International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, August 6, 2008

حکومتی اتحاد اور صدارتی کیمپ ایک دوسرے کے خلاف مصنوعی سرگرم ۔۔۔ امریکی اندازے غلط فہمی پر مبنی ۔۔۔تحریر : محمد رفیق : اے پی ایس













نواز زرداری مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی پیشر فت نہ ہو سکی ۔پاکستان کے عوام دوسرے روز بھی پر امید تھے۔ ابھی کچھ ہوا کے انتظار میں ان حکمران اتحاد کے بے نتیجہ مذاکرات نے عوام کے سروں میںدرد کر دیاہے مواخذہ ہو سکا اور نہ ججز کی بحالی کے حوالے سے کو ئی سنجیدہ پیش رفت۔ پاکستان کو جو اہم چیلنج درپیش ہیں ان میں ججوں کی بحالی جنرل مشرف کا مستقبل اور17 ویں ترمیم کا خاتمہ جس کی وجہ سے پاکستان کے آئین کا حلیہ بگاڑا گیا ہے اور ان معاملات کی وجہ سے ملک میں ایک سیاسی بے یقینی پائی جاتی ہے جس سے نہ صرف سیاست بلکہ ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ان اہم چیلنجز کے علا وہ جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ دیا نت دار قیادت کا فقدان ہے اور جس کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہے۔ اگر اس ملک کی سولہ کروڑ عوام میں سے دیانت دار لیڈر شپ کا انتخاب ہو گا تو وہ نہ ہی اسٹیبلشمنٹ سے بلیک میل ہو گی اور نہ ہی ان کا کو ئی این آر او جیسا کو ئی ویک پوائنٹ ہوگا۔ عوامی حلقوں کی قیاس آرائیاں اب سچ میں تبدیل ہو گئی ہیں کہ اس ملک کے تما م سیاستدان اور قا نون شکن جر نیل جو قو می خزانہ لو ٹنے میں پیش پیش رہے وہ کسی غیر آ ئینی اقدام پر اتفاق کر یں یا نہ کر یں لیکن وہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ ضرور کر تے ہیں۔ججز کی بحالی کے حوالے سے وزیر اعظم نے دو بول بو لنے ہیں کہ معزول ججز کو بحال کیا جا تا ہے لیکن وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی جو بے نظیر کے بعد اپنی پا رٹی میں سب سے معتبر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے بھی لب کسی نے اس حوالے سے سیل کر دیے ہو ئے ہیں۔ اور عوام بھی وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی کے اس انتظار میں ہیں کہ اب بو ل لب تیر ے آزاد ہیں۔ اگر چہ ایک اخبا ری رپورٹ کے مطا بق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے نئی منتخب سیاسی حکومت کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے بش انتظامیہ نے ان کے ساتھ کام کرنے کیلئے بھرپور رضا مندی کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے امریکیوں پر واضح کر دیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف اب پاکستان میں غیر متعلق ہو چکے ہیں۔وزیراعظم گیلانی نے امریکیوں کو بتایا کہ پاکستان عوام انہیں پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ فوجی حکمرانوں کی حمایت کرتے رہے ہیں“۔وزیراعظم گیلانی نے اپنے اقتدار کے 3 ماہ کے اندر دورہ امریکا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیال درست نہیں ہے کہ میں نے غلط وقت پر امریکا کا دورہ کیا ہے۔گیلانی سے امریکیوں نے مشرف کے موثر ہونے کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اب محض رسمی سربراہ مملکت ہیں حکومت چلانے کے حقیقی اختیارات وزیراعظم کے پاس ہی ہیں۔نواز زرداری بے نتیجہ مذاکرات کے پس پر دہ وہی ایک مبینہ ڈیل رکا وٹ سمجھی جا تی ہے۔ جس میں دونوں جلا وطن لیڈروں نے وطن آنے سے پہلے کسی دوسرے ملک کے سر براہ کے آگے زبان دی ہو ئی ہے۔ کہ ہم شور ضرور مچا ئیں گے عوام کے جذبات سے کھیلے گے لیکن عملی طور پر ایک دوسرے بلکہ تیسرے فریق )مشرف( کو عملی طور پر کسی قسم کا کو ئی گذند نہیں پہنچا ئیں گے۔ اور مبینہ طے شدہ شرائط کو مد نظر ر کھتے ہو ئے دن گذار رہے ہیں۔ جہاں تک ق کا تعلق ہے وہ بھی مشرف کے کہنے پر بچو جمہورا بن کراپو زیشن میں بیٹھی رہے گی۔ کیو نکہ سا بقہ حکمرانوں نے بھی قو می خزانے کو جتنا نقصان پہنچا یا ہے وہ بھی اسی این اار او سے ڈھال کا کام لے رہے ہیں۔جبکہ عوام کے مسائل نا انصافی، بے روز گا ری ، مہنگا ئی کسی سرد خا نے میں پڑے پڑے ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں۔گذشتہ منگل اور بدھ کو مسلم لیگ (ن ) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کی سربراہی میں حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کا اجلاس بات چیت کے ٥ ادوار مکمل کرنے کے بعد اچانک ختم ہو گیا اور عوام کے سا منے جو نیا سکرپٹ پیش کیا جا رہا ہے اس کے مطابق حکمران اتحاد صدر کے مواخذے پر متفق ہو گیا ہے جبکہ ججز کی بحالی کے حوالے سے آصف علی زرداری نے حکمران اتحاد کوکوئی بھی فیصلہ کر نے کا اختیار دے دیا ہے ۔ اجلاس میں معزول ججز کو اعلان مری کے تحت بحال کرنے پر بھی بات چیت کی گئی ہے تاہم اسی حوالے سے حکمران اتحاد میں شامل بعض جماعتوں نے پیپلز پارٹی کی طرف سے تیار کیے گئے آئینی پیکج کی بات کی ہے پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے حکمران اتحاد کو ہر محاذ پر پھر پور ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اتحادی جماعتوں کے درمیان مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے ہیں ۔ اجلاس میں حکمران اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن ) اور پیپلزپارٹی کے درمیان صدر کے مواخدے پر اتفاق ہوا ہے تاہم اس کے طریقہ کار کا تعین کرنا ابھی باقی ہے جس کیلئے دونوں بڑی جماعتوں نے اپنے پارٹی اراکین سے صلاح مشورے شروع کر دئیے ہیں ۔ ججز کی بحالی کے حوالے سے اجلاس میں تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اور اس پر بھی حکمران اتحاد میں تقریباً اتفاق پایا گیا ہے لیکن اس کے لئے بھی پارلیمنٹ میں آئینی پیکج لانے کی بات کی گئی ہے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے حکمران اتحاد کو ججز کی بحالی کا طریقہ کار طے کرنے کیلئے مکمل اختیار دے دیا ہے اورکہاہے کہ وہ ججز کی بحالی صدر کے مواخدے اور اعلان مری کے تحت حکمران اتحاد کا مکمل ساتھ دیں گے آصف علی زرداری اور نواز شریف نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ ملک میں جمہوریت کو کسی بھی صورت نقصان نہیں پہنچنے دیاجائے گا اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے موقف اختیار کیا ہے کہ سب سے پہلے معزول ججز کی بحالی کے اقدامات کئے جائیں اور اس کے بعد صدر کا پارلیمنٹ کے اندر مواخذہ کیاجائے حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے پنجاب ہاوس کے اسلام آباد میں پارٹی کی مجلس عاملہ کو طلب کر لیا جس میں میاں نواز شریف پارٹی رہنماوں کو اب تک ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا اور صدر کے مواخذے اور ججز کی بحالی کے طریقہ کار پر ان سے مشاورت بھی کی ادھر پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی پارٹی کارکنوں سے صلاح مشورہ شروع کردئیے ہیں قبل ازیں زرداری ہاوس میں جاری حکمران اتحاد کے اس اجلاس میں مولانا فضل الرحمن کے علاوہ پی پی پی کی جانب سے شیری رحمن ، فاروق ایچ نائیک جبکہ (ن) لیگ کی جانب سے چوہدری نثار ، جاوید ہاشمی ، خواجہ آصف اور اسحاق ڈار شامل تھے ملاقات میں چوہدری نثار ، جاوید ہاشمی ، خواجہ آصف اور اسحاق ڈار نے نواز شریف کی معاونت کی جبکہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی معاونت سید خورشید علی شاہ ، رضا ربانی اور شیری رحمان نے کی ۔ گزشتہ روز میاں نواز شریف نے آصف علی زرداری سے ملاقات میں صدر کے مواخذے ، معزول ججز اور 1973ء کے آئین کی بحالی کے مطالبات کئے دونوں رہنماوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں حکمران اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے بھی تفصیلی غور کیا گیا او راس عزم کا اعادہ کیاگیا کہ ملک کے عوام کو مشکلات سے نکالنے کیلئے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کا اتحاد برقرار رکھا جائے گا اور اس حوالے سے مخالفین کی سازش کامیاب نہیں ہوں گی۔ جبکہ صدر پرویز مشرف نے بھی واضح کیا ہے کہ مواخذے کی تحریک لانا حکومت اور اس تحریک کا دفاع کرنا ان کا حق ہے۔ صدارتی کیمپ آفس راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ قاف کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری پرویز الٰہی سمیت دیگر رفقاءسے گفتگو کرتے ہو ئے صدر پرویز مشرف نے کہا کہ وہ اداروں کے درمیان کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتے۔ صدر نے کہا کہ اگر حکمران اتحاد پارلیمنٹ میں ان کے خلاف تحریک لے کر آیا تو اس تحریک میں ان پر لگائے جانے والے الزامات کا پارلیمنٹ میں آ کر خود جواب دیں گے۔ ان ملاقاتوں میں ملک کی سیاسی صورت حال، صدر کے ممکنہ مواخذے، مسلم لیگ قاف کی مستقبل کی حکمت عملی اور مواخذے کی ممکنہ تحریک کو ناکام بنانے سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں جمہوریت کے سب سے بڑے حامی ہیں اور وہ اداروں کے دوران کسی بھی قسم کا تصادم نہیں چاہتے ۔صدر کا کہنا تھا کہ وہ ملک کو کسی صورت عدم استحکام سے دوچار نہیں ہونے دیں گے اور ملکی مفاد اور قومی سلامتی کو مد نظر رکھ کر ہی فیصلے کریں گے ۔ذرائع نے بتایا کہ ان ملاقاتوں کے دوران لیگی قیادت نے صدر کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مواخذے کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے مسلم لیگ ق صدر پرویز مشرف کی بھر پور حمایت کرے گی۔ صدر مشرف ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں سے بھی بات چیت کریں گے ۔ اس ملاقات کے بعد پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز الہی نے ایک ٹیلی ویڑن چینل کو بتایا کہ ہم صدر کے ساتھ ہیں۔انہوں نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیاکہ صدر کا دورہ چین منسوخ ہو گیا انہوں نے کہا کہ صدر کا دورہ منسوخ نہیں ہوا صدر پروگرام کے مطابق چین روانہ ہوں گے۔حکومتی اتحاد کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر کے مواخذہ اور معزول ججوں کی بحالی کے قریب پہنچ جانے اور صدر کا مواخذہ کرنے پر متفق ہوتے ہوئے دیکھ کر صدارتی حلقے بھی دفاع کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں اور اتحاد ی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں کے خلاف زیر التواءکیسوں کو پھر سے زندہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ان سیاسی رہنماوں پر دباو بڑھانے اور بعض اہم کیسوں میں انہیں سزا دلوانے کیلئے صدارتی حلقوں اور قانونی ماہرین نے تیاری شروع کردی ہے۔ صدر کے دفاع کیلئے ان کیسوں جن میں توہین عدالت سمیت دیگر کیس شامل ہیں کی بھرپور طور پر پیروی کی جائے گی اور انہیں جلد نمٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ دریں اثناء صدر پرویز مشرف نے اپنے سیاسی حلیفوں جن میں ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) اور ان کے دیگر حمایتی شامل ہیں سے بالواسطہ اور بلاواسطہ رابطے شروع کردیئے ہیں تاکہ حکومتی اتحاد کی جانب سے صدر کا مواخذہ کرنے یا انہیں عدالتی فیصلہ کے تحت پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے پر مجبور کرنے کی صورت میں ان کے دفاع کیلئے حکمت عملی طے کی جاسکے۔ جبکہ وکلاء تحریک نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والے معزول ججوں نے وکلاء تحریک اور قوم اور ملک سے غداری کی ہے، وکلاء برادری حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والے ججوں کا محاسبہ کرے گی، غدار ججوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی ہم ان ججوں کا پی سی او ججوں سے پہلے محاسبہ کریں گے، غدار ججوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کر کے وکلاء کی قر بانیوں کو ضائع کر دیا ہے اور یہ جج بھی مشرف کے ساتھی کہلائیں گے حکومت من پسند ججوں کو بحال کر کے عدلیہ کو مزید تاریکیوں مں نہ دھکیلے بلکہ عدلیہ کی آزادی کیلئے اقدامات کرے۔ صدر نے مواخذے کی تحریک کو ناکام بنانے کیلئے 8 ججوں کی بحالی کی سمری کی منظوری دے دی جبکہ پیپلز پارٹی این آر او کو بچانے کیلئے یہ حربہ استعمال کرنے پر تل گئی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی امنگوں کا خیال رکھتے ہوئے 3 نومبر کو معزول کئے گئے تمام ججوں کو بحال کر دے۔ صدر کے مواخذے کا ادارہ پارلیمنٹ ہے جس میں ایوان بالا اور ایوان زیریں دونوں شامل ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 47 میں صدر کے مواخذے کا طریقہ کار اور شرائط واضح ہیں۔ اس کی شرائط یہ ہیں کہ یا قومی اسمبلی کے نصف ارکان کی تعداد یا سینیٹ کے نصف ارکان اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ کو مراسلہ روانہ کریں جس میں وہ صدر کے خلاف چارج شیٹ آئین کے مطابق پیش کریں۔ اول یہ کہ صدر جسمانی طور پر اس قابل نہیں رہے کہ اپنے فرائض منصبی ادا کریں یا پھر یہ ثابت کیا جائے کہ صدر نے آئین کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔ یہ چارج شیٹ اسپیکر قومی اسمبلی صدر کو روانہ کرے گا اور 7 دن کے اندر اور 14دن کی تاخیر کے بغیر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا ہوگا۔ صدر کو مکمل اختیار ہوگا کہ وہ مذکورہ چارج شیٹ کا جواب دینے کے لئے خود پارلیمنٹ میں آئیں یا اپنے نمائندے کوبھیجیں اور اپنا دفاع کریں۔صدر اپنا دفاع کیسے کریں گے یا جرح کس طرح سے ہوگی۔ آئین میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ آئین صرف صدر کو اپنے مکمل دفاع کا حق دیتا ہے۔ اس کا مفصل طریقہ کار پارلیمنٹ طے کرسکتی ہے۔ مواخذے کی قرارداد پارلیمنٹ کے دو تہائی ممبران کی اکثریت سے ہی منظور ہوسکتی ہے۔ 12نومبر 1999ء اور 3 نومبر 2007ءکو جو اقدامات صدر نے کئے ، چارج شیٹ میں ان کا ذکر کرنے کے حوالے سے اگر سیاسی جماعتیں ان اقدامات کو قابل مواخذہ سمجھتی ہیں تو یہ ان کی صوابدید پر مبنی ہے، لیکن انہیں یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ درمیان میں سپریم کورٹ کے فیصلے بھی آچکے ہیں۔ جبکہ مواخذے کیلئے کئی ایک سپیڈ بر یکر بھی بنا دیے گئے ہیں مثلا آئین کے آرٹیکل 2-47میں صدر پاکستان کے مواخذے کیلئے جو شرائط درج ہیں انکے کئی مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے میں کسی بھی ایوان کے آدھے ممبران مواخذے کی تحریک کیلئے تحریری طور پر اسپیکر سے رجوع کریں گے۔ اسپیکر تین دن کے اندر مواخذے کی تحریک پیش کرنے کی اجازت دے گا۔(2)اگر اسی طرح کی تحریر 50ممبران کے دستخطوں سے چیئر مین سینٹ سے پاس ہے تو وہ بھی اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوانے کا پابند ہے۔ (3)پھر صدر کے خلاف الزامات کی فہرست تیار کرکے پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت مواخذے کی تحریک پیش کریگی اسپیکر کم از کم سات یوم یا زیادہ سے زیادہ 14یوم میں ایوان میں لانے کا پابند ہے۔( 4)باضابطہ تحریک پیش ہونے کے بعد یا ایوان خود الزامات کی تحقیقات کرے گا یا کروائے گا۔ (5) جسکے خلاف مواخذے کی تحریک پیش ہوگی اسکے تین حقوق ہیں۔ (6) صدر الزامات کی تحقیقات کی صورت میں اسمیں شامل ہوسکتا ہے۔ (7) وہ ذاتی طور پر پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنے خلاف الزامات کا دفاع کرسکتا ہے۔ (8) صدر اپنے وکلا مقرر کرکے اپنا دفاع کرسکتا ہے۔ (9) اگر ایوان سمجھے صدر یا اسکے وکلا الزامات کا دفاع کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور الزامات درست ثابت ہوئے ہیں تو مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ ہوگی اگر پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت صدر کے خلاف فیصلے دے گی تو صدر فوری طور پر عہدہ صدارت سے الگ ہو جائے گا۔ (10) صدر نے اگر مس کنڈکٹ کیا ہے اور آئین میں دی گئی صدارتی عہدے کی اہلیت کے منافی کام کیا ہے تو صدر کے خلاف مزید کارروائی ہوسکتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے کولمبو جانے سے پہلے وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے سندھ ہائیکورٹ کے معزول ججوں کی بحالی کی سمری وزیراعظم کو پیش کی تو وزیراعظم نے ان سے کہا کہ پہلے وہ اس پر میاں نواز شریف کی رضا مندی حاصل کریں جس پر فاروق نائیک نے کہا کہ ٹھیک ہے سر آپ دستخط کردیں جس پر وزیراعظم نے کہا کہ اس لئے پہلے نواز شریف سے رابطہ کرکے ان کی رضا مندی حاصل کریں جب فاروق نائیک دوبارہ وزیر اعظم کے پاس منظوری لینے پہنچے اور کہا کہ نواز شریف نے رضامندی کا اظہار کردیا اس پر پرنسپل سیکرٹری نے بھی ہاں میں سر ہلایا جس پر وزیر اعظم نے دستخط کردیئے اب جب پتہ چلا کہ نواز شریف کی رضامندی حاصل نہیں کی گئی تھی تو وزیراعظم نے انکوائری کی اور پرنسپل سیکرٹری سے پوچھا کہ آپ نے غلط بیانی سے کام کیوں لیا تو پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ مجھے تو فاروق نائیک نے کہا تھا کہ میں جو کہوں گا تم اس کی تائید کردینا ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو فاروق نائیک نے اندھیرے میں رکھ کر سمری منظور کروائی۔ جبکہ صدر مملکت اور اتحادی حکومت کے مابین تنازعہ کی شدت کے باعث روپے کی قدر میں مزید کمی ہوئی ہے جبکہ درآمدی بلز پر ادائیگیوں اور اسٹاک مارکیٹوں سے سرمائے کے انخلاء کے باعث روپے کی قدر میں حالیہ گراوٹ کی نئی لہر سامنے آئی ہے۔کرنسی ڈیلرز کے مطابق سیاسی اور معاشی حالات کے باعث منی مارکیٹ بحران کا شکار ہے۔بدھ کو منی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت خرید 72روپے45پیسے اور قیمت فروخت72روپے55پیسے رہی۔ملک میں سیاسی بحران کے علاوہ معاشی محاذ پر تجارتی و مالیاتی خساروں کی توسیع پذیری کا بھی سامنا ہے۔روپے کی قدر پر بھی دباو¿ کی کلیدی وجوہات میں آئل کی خریداری کیلئے ادائیگیوں کے باعث ڈالر کی طلب میں اضافہ بتائی جارہی ہیں اور اسکے نتیجے میں رواں سال کے آغاز سے روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 17.6 فیصد گراوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔منی مارکیٹ میں قلیل المعیاد ریٹس میں سیالیات زر کی آمد کے باعث اضافہ ہوا ہے اور کرنسی ڈیلروں کے مطابق امکان ہے کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے (آج) جمعرات کو ریپو آپریشن منعقد کیا جائے۔منی مارکیٹ میں اوور نائٹ کال ریٹس کا انقطاع 5 فیصد پر ہوا جبکہ کرنسی ڈیلروں کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ سیکیورٹیز کی میچورٹی سے 34 ارب روپے کی مارکیٹ میں آمد کا امکان ہے۔ جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے مواخذے سے قبل مستعفی ہو جائیں۔ وہ پارلیمنٹ موجود نہیں ہے جس نے انہیں صدر منتخب کیا تھا۔ 2 نومبر 2007 ء کی عدلیہ کو بحال کیاجائے۔ ان خیالات کااظہار اے این پی کے رہنما اور وفاقی وزیر بلدیات و دیہی ترقی غلام احمد بلور نے کیا ہے۔کہ صدر پرویز مشرف کو فہم و فراست سے کام لیتے ہوئے مواخذے کی نوبت سے قبل ہی مستعفی ہو جانا چاہیے ۔جس پارلیمنٹ نے پرویزمشرف کو صدر منتخب کیا تھا جب وہ پارلیمنٹ ہی نہیں رہی تو صدر مشرف کے رہنے کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا ۔ انہوں نے کہاکہ 3 نومبر 2007 ء کے اقدامات غلط اور غیر آئینی تھے ہم چاہتے ہیں کہ 2 نومبر کے ججز کو بحال کیاجائے۔ جبکہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جنرل (ر) مشرف اب کچھ نہیں کر سکتے ان کے سامنے صرف واحد راستہ خود کشی کا ہے ۔ پنجاب اسمبلی میں اپنی حلیف جماعتوں سے مشورے کے بعد مشرف کے مواخذے کی قرار داد پیش کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کل بدھ کو اسمبلی اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) مشرف کے اب اقتدار میں رہنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں ہم ان کا مواخذہ بھی کریں گے اور معزول ججوں کو بھی جلد بحال کریں گے ۔ موجودہ نازک حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر ملک کو درپیش مسائل سے نکالنا ہو گا ۔ انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے بائیکاٹ ختم کرنے کے فیصلے کو بھی سراہا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے پریس سیکرٹری چیف مورالی نے کہا ہے کہ امریکی حکومت پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے معاملے پر حکومت پاکستان سے قریبی رابطے میں ہے اور دونوں حکومتیں اس سلسلے میں مل کر کام کر رہی ہیں ۔ امریکی افواج انتہائی محدود پیمانے پر پاکستانی فوج کو تربیت دے رہی ہیں۔ بدھ کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جیف موررل نے کہا کہ امریکی حکومت کابل میں بھارتی سفارت خانے کے باہر بم دھماکے میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ملوث ہونے کے الزام کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت پاکستان سے قریبی رابطے میں ہے اور دونوں حکومتیں اس سلسلے میں کام کر رہی ہیں ایک سوال کے جواب میں جیف موررل نے الزام لگایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے خفیہ اداروں کا معاملہ تاریخی ہے اور اس کے آثار آج بھی موجود ہیں تاہم دونوں حکومتیں ان مسائل کے حل کے لیے قریبی رابطے میں ہیں ایک اور سوال کے جواب میں جیف موررل نے کہا کہ امریکی افواج انتہائی محدود پیمانے پر پاکستانی فوج کو تربیت دے رہی ہیں۔ لیکن دونوں افواج کسی آپریشن میں مشترکہ طور پر شریک نہیں ہوتیں ۔ پاکستانی افواج کو تربیت حکومت پاکستان کے کہنے پر دی جا رہی ہے پینٹاگان کے اعلیٰ عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ فاٹا میں پاکستانی فوج کے آپریشن پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاہم فاٹا کے علاقوں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے حکومت پاکستان کو مزید اقدامات کرنا ہوں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلا ف جنگ میں انتہائی اہم اتحادی ہے اور پاکستان اور امریکہ دونوں اس مشترکہ جنگ میں مل کر کام کرتے رہیں گے ۔ واضح رہے کہ پاکستان ، کابل میں بھارتی سفارت خانے کے باہر کار بم دھماکے میں ملوث ہونے کی متعدد بار تردید کر چکاہے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ افغان حکومت اس سلسلے میں پاکستان کو ثبوت فراہم کرے لیکن افغان حکومت ابھی تک ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔پاکستان نے اس الزام کی مسترد کر دیاہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کابل کے بھارتی سفارتخانہ پر حملہ میں پاکستانی انٹیلی جنس ادارہ آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ پاکستان نے وعدہ کیا کہ اگر اس سلسلے میں ثبوت پیش کئے جائیں تو تحقیقات کروائی جائیں گی۔ بھارت میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک نے کہا کہ میں ایسے الزامات کو درست تسلیم نہیں کرتا۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایسی الزام تراشی کے نتیجے میں پاکستان و بھارت مذاکرات متاثر ہو جائیں ۔ شاہد ملک نے کہا ہے کہ بھارت کے سفارتخانہ پر آئی ایس آئی کے ملوث ہونے تحریری ثبوت اور مواصلاتی رابطہ کے ثبوت امریکہ پیش کرے۔ ایسے ثبوت پیش ہوں تو پاکستان تحقیقات کروانے کے لیے تیار ہے۔ شاہد ملک نے کہا کہ بے شک ثبوت پیش کرنے کے بعد کمیٹی قائم کی جائے گی۔ ہم ثبوت ملنے کے بعد کمیٹی قائم کریںگے۔ ثبوت پیش ہونے کے بعد ہم معاملہ کی تہہ تک پہنچ جائیں گے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دہشت گردی کے ہم ہی مظلوم ہیں۔ اس معاملہ کی تہہ تک پہنچ جانا خود پاکستان کے لیے مفید ہو گا۔ شاہد ملک نے کہا کہ پاکستان نے مکمل اعتماد اور اتھارٹی کے ساتھ بھارتی سفارتخانہ کابل پر آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ہوئی حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے تعلق سے شاہد ملک نے کہا کہ جہاں تک اس معاملہ کا تعلق ہے طرفین ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں ۔ مسٹر ملک نے کہا کہ بھارتی سمت سے بھی فائرنگ ہوئی ہے۔ پاکستان کا جانی نقصان ہوا ہے۔ جبکہ امریکہ نے فاٹا میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے آپریشن کی تعریف کرتے ہو ئے اعتراف کیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستان کی کارروائی کے بارے میں امریکی اندازے غلط فہمی پر مبنی تھے۔میڈیا بریفنگ کے دوران پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جیوف موریل نے کہا ہے کہ پاکستان نے فاٹا میں قابل قدر کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستان نے جارحانہ کارروائیاں کی ہیں اور پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقوں میں کئی آپریشن جاری ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان نے کہاکہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ کو پاکستان کی مدد کی ضرورت ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ قبائلی علاقوں میں بڑی تعداد میں عسکریت پسند سرگرم ہیں جو امریکہ اور پاکستان دونوں کے لئے خطرہ ہیں۔ جبکہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے خفیہ ادارے انٹرسروسز انٹیلی جنس ایجنسی(ISI)کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس ادارے کو کمزور کرنے کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ بدھ کو سینٹ میں اپنے پالیسی بیان کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ آئی ایس آئی نے پاکستان کی سلامتی اور مفاد کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور حزب اختلاف کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ حکومت کسی بھی طرح اس کے خلاف کچھ کر رہی ہے۔آئی ایس آئی پر حال ہی میں امریکہ، افغانستان اور بھارت کی طرف سے دہشت گردی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اس ادارے کے مثبت کردار کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔پاکستان کی اس انٹیلی جنس ایجنسی کے حوالے سے ایک تنازعہ اس وقت سامنے آیا تھا جب حکومت کی طرف سے 26جولائی کوآئی ایس آئی اور انٹیلی جنس بیوریو کو وزارت داخلہ کے کنٹرول میں دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیاگیا۔ تاہم فوجی حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر ہونے والے ردعمل کے بعد حکومت نے وہ نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئے یہ وضاحت پیش کی کہ اس کا مقصد دراصل آئی ایس آئی اور وزارت داخلہ کے درمیان اشتراک کو مزید مئوثر بنانا ہے اور یہ ایجنسی بدستور وزیراعظم کو ہی جوابدہ ہوگی۔منگل کے روز سینٹ کے اجلاس میں حزب اختلاف نے حکومت کی طرف سے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے کنٹرول میں دینے کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ بھی کیاتھا۔حکومت کو اس معاملے پر اپوزیشن کی طرف سے مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور جس کا مئوقف ہے کہ اس طرح کے فیصلے سے ملکی سلامتی کی خطرہ لاحق ہوگا۔ تاہم منگل کی شب مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف زرداری کے درمیان ملاقات کے بعد باضابطہ طور پر ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے تحت آئی ایس آئی کو واپس وزیراعظم کے زیر کنٹرول کردیا گیا ہے۔ اے پی ایس


No comments: