
’ دوا کے استعمال سے ورزش کر ے والے افراد کی کارکردگی بہتر ہوگی‘ امریکی ساءسدا ایک ایسی دوا کی تیاری کے قریب پہ چ گئے ہیں جس کے ستعمال سے جسما ی ورزش ہ کر ے والے افراد بھی وزرش کے کچھ فوائد سے بہرہ م د ہو سکیں گے۔جر ل سیل کے مطابق امریکی محققی کے پاس اس وقت دو ایسی ادویات یا ’فٹ س پلز‘ ہیں ج کے استعمال سے ممک ہ طور پر ہ صرف پٹھوں کی مضبوطی اور سٹیم ا میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ یہ گولی چربی جلا ے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ا گولیوں کے تجربات کے لیے چوہوں کو استعمال کیا گیا اور تجربات کے دورا یہ دیکھ ے میں آیا کہ چوہوں کی دوڑ ے کی استعداد میں چوالیس فیصد اضافہ ہوا اور ا ہی تجربات کی ب یاد پر کہا جا سکتا ہے کہ کسی تربیت کے بغیر ا سا کے دوڑ ے کی صلاحیت میں بھی ات ا اضافہ ممک ہے۔ ا گولیوں کی تیاری کو مت ازعہ ما ا جا رہا ہے کیو کہ خیال ہے کہ کھیلوں کی د یا میں ا کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس تحقیق میں شامل مرکزی ساءسدا کیلیفور یا کے سالک ا سٹیٹیوٹ کے پروفیسر رو لڈ ایو ز کا کہ ا ہے کہ ا ہوں ے ایک ایسا ٹیسٹ بھی ب ایا ہے جس کے تحت کھلاڑیوں کے خو اور پیشاب کے مو وں میں اس دوا کا پتہ چل جائے گا۔ پروفیسر رو لڈ ایو ز کا یہ بھی کہ ا ہے کہ ا دواو¿ں کو پٹھے خراب کر ے والی بیماریوں کے علاج میں یا پھر ذیا بیطس جیسی بیماریوں کا شکار افراد میں ورزش کے فوائد میں بہتری لا ے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ دو ادویات ج ہیں AICAR اور GW1516 کے اموں سے ش اخت کیا جاتا ہے، ممک ہ طور پر ایک ایسے جی پر اثر ا داز ہوتی ہیں جو پٹھوں کی افزائش اور ا کے کام کر ے کی صلاحیت ک ٹرول کرتا ہے۔’PPAR-Delta‘ امی یہ جی دیگر کئی جی ز کی کارگزاری ک ٹرول کر ے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور اسے ک ٹرول کر ے سے جسم کے ظام پر واضح اثر پر سکتا ہے۔ تجربات کے دورا چوہوں میں بھی اس جی میں تبدیلی کے تیجے میں پٹھوں کی افزائش سام ے آئی۔ پروفیسر رو لڈ ایو ز کے مطابق یقی اً ایک د ایسا آئے گا جب یہ دو وں ادویات ا سا ی استعمال میں آ سکیں گی۔ ا ہوں ے کہا کہ وہ لوگ جو باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں ا ہیں یہ دوا کارکردگی بڑھا ے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور وہ لوگ جو کہ ورزش ہیں کرتے وہ اس دوا کے استعمال سے ورزش کے کچھ فوائد تو حاصل کر ہی سکتے ہیں۔ امریکی پروفیسر بیری پاپک ے کہا تھا کہ پوری د یا کے امیر اور غریب ممالک کے لوگوں میں وز کو بڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔امریکی پروفیسر ے ا ٹر یش ل ایسوسی ایش آف اگریکلچرل اک امکس کو بتایا کہ کم وز والے لوگ د یا میں اسی کروڑ ہیں جبکہ موٹے لوگوں کی تعداد ایک ارب ہو گئی ہے۔پروفیسر بیری ےآسٹریلیا کی کا فر س کو بتایا کہ اس کی وجہ خوراک میں تبدیلی اور ورزش ہ کر ا ہے۔یو یورسٹی آف ارتھ کیرولی ا کے پروفیسر بیری ے یہ بھی کہا کہ ا سا وں کے ا فرادی وز بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ بھوک ات ی تیزی سے کم ہیں ہو رہی ہے۔پروفیسر ے کا فر س کو یہ بھی بتایا کہ بہت ملکوں میں موٹاپاایک بیماری ہیں رہا اور کم ملک اس کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ا ہوں ے یہ بھی کہا کہ موٹاپے سے پیدا ہو ے والی بیماریاں اب صرف شہروں کےامیروں میں ہیں رہیں بلکہ اب یہ دیہی علاقوں کے غریبوں میں بھی آ گئی ہیں۔پروفیسر بیری ے کہا کہ اس کی مثال چی ہے۔ جس کے لوگ سیریل کھا ے کی بجائے ای یمل پراڈکٹس کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اور وہاں آٹومیٹک ٹرا سپورٹ اور ٹی وی دیکھ ےمیں بھی اضافہ ہوا ہے۔پروفیسر ے حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔ اس سلسلے میں وہ کھا ے کی چیزوں کی قیمتوں میں ردوبدل کر کے لوگوں کو صحت م د کھا ے کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر سوفٹ ڈر ک کی ہر کیلوری کے حساب سے اس کی قیمت وصول کی جائے تو لوگ ا کا استعمال کم کر دیں گے۔اگر پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں کم کر دی جائیں تو لوگ ا کا استعمال زیادہ کر دیں گے۔ اس طرح صحت افزا خوراک میں اضافہ ممک ہو گا۔ کم کیلوریز والی خوراک کے استعمال کو وز کم کر ے کے لیے ایک آسا طریقہ سمجھا جاتا ہے ایک سروے کے مطابق ڈائٹ گ کر ے والے لوگ اب وز کم کر ے کے لیے ورزش کی بجائے خوراک میں موجود کیلوریز گ ے لگے ہیں اور ا ہیں کم سے کم استمال کر کے اپ ا وز کم کر ے کی کوشش کر رہے ہیں۔خوراک میں موجود کیلوریز کی تعداد گ ے کی عادت خواتی میں زیادہ پائی جاتی ہے جیسا کہ پچاس فیصد خواتی اپ ی خوراک میں موجود کیلوریز گ تی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں مردوں کی ایک تہائی تعداد ایسا کرتی ہے۔گلیسو سمیتھ کلاء یوٹریش ل ہیلتھ کیر کے زیر اہتمام سروے میں دو ہزار افراد میں ا سٹھ فیصد افراد یہ جا تے ہیں کہ ورزش صحت کو بہتر ب ا ے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ غذائی ماہری کا کہ ا ہے کم کیلوریز والی خوراک کی زیادہ اقسام کی دستیابی کے باعث لوگ ورزش کی بجائے ایسی خوراک کھا ے کو ترجیح دیتے ہیں جس میں کم سے کم کیلوریز ہوں۔گلیسو سمیتھ کلاء کے کھیلوں کے ماہر جا بریور کا کہ ا ہے ’لوگوں کا جم ازیم جا ے کی بجائے کم کیلوریز والی خوراک کا استعمال کر ا بہت پریشا ک ہے‘۔’کم کیلوریز والی خوراک ورزش کا متبادل کسی صورت میں بھی ہیں ہے۔ ایک فعال ز دگی گزار ے کے بہت زیادہ فائدے ہیں‘۔اسی سلسلے میں گلیسو سمیتھ کلاء کے غذائی ماہر گراہم یعل کا کہ ا ہے کہ کم کیلوریز والی خوراک ب ا ے والوں پر اس خوراک کو استعمال کر ے والوں کی طرف ذمہ داری ہے۔ جیسا کہ وہ ئی ئی قسموں کی کم کیلوریز والی خوراک ب ا رہے ہیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم یہ کوشش کریں کہ صارفی اس بات پر توجہ دیں کہ وہ ہ صرف خوراک لیں بلکہ اس سے مل ے والی توا ائی کا استعمال بھی کریں‘۔ کیلوریز کو ورزش کرکے ختم کر ے کا کوئی متبادل ہیں ہے غذائی تحقیق کی مائر شارلی شو یی کا کہ ا ہے ’ میں تائج سے حیرا ہیں ہوں۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں ج کو جم جا ا بہت مشکل لگتا ہے اس لیے وہ وز کم کر ے کے لیے کم کیلوریز لی ے کو ترجیح دیتے ہیں‘۔ا ہوں ے بتایا کہ حال ہی میں ہو ے والے ایک سروے سے پتا چلا ہے کہ صرف بارہ فیصد افراد جم کے ممبر ہیں۔ا کا کہ ا ہے ’ ہم جم جا ے کو ضروری ہیں سمجھتے لیک جسما ی حرکت زیادہ سے زیادہ ہو ی چاہیے۔ جیسا کہ آپ لفٹ کی بجائے سیڑھیوں کا استعمال کریں اور زیادہ سے زیادہ پیدل چلیں تاکہ پورے د میں آپ کی توا ائی کا زیادہ سے زیادہ خرچ ہو۔ د میں ساٹھ م ٹ کی حرکت ضروری ہے اور یہ مختلف وقفوں میں کی جا سکتی ہے‘۔ساءسدا وں ے موٹاپے پر ایک اہم تحقیق کے دورا پہلی مرتبہ موٹاپے کے ا سا ی ’جی ز‘ سے واضح تعلق کا پتا چلا لیا ہے۔اس تحقیق کے دورا ا ہیں معلوم ہوا کہ لوگوں میں دو طرح کی چک ائی یا فیٹس پائے جاتے ہیں، ج کا تعلق جی ز سے ہوتا ہے ا میں موٹا ہو ے کا ستر فیصد امکا زیادہ ہوتا ہے جب کے دوسری قسم کے لوگوں میں یہ کم ہوتا ہے اورا کا اوسطً وز ، تی کلو کم ہوتا ہے۔برطا یہ میں اوکسفورڈ یو یورسٹی کے میڈیکل سکول میں ہو ا والی اس تحقیق میں چالیس ہزار افراد سے حاصل ہو ا والے ’ڈیٹا‘ کا مشاہدہ کیا گیا۔ساءسدا وں ے اس تحقیق کے بعد یہ تجویز کیا کہ موٹاپا کم کر ے کے لیے ز دگی کے طور طریقے بدل ا بہت ضروری ہوتا ہے لیک بعض لوگوں کو اپ ا وز کم کر ے کے لیے بہت کوشش کر ی پڑتی ہے۔ساءسدا وں کا کہ ا ہے کہ اس تحقیق سے موٹاپے کوسمجھ ے میں مدد ملےگی اور اس سے بچاو کے بہتر طریقے بھی اپ ائے جا سکیں گے۔ج لوگوں میں ’ٹائپ ٹو‘ ذیابیطس پائی جاتی ہے ا میں موٹاپے پر مائل کر ے والے جی ز ہوتے ہیں۔ میڈیکل سکول کے پروفیسر ای ڈریو ہیٹرسلی کی تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کیوں دو مختلف آدمیوں کا وز ایک طرح کی خوراک کھا کر اور ایک ہی طرح کی ورزش کرکے مختلف ہوتا ہے۔ا ہوں ے کہا کہ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کا وز زیادہ ہے تو اس کا تعلق زیادہ کھا ے اور کاہلی سے ہے جس کے آپ قصور وار ہیں۔اس تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس میں کچھ عمل دخل جی ز کا بھی ہوتا ہے۔کیمبرج یو یورسٹی کے کلی کل بائیو کیمسٹری کے ڈپارٹم ٹ کی ڈاکٹر صدف فاروقی ے کہا کہ یہ تحقیق بہت اہم ہے کیوں اس سے پہلی دفعہ موٹاپے اور ا سا ی جی ز کے درمیا تعلق کا پتہ چلا ہے۔مسلسل دباو اور امراض قلب کے درمیا تعلق پایا جاتا ہے ایک ئی تحقیق کے مطابق اعصابی دباو والی ملازمت براہ راست آپ کی صحت پر اثر ا داز ہوتی ہے جس سے امراضِ دل کے امکا ات بڑھ جاتے ہیں۔ امراض قلب کے جریدے یورپی ہارٹ جر ل میں شائع ہو ی والی یہ تحقیق برطا یہ میں کام کر ے والے ایک ہزار سرکاری ملازمی کے طبعی مطالعے پر مب ی ہے۔ پچاس سال سے کم عمر کے ج افراد کا کہ ا تھا کہ ا کا کام ذہ ی دباو والا ہے، تحقیق کے مطابق ا کے دل کے عارضے میں مبتلا ہو ے کے امکا ات عام لوگوں کی سبت تقریباً ستر فیصد زیادہ تھے۔ تحقیق کے مطابق اگرچہ یہ بات عام مشاہدہ میں ہے کہ اعصابی دباو میں آپ ورزش اور اچھی خوراک کا دہیا ہیں رکھ سکتے لیک اس سے اہم بات یہ ہے کہ دباوسے آپ کے جسم میں اہم کیمیائی تبدیلیاں بھی پیدا ہو ا شروع ہو جاتی ہیں۔ ل د میں برطا وی سرکاری دفاتر کے مرکز وائٹ ہال میں کام کر ے والے ملازمی پر کی جا ے والی اس تحقیق کا آغاز ا یس سو ساٹھ کی دہائی میں ہوا تھا اور اس میں ہر سطح کے ملازمی کو شامل کیا گیا، تاہم جہاں تک حالیہ تائج کا تعلق ہے اس کے لیے ملازمی کا مشاہدہ ا یس سو پچاسی سے کیا جا رہا ہے۔ اس دورا ہ صرف ملازمی سے پوچھا جاتا رہا کہ وہ کام کا کت ا دباو محسوس کرتے ہیں بلکہ گاہے بگاہے ا کی دل کی دھڑک ، بلڈ پریشر اور ا کے خو میں ’کارٹیسول‘ امی ہارمو کی مقدار کا جائزہ بھی لیا جاتا رہا۔ واضح رہے کہ کارٹیسوسل وہ ہارمو ہے جو ذہ ی دباو کی صورت میں کتا ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق کر ے والی ٹیم ے خوراک، ورزش کر ے یا ہ کر ے، سگریٹ وشی اور شراب وشی سے متعلق ملازمی کی جوابات کو بھی مد ظر رکھا۔ بارہ برس تک ا ملازمی کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کام کے مسلسل دباو اور امراض قلب کے درمیا تعلق پایا جاتا ہے اور یہ تعلق پچاس برس سے کم کے مردوں اور خواتی میں زیادہ واضح ہےا عوامل کو مد ظر رکھ ے کے بعد اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ مذکورہ ملازمی میں سے کِس قدر کو دل کے امراض لاحق ہوئے، کس قدر کو دل کے دورے پڑے اور ا میں سے کِت ے دل کا دورہ پڑ ے سے ا تقال کر گئے۔ تحقیق کی قیادت کر ے والے ڈاکٹر ترا ی چ ڈولا کا کہ ا تھا کہ ’ بارہ برس تک ا ملازمی کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کام کے مسلسل دباواور امراض قلب کے درمیا تعلق پایا جاتا ہے اور یہ تعلق پچاس برس سے کم کے مردوں اور خواتی میں زیادہ واضح ہے۔‘ پچاس برس سے کم عمر کے ملازمی کے برعکس ریٹائرم ٹ کے قریب کی عمر کے لوگوں میں کام کا دباو کم ہو ے کی وجہ سے امراض قلب کے امکا ات کم پائے گئے۔ ج افراد کا کہ ا تھا کہ ا کی وکریاں ذہ ی دباو والی ہیں، ا کے معاملے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ م اسب مقدار میں سبزیاں اور پھل بھی ہیں کھاتے اور ورزش بھی کم ہی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے تحقیق کر ے والوں کا کہ ا تھا کہ اس سے ا کار ہیں کہ طرز ز دگی اور امراض قلب میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے، لیک اب وہ پراعتماد ہیں کہ ا ہیں کیمیائی تبدیلوں کا بھی علم ہو گیا ہے جو ذہ ی دباو کو بیماری سے جوڑتی ہیں۔ اگرچہ ہر کسی کا کہ ا ہے کہ جسم کے ا در کیمیائی تبدیلیوں اور بیماری میں تعلق ہوتا ہے لیک اس تعلق کو ثابت کر ا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ اس تحقیق کے بعد ماہری کا کہ ا ہے کہ اس قسم کی کیمیائی تبدیلیوں کا طرز ز دگی سے کوئی خاص تعلق ہیں ہے۔ اگرچہ تحقیق میں کم عمر کے ملازمی کے امراض قلب شکار کا شکار ہو ے کے خطرات زیادہ دکھائی دیے، تاہم کسی ملازم کی دفتر میں حیثیت اور امراض کے درمیا کوئی تعلق دیکھ ے میں ہیں آیا تحقیق کر ے والے ماہری کا خیال ہے کہ ذہ ی دباو اعصابی ظام کے اس حصے میں گڑ بڑ پیدا کر دیتا ہے جو دل کو ک ٹرول کرتا ہے، اسے بتاتا ہے کہ اسے کیسے کام کر ا ہے اور جو اسکی دھڑک میں اتار چڑہاو کو ک ٹرول کرتا ہے۔ ج افراد کو ذہ ی دباو کی شکایت تھی ا میں دل کی دھڑک کو ک ٹرول کر ے والے عمل ’ویگل ٹو ‘ کی کمی بھی دیکھ ے میں آئی ہے۔اگرچہ تحقیق میں کم عمر کے ملازمی کے امراض قلب شکار کا شکار ہو ے کے خطرات زیادہ دکھائی دیے، تاہم کسی ملازم کی دفتر میں حیثیت اور امراض کے درمیا کوئی تعلق دیکھ ے میں ہیں آیا۔ ماضی کی تحقیقات میں کہا گیا تھا کہ چلے درجوں میں کام کر ے والے ملازمی کے بیمار ہو ے کے امکا ات زیادہ ہوتے ہیں۔ برٹش ہارٹ سوسائٹی ے تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ہمارے اس علم میں اضافہ ہوا ہے کہ دفر میں ذہ ی دباو سے ہمارے جسم میں کس قسم کی کیمیائی تبدیلیں آ سکتی ہیں۔ تاہم ت ظیم کا کہ ا تھا کہ ذہ ی دباو سے کامیابی سے مٹ ے کے کئی طریقے موجود ہیں، مثلاً خود کو مستعد اور فِٹ رکھ ے سے ذہ ی دباو میں بھی کمی کی جا سکتی ہے جس سے امراض قلب کے امکا ات کم ہو جاتے ہیں۔ورزش کے بعد ہو ے والی تھکاوٹ دراصل پٹھوں کے خلیے سے کلشیم کے رِس ے سے ہوتی ہے۔ ساءسدا ورزش سے تھکاوٹ کو دور کر ے کی دوا تیار کر رہے ہیں جس سے دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو بھی فائدہ ہو گا۔ کولمبیا یو یورسٹی کی ٹیم کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش کے بعد ہو ے والی تھکاوٹ دراصل پٹھوں کے خلیے سے کیلشیم کے رس ے سے ہوتی ہے۔ ا ہوں ے دوا تیار کی ہے جس سے کیلشیم کا رس ا ب د ہو جاتا ہے اور ورزش کے بعد تھکاوٹ ہیں ہوتی۔ اس دوا کے چوہوں پر مثبت تائج سام ے آئے ہیں۔ ا کی یہ تحقیق یش ل اکیڈمی آف سائی سز ے شائع کی ہے۔ اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس دوا سے ہایت کمزوری کی وجوہات کا علاج ہو سکے گا۔ اس سے پہلے یہ سوچا جاتا تھا کہ سخت ورزش کے بعد تھکاوٹ کی وجہ لیکٹک ایسڈ کا پٹھوں پر جمع ہو ا ہے۔ لیک جدید تحقیق کے مطابق پٹھوں کے خلیے سے کیلشیم کے رس ے کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ساءسدا وں کو معلوم ہوا کہ یہ رس ے کا عمل چوہوں میں تی ہفتے کی سخت تیراکی کے بعد اور ا سا وں میں تی د کی سخت سائیکل گ کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں میں یہ رس ے کا عمل مسلسل رہتا ہے اور پٹھوں کو بازیاب ہو ے کا موقع ہیں ملتا اور اس وجہ سے خو اور آکسیج کی کمی سے دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو تھکاوٹ ہوتی ہے اس ٹیم ے زور دیا ہے کہ یہ رس ے کا عمل سخت ورزش کر ے والے ا سا وں اور چوہوں میں پایا گیا ہے۔ جب کہ عام طور پر جسم اس قابل ہوتا ہے کہ وہ خود بخود اس رس ے کے عمل کو درست کر سکے۔ تاہم ا کے مطابق دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں میں یہ رس ے کا عمل مسلسل رہتا ہے اور پٹھوں کو بازیاب ہو ے کا موقع ہیں ملتا۔ اور اس وجہ سے خو اور آکسیج کی کمی سے دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو تھکاوٹ ہوتی ہے۔ اس دوا کو چوہوں پر تی ہفتے استعمال کیا گیا۔ دوا کے بغیر جا ور ورزش کے بعد تھکے ہوئے تھے جب کہ وہ جا ور ج کو یہ دوا دی گئی تھی وہ ورزش کے بعد بھی توا ا تھے۔ اب اس دوا کو دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں پر استعمال کر ے کا م صوبہ ہے۔ایک ئی ساءسی تحقیق کے مطابق ڈائٹِ گ کے ذریعے ا سا وں کے جسم میں موٹاپا بڑھا ے والے خلیے کم ہیں ہوتے ہیں۔سویڈ میں واقع کیرولِ سکا ا سٹیٹیوٹ کے ساءسدا وں کا کہ ا ہے کہ موٹاپا بڑھا ے والے خلیوں کی تعداد بلوغت کے دورا طے پاتی ہے جو کہ بعد میں بھی تبدیل ہیں ہوتی ہے۔ ساءسی جریدے یچر میں شائع ہو ے والی ایک رپورٹ کے مطابق ساءسدا وں ے ایسے لوگوں پر تحقیق کی ج کا وز کافی کم ہوگیا تھا لیک خلیوں کی تعداد میں کوئی کمی ہیں ہوئی۔ اس تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص موٹاپا کم کر ے کے لیے ڈائٹ گ کرے تب بھی ایسے خلیوں کی تعداد کم ہیں ہوگی۔ تاہم برطا یہ میں ایک ماہر صحت ے کہا ہے کہ ت درست رہ ے کے لیے کھا ا اور ورزش کر ا ضروری ہیں۔ حالیہ برسوں میں مغربی ملکوں میں ساءسدا وں ے موٹاپے کے حل کی تلاش میں بہت تحقیق کی ہے۔ اس دورا اڈیپوکائٹ امی ایک خلیے پر توجہ دی گئی جو کہ ہماری کمر اور پیٹ کے موٹاپے کی وجہ ہے۔ تاہم یہ دیکھا گیا ہے کہ جیسے جیسے ہم موٹا ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اڈیپوکائٹ امی خلیہ بھی وسیع ہوتا جاتا ہے۔ لیک ساءسدا اس تیجے پر ہیں پہ چ سکے کہ موٹاپے کی وجہ صرف اسی خلیے کی وجہ سے ہے یا ساتھ ہی اس خلیہ کی تعداد میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ لیک اگر اس خلیے کی تعداد میں بھی تبدیلی آتی ہے تو شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ وز گھٹا ے سے اڈیپوکائٹ کی تعداد میں کمی کی جاسکتی ہے۔ برطا یہ میں یو یورسٹی آف لیورپل کے ڈاکٹر پال ٹریہر ے کہا کہ موٹاپا کے بارے میں اس تحقیق سے ایک ب یاد فراہم ہوئی ہے۔ا ہوں ے کہا کہ اچھا ہوگا اگر ہم ا خلیوں کی تعداد گھٹاکر موٹاپا کم کرسکیں لیک اس کوشش میں اور بھی طریقِ کار ہیں، جیسے ڈائٹ گ اور ورزش۔ اے پی ایس
No comments:
Post a Comment