کے ہاتھ میں فائل تھی جس پر عافیہ صدیقی لکھا ہوا تھا۔اسی دوران ایف بی آئی اور پولیس والے عافیہ صدیقی کو کمرہ عدالت میں لائے۔عافیہ صدیقی اپنی وکیل اور وفاقی ایجنٹوں کے سہارے سے چل رہی تھیں۔ایسے نظر آ رہا تھا کہ ایک ہڈیوں کی گٹھری بنی عورت، لاغر اور کمزور اس کی دونوں وکیل اسے سہارا دیکر کرسی پر بٹھانے لگے۔ سر پر سرخ رنگ کا سکارف یا حجاب، نیلے رنگ کی قمیص اور لمبے سکرٹ میں ملبوس عافیہ صدیقی کو کرسی پر بیٹھنے میں کچھ منٹ لگ گئے۔ ان کی وکیل نے کہا کہ ان کی مؤکل پاکستانی قونصلر سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ہیں۔جب عدالت کی کارروآئی شروع ہوتی ہے۔ تو جج نے کہا’عافیہ صدیقی کھڑی ہوجائیں۔عافیہ صدیقی کی وکیل الزبتھ فنک نے عدالت کو بتایاکہ ڈاکٹر عافیہ کھڑی نہیں ہوسکتیں۔ وہ زخمی ہیں۔ انہی گولی کا زخم ہے۔ عافیہ صدیقی کی دوسری وکیل وکیل اییلین وٹفیلڈ شارپ بھی موجود تھی۔مترجم مہیا ہونے کے باوجود عافیہ صدیقی نے جج کے انگریزی زبان میں سوالوں کے انگریزی زبان میں ہی جوابات دیتی رہیں۔جج نے عافیہ صدیقی سے پوچھا ’کیا تم جانتی ہو کہ حکومتِ امریکہ نے ایک کرمنل کمپلینٹ میں تم پر کیا الزام لگایا ہے۔’یس‘ عافیہ صدیقی نے نخیف آواز میں جواب دیا۔جج نے ایف بی آئی کی طرف سے عافیہ صدیقی کیخلاف داخل کردہ فوجداری مقدمے کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں۔ان تفصیلات کے مطابق عافیہ صدیقی نے چودہ جولائی 2008ء کو افغانستان میں بتائی گئی گرفتاری سے لے کر امریکی اہلکاروں پر تین اگست دو ہزار آٹھ کو ایم فور رائفل سے تھانے کے اندر حملے اور پھر زخمی اور گرفتار ہونے واقعات بیان کیے۔ عدالت نے عافیہ صدیقی کے وکلاء کی طرف سے اٹھائے جانیوالے سوالوں کا جواب سرکار ی استغاثہ کی طرف سے مقدمے کی سماعت تک مؤخر رکھاگیا۔عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی حکومت کی طرف سے داخل کردہ کرمنل کمپلینٹ میں کہا گیا ہے کہ انہیں تین اگست کو افغانستان میں امریکی اہلکاروں پر حملہ کرنے کے اور ان کی طرف سے جوابی فائرنگ میں زخمی ہونے کے بعد گرفتار ہوئی اور چار اگست کو انہیں سیدھا نیویارک لایا گیا۔ عافیہ پر حکومت امریکہ کے سول و فوجی اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملہ کرنے کا ا لزام لگایا ہے۔عافیہ صدیقی کی وکیل الزبیتھ فنک نے عدالت سے سوال کیا کہ کیا عدالت سمجھتی ہے یہ نوے پاونڈ کی عورت ایم فور رائفل امریکی فوجی کے بوٹوں کے بیچ سے اٹھا کر ان پر فائر کر سکتی ہے۔ اور یہ بڑی مضحکہ خیز تہمت ہے۔ وکیل نے کہا کہ عافیہ صدیقی کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہیوہ سب کچھ سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے۔وکیل الزبتھ نے جج سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس ایجنٹ نے بھی انہی باتوں کی بنیاد پر مدعاعیلہ کیخلاف نیویارک میں بیٹھ کر کیس بنایا ہے۔ پانچ ہزار میلوں پرے جو افغانستان میں ہے اسے بیٹھ کر اس ایجنٹ نے نیویارک میں کیسے دیکھا؟ وکیل الزبیتھ نے کہا کہ انہوں نیمنگل کے روز پہلی بار عافیہ صدیقی کو دیکھا ہے اور عافیہ صدیقی اتنے برسوں بعد ’غیر حکومتی آدمی سے پہلی بار مل رہی ہے اور یہ سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔بہرحال وکیل الزبتھ نے کہا کہ بتایا جاتا ہے کہ خالد شیخ محمد نے اپنی تفتیش کے دوران عافیہ صدیقی کا نام لیا تھا جبکہ اس سے قبل بائیو ٹیرزم یا حیاتیاتی دہشتگردی میں اس کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ ساوتھ ڈسٹرکٹ کے جج ایلس نے عافیہ کیخلاف گواہیاں لانے کیلیے امریکی حکومت کو دس دن کی مہلت دیتے ہوئے مدعاعیلہ پر واضح کیا کہ انیس اگست کو اس مقدمے کی ابتدائی سماعت ہوگی۔ عدالت گیارہ اگست کو عافیہ صدیقی کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کرے گی۔ عدالت نے وکیل کی درخواست پر عافیہ صدیقی کا علاج کروانے کا حکم دیا۔ عافیہ صدیقی کی وکیل الزبتھ فنک نے عدالت کو بتایا کہ عافیہ صدیقی کی کمر پر گولی کا زخم ہے اور وہ نہایت ہی تکلیف میں ہے۔ اس موقع پر عافیہ صدیقی کی وکیل نے میڈیا کو کہ پاکستانی حکومت نے امریکی محکمہ خارجہ سے عافیہ صدیقی کو آزاد کرنے اور اس سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ عدالت کی عمارت کے باہر عافیہ کی دونوں وکیلوں نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کہا کہ عافیہ نے اپنے اوپر لگائے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔

No comments: