International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Friday, August 8, 2008

شیری رحمن کا انکشاف ۔ تحریر: محمد رفیق اے پی ایس





وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان نے انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ (ق) اور دیگر جماعتوں کے اٹھارہ اراکین نے صدر کے مواخذے کے حوالے سے پیپلز پارٹی سے رابطہ کیا ہے جمہوریت کو بچانے کیلئے مواخذے کی تحریک پیش کی جارہی ہے صدر کے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے قرار داد کا مسودہ ہفتہ (آج) صوبائی اسمبلیوں کو بھجوا دیا جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے کل زرداری ہاوس میںصدر کے مواخذے کے حوالے سے قائم ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا قرار داد کا مسودہ تیار کر لیاگیا ہے ا س مقصد کیلئے گزشتہ روز خصوصی طور پر وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کو زرداری ہاوس میں بلایا گیا تھا۔ وزیراطلاعات نے کہاکہ مواخذے کے حوالے سے مطلوبہ تعداد سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہے ہوم ورک کرنے کے بعد اتنے بڑے اقدام کا اعلان کیا ہے اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ ہم سے رابطہ کر رہے ہیں ان میں مسلم لیگ (ق) کے ارکان بھی شامل ہیں انہوں نے کہاکہ آزاد اراکین نے بھی واضح لکیر کھینچ دی ہے کہ وہ لکیر کے اسطرف ہونا چاہتے ہیں مواخذے کا فیصلہ پارلیمنٹ اور وزیراعظم کے اختیارات کیلئے کیاگیا ہے کیونکہ پارلیمانی نظام میں عوام کے منتخب نمائندے ذمہ دار اور جواب دہ ہوتے ہیں اس لئے ان کے پاس حقوق بھی ہونے چاہیں انہوں نے کہاکہ ہم کسی آمر کی دھمکی میں نہیں آئیں گے ۔اٹھاون ٹو بی استعمال کرنے اور ملک کو غیر مستحکم کرے گا جمہوری اور سیاسی قوتوں کو منظر سے ہٹانے سے ملک و قوم کو فائدہ نہیں ہو گا غیر جمہوری عناصر کی حوصلہ افزائی کر کے آخر یہ کیا کرنا چاہیں گے انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس گیارہ اگست کو ہو گا اجلاس سے قبل حکمران اتحاد کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس ہو گا۔پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا، سینیٹ نے جمعہ کو ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے بدعنوانی اور کرپش کے انسداد کے لیے قائم کرردہ ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) کو ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔یہ قرار داد ایوان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر لطیف کھوسہ نے پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔اس قرار داد پر بحث کرتے ہوئے قائد ایوان میاں رضا ربانی نے کہا کہ نیب کو ختم کرنے کی بات پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور میں شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ جو سابق حکومت نے ملک سے کرپشن کو پاک کرنے کے لیے بنایا تھا، سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ اس ادارے کے ذریعے صرف اور صرف سیاسی مخالفین کا احتساب کرنے اور ان ہی کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ سینیٹر لطیف کھوسہ کی طرف سے قرار داد پیش کیئے جانے سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صفدر عباسی نے ایوان میں ایک تحریک استحقاق پیش کی جس میں انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں ایک عدالت کے باہر نیب کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان سے نامباسب رویہ اختیار کیا جس سے ان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ صفدر عباسی نے کہا کہ ان کے دو رشتہ داروں کو نیب کے اہلکار زبردستی اٹھا کر بھی لے گئے ہیں۔تحریک استحقاق کو بھی ایوان نے منظور کر کے ایوان کی استحقاق کمیٹی کے حوالے کر دیا۔اس تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف کامل علی آغا نے کہا کہ اب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے اپنے ارکان کے ساتھ یہ رویہ کیوں روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا صفدر عباسی کا شمار ان اراکین میں ہوتا ہے جو موجودہ حکومت کی پالیسوں کے حق میں نہیں ہیں۔کامل علی آغا نے کہا موجودہ مشیر داخلہ ہی نے ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورے حکومت میں نواز شریف کے محروم والد کو گرفتار کیا تھا۔ اس سے پہلے سینیٹ نے قومی ائر لائن پی آئی اے کی ٹریڈ یونین پر پابندی کے خاتمے کا بل منظور کر لیا یہ بل محنت وافرادی قوت کے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے پیش کیا تھا اس کے علاوہ لاریڈ یونین کی تشکیل کے متعلق قانون کو مربوط اور معقول بنانے اور آجر اور آجیروں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایک اور بل سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ اس سے پہلے ملک میں داخلی سلامتی کی صورتحال اور حکمراں اتحاد کی طرف سے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کرنے کے حوالے سے بحث سمٹتے ہوئے سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک جمہوری طریقے سے لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں اتحاد کو ہارس ٹریڈنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حکومت کے پاس مطلوبہ تعداد پوری ہے۔انہوں نے کہا کہ مواخذے کی تحریک میں اگر ہارس ٹریڈنگ ہوئی تو وہ صدر جنرل ریٹائرڈ کی طرف سے ہوگی۔ رضا ربانی نے الزام عائد کیا کہ صدر ہارس ٹریڈنگ کے موجد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی مصالحتی آرڈنینس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان مسلم لیگ قاف کو ہوا جنہوں نے نہ صرف بینکوں سے قرضے معاف کروائے بلکہ نیب سے اپنے مقدمات بھی واپس لیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی موثر حکمت عملی کی وجہ سے ملک میں خودکش حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بلوچستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ اس ضمن میں سینیٹ کی ایک سات ر±کنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو سات ہفتوں میں اس حوالے سے رپورٹ پیش کرے گی۔ پاکستان مسلم لیگ قاف کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک انتہائی اہم دور سے گزر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر کا مواخذہ یا صدر کی طرف سے اٹھاون دو بی کا استعمال پاکستان کو درپیش مسائل کا حل نہیں ہے۔ صدر کا مواخذہ پاکستان کی جمہوریت اور سیاست کے لیے بہت بڑا امتحان ہے۔مشاہد حسین نے کہا ’حکومت کی طرف سے ہارس ٹریڈنگ شروع ہوگئی ہے لہذا ایوان کو جمعہ بازار نہ بنائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایوان پارلیمنٹ کی بولیاں لگنی شروع ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پرویز مشرف کی پالیسیوں کو ہی اپنائے ہوئے ہے۔ مشاہد حسین نے کہا کہ گزشتہ نو سال کے دوران پرویز مشرف پر ایک بھی کرپشن کا الزام نہیں لگ سکا۔ ملک میں امن وامان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اوورہالنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ مشاہد حسین نے کہا کہ انٹیلجنس بیورو اور پولیس کی سپیشل برانچ کو دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اسراراللہ زہری نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران نو سو بلوچ لاپتہ ہوئے تھے جبکہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آتے ہی تین سو بلوچوں کو اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچیوں کی نسل کشی ختم کی جائے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سنیٹر عبدالخالق نے کہا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کو کم کرکے عام آدمی کو ریلیف دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حلوے تو سیاستدان کھاتے ہیں لیکن مولوی بدنام ہوتے ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاوس کو کرائے پر دے دیا جائے اور اس سے جو آمدنی ہوگی اس کو عام آدمی کی بہتری کے لیے خرچ کیا جائے۔ سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ صدر پرویز مشرف کو مشورہ ہے کہ وہ آبرومندانہ طریقے سے مستعفی ہو جائیںاور اتحاد حکمران بھی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث نہ ہواور پرویز مشرف کو بھی یہی رائے دیتے ہیں کہ اس گندے کام میں ملوث نہ ہوں اتحادی بھی مواخذے کی تحریک کو آئین کے مطابق لے کر آئیںاگرچہ صدر کو بھی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے آصف علی زرداری بھی ورکنگ کمیٹی کی روزانہ کی بنیاد پر مشاورت کریں تاکہ کم مدت میں تمام معاملات کو آئینی طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔ جبکہ یورپی یونین نے بھی توقع ظاہر کی ہے کہ صدر پرویز مشرف کے مواخذے کا معاملہ آئین اور قانون کے مطابق طے کر لیا جائے گا۔ یورپی یونین کی ایکسپریشن باڈی یورپی کونسل نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ صدر کا مواخذہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے اور امید ہے کہ پاکستان کی سیاسی قوتیں مسئلے کا قانونی حل نکالیں گی اور تمام پروسیس آئین اور قانون کے مطابق ہو گا۔ یورپی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین اس مسئلے کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور وہ ہر اس عمل کی حمایت کرے گی جو قانون اور آئین کے مطابق کیا جائے گا۔ اگرچہ مشرف نے اپنے بارہ اکتوبر کے غیر آئینی اقدام کو سترویں تر میم سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا ہوا ہے اب اس کا تین نو مبر کے اقدام کو مواخذہ کیلئے بطورحوالہ استعمال کیا جا ئے گا۔ جبکہ جمعہ کے روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر چوہدری ظہیر الدین سمیت حزب اختلاف کے ارکان نے جمعرات کے روز صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار 58 ٹو بی کے خاتمہ پر پاس کی گئی قرار داد کو متفقہ قرار دینے پر شدید احتجاج کیا جبکہ حکومتی ارکان نے اپوزیشن کے اس رویہ کو ڈانٹ ڈپٹ کا نتیجہ قرار دیا ۔ اجلاس کے دوران پوائنٹ آف پرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض نے کہا کہ اسلام آ باد میں اتحادی قیادت نے جو صدر مشرف کے مواخذہ اور معزول ججوں کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے اسے پوری قوم نے خوش آمدید کہا ہے ۔ انہوں نے صدر مشرف سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر از خود باعزت طور پر مستعفی ہو جائیں ورنہ مشرف کے خلاف جو عوامی سیلاب کا ریلہ آیا ہے یہ انہیں بہا کر لے جائے گا ۔ اب مشرف کو جانے سے کوئی نہیں روک سکتا اور نہ ہی مٹھی بھر اپوزیشن انہیں بچا سکتی ہے ۔ بہت جلد یہ سیاسی یتیم ہونے والے ہیں اور جنرل (ر) مشرف کی سیاسی موت واقع ہونے والی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) مشرف نے جتنا ملک کو نقصان پہنچایا اور کمزور کیا ۔اس صدر نقصان پہلے کسی نے نہیں پہنچایا تھا لیکن مشرف آج بھی ایوان صدر میں بیٹھ کر جمہوری اداروں کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں ۔ بہتر ہے وہ ان سازشوں سے باز آجائیں ورنہ ان کا انجام دنیا دیکھے گی ۔ اس موقع پر اپوزیشن رکن سامعہ امجد نے کہا کہ حکومتی ارکان کو جو ظہیر فوبیا ہو گیا ہے پہلے اس سے تو باہر تونکلیں مشرف کا مواخذہ تو دور کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زرداری این آر او کے تحت آئے یہ این آر او ریورس بھی ہو سکتا ہے ۔ چوہدری ظہیر الدین نے کہا کہ اگرچہ صدر کا مواخذہ حکومت کا آئینی حق ہے لیکن صدر اپنا دفاع کریں گے ۔ حکومتی رکن اصغر منڈر نے کہا کہ جمعہ کے روز اپوزیشن ارکان نے صدر کے 58 ٹو بی کے تحت اختیار کو ختم کرنے کی قرار داد کی حمایت کی اور یہ قرار داد متفقہ طور پر پاس ہوئی لیکن رات کو ان کی کلاس لی گئی تو آج یہ واویلہ کرنے لگے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب مشرف کا جانا ٹھہر گیا ہے اور جج بھی ضرور بحال ہوںگے ۔ چوہدری ظہیر الدین اور محمد یار ہراج نے کہا کہ کل جب صدر کے اختیار کے خاتمہ کی قرار داد پیش کی گئی وہ نماز پڑھنے گئے ہوئے تھے ہمیں پہلے ہی آگاہ نہیں کیا گیا جس پر ہم تحریک استحقاق لانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔ بعض حکومتی ارکان نے کہا کہ اپوزیشن ارکان آج بھی راہ راست پر آجائیں اور ڈکٹیٹر کا ساتھ چھوڑ دیں تو انہیں ویلکم کہیں گے۔ جبکہ بعض سیاسی لو گوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مواخذے کی نوبت نہیں آئے گی کیونکہ تحریک آنے سے پہلے ہی صدر پرویز مشرف مستعفی ہو سکتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مواخذہ کچھ عرصہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ اسے تھوڑا لیٹ کیا گیا ہے جس کا نقصان عوام کو ہو گا اس وقت ملک میں معاشی بحران انتہائی سنگین ہے اور سڑک پر چلتے آدمی کو صدر کے مواخذے سے دلچسپی نہیں رہی۔ حالانکہ پہلے یہ مسئلہ سر فہرست تھا۔ جب 3فروری کو لوگوں نے پارٹیوں کو مینڈیٹ دیاتھا اتحادیوں کو اس وقت یہ قدم اٹھانا چاہیے تھا انہیں پہلے عدلیہ کو بحال کرنا چاہیے تھا اور پھر مواخذے کی طرف آنا چاہیے تھا تاہم امکان ہے کہ صدر تحریک پیش ہونے پر خود ہی مستعفی ہو جائیں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ سیاستدان آگ سے کھیل رہے ہیں صدر کا مواخذہ ایک حساس معاملہ ہے ماضی میں ہم اسے ایسے تنازعات دیکھ چکے ہیں ہر عمل کا اپنا رد عمل ہوتا ہے ، حکمران اتحاد سربراہان کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران اہم شخصیات مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی موجود نہیں تھے۔ ملک میں جمہوریت کو مضبوط ، عوامی حالت کو بہتر اور معیشت میں بہتری کی ضرورت ہے صدر کے مواخذے کو اہم قرار دے کر ججز کی بحالی کا مسئلہ پیچھے رکھ دیا گیا مخدوم امین افہیم اگرچہ پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے ہم ملک میں جمہوریت لائے ہیں عوامی حالت ، معیشت اور جمہوریت کو مضبوط بنانا چاہیے۔ سیاستدان آگ سے کھیل رہے ہیں صدر کے مواخذے کے حوالے سے حکمران اتحاد نے فیصلہ جلد بازی میں آ کر اٹھایا۔ مخدوم امین افہیم سے گزاش ہے۔ اگرچہ آپ کے زرداری پا رٹی سے اختلافات ہوں گے اور اس ضمن میں تو یہ سمجھ آتی ہے کہ زرداری کی مخالف سمت چلیں گے۔ لیکن آپ بھی بے نظیر اور شہید بھٹو کا اپنے آپ کو سیا سی جا نشین سمجھتے ہیں اس ضمن میں آپ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ جمہوریت کے فروغ اور استحکام کی خاطرسیا سی لیڈروں کو آگ سے کھیلنے سے منع کر یں۔ اور آپ کی اس طرح کی بیان بازی اور طرف داری سے غیر جمہوری طا قتوں کو تقویت ملتی ہے لہذا ضروری ہے کہ اگر آپ ان کا سا تھ نہیں دے سکتے تو کم از کم اس طر ح کے مشورے دینے سے اجتناب کر یں کیونکہ اس میں آپ کا فا ئدہ ہے۔ پرویز مشرف کا مواخذہ ہی نہیں بلکہ احتساب بھی ہونا چاہیے ججوں کی بحالی بہت پہلے ہو جانی چاہیے تھی۔ گنگا بہانے کا اعلان تو کر دیا گیا ہے لیکن یہ عوام کی توقعات کے مطابق الٹی گنگا ہے کیونکہ عوام کی پہلی ترجیح تو ججوں کی بحالی تھی۔ جنرل مشرف نے بہت سے جرائم کئے ہیں ان کا مواخذہ بھی ہونا چاہیے۔ لیکن یہ مواخذہ ججوں کی بحالی میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے جس سے عوام مزید مایوس ہو گی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اگر 24مارچ کو دو الفاظ مزید کہہ دیتے تو یہ سارا مسئلہ اسی دن ختم ہو جاتا اور جج بحال ہو گئے ہوتے عوام کا مطا لبہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا احتساب بھی ہونا چاہیے اور جلد ہونا چاہیے عوام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پرویز مشرف اپنے بچاو کے لیے کوئی ایکشن لے سکتے ہیں کیونکہ ڈوگر پرویز مشرف کے حق میں ہے اور اگر پہلے آزاد منش جج بحالی ہو جاتے تو پرویز مشرف کے لئے صورتحال اس کے برعکس ہوتی اور حکومت اور پارلیمنٹ کو تحفظ ہوتا بہرحال وکلاءکی ڈیڈ لائن برقرار ہے کیونکہ صدر کا مواخذہ محض ایک ڈھونگ یا حربہ بھی ہو سکتا ہے۔مواخذہ وقت کی ضرورت ہے اور مواخذے کا عمل کامیابی سے مکمل کیا جانا چا ہیے۔ اس حوالے سے حکمران اتحاد کے پاس نمبرز کی اگر کو ئی کمی پیشی ہے تو اس میں بھی سنجیدہ کو ششیں ہو نی چا ہے ۔ حکمران اتحاد کے قائدین کو سیاسی دانش مندی اور تدبر کا مظاہرہ کر کے عوامی امنگوں کے مطابق مختصر المد تی مشرف کا مواخذہ کر کے پوری قوم کے دل جیتنا ہوں گے۔ اے پی ایس



No comments: