International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Tuesday, August 5, 2008

نواز ،زرداری بے نتیجہ مذکرات۔ مسئلہ ججز کی نو کر ی کا نہیں آئین کی صحیح تشریح کا ہے ۔تحریر: محمد رفیق، اے پی ایس




پاکستان کے چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کے سربراہان آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کے درمیان گذشتہ منگل کو اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات ہو ئی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف، میاں شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان اسحاق ڈار اور خواجہ آصف کے ہمراہ زرداری ہاوس پہنچے ۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کی معاونت سید خورشید علی شاہ، رضا ربانی اور شیری رحمان نے کی۔اس ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال باالخصوص ججوں کی بحالی، صدر پرویز مشرف کے سیاسی مستقبل اور قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی سمیت اہم معاملات پر بات چیت ہوئی۔ملاقات سے ایک دن قبل پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے اپنی اپنی جماعتوں کے سرکردہ رہنماو¿ں سے مشاورت مکمل کرلی تھی۔ گذشتہ پیر کو پیپلز پارٹی کے مشاورتی اجلاس کے بعد وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ ان کی حکومت تمام ججوں کو سینارٹی کے مطابق بحال کرنے کو تیار ہے لیکن ان کے بقول معزول ججوں کو صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں نیا حلف اٹھانا ہوگا۔ جبکہ میاں نواز شریف نے اپنی جماعت کے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ یہ ایک فیصلہ کن ملاقات ثابت ہوسکتی۔ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) نے انہیں اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جا کر فیصلے کرسکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماء نے یہ بھی کہا تھا کہ آصف علی زرداری کے ساتھ ان کی ملاقات کا ایجنڈا ان کا وہ خط ہوگا جو سولہ جولائی کو انہوں نے پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین کو بھیجا تھا۔ اس خط میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر ججوں کو بحال کیا جائے، صدر مشرف کا مواخذہ کیا جائے اور اتحادی پارٹیوں کی مشاورت سے نئے صدر کا نام طے کیا جائے۔ میاں نواز شریف سے جب پوچھا گیا تھا کہ منگل کی ملاقات میں اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تو کیا وہ کوئی نئی ڈیڈ لائن دیں گے تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ کوئی ڈیڈ لائن نہیں دیں گے کیونکہ اس سے حکمران اتحاد کو خطرہ لاحق ہوگا اور وہ نہیں چاہتے کہ ڈکٹیٹرشپ کو کوئی موقع ملے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون اتحاد میں شامل رہے اور اس میں رہتے ہوئے عوام کے مسائل کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کے باوجود بھی کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو پھر یقیناً کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔ پاکستان کا میڈیا میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیاں ہونے والی ملاقات کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے اس سے یہ نتیجہ اخذ کر رہا تھا کہ حکمران اتحاد کے ٹوٹنے یا برقرار رہنے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ لیکن بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ججوں کی بحالی سمیت مختلف معاملات پر دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے درمیاں واضح اختلاف رائے ہونے کے باوجود بھی مسلم لیگ (ن) حکمران اتحاد سے علیحدگی جیسا کوئی بڑا فیصلہ عجلت میں نہیں کرنا چاہتی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ انہیں احساس ہے کہ اس طرح کے کسی فیصلے سے صدر مشرف کی حامی مسلم لیگ (ق) کو پنجاب میں تقویت مل سکتی ہے جو کہ مسلم لیگ (ن) کے سیاسی وجود کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو بطور سیاسی جماعت جہاں سخت چیلنجز کا سامنا ہے وہاں ان کی حکومت کی مشکلات میں بھی آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی حکومت کے مبینہ غیرمقبول ہونے کا سبب بن رہی ہے تو دوسری طرف اتحادی جماعتوں کی ناراضگی اور اختلافات ان کے مستحکم اور مضبوط ہونے میں آڑے آرہی ہیں۔ ججوں کی بحالی کے سوال پر مسلم لیگ (ن) کے وزراءکی جانب سے کابینہ سے علیحدگی کے بعد وہ وزارتیں تاحال خالی ہیں اور ان کا اضافی چارج دیگر وزراء کے پاس ہوتے ہوئے بھی معاملات ٹھیک سے چلتے نظر نہیں آتے۔ پیپلز پارٹی کو حکومت میں ایک سو روز سے زیادہ ہو چکے ہیں لیکن اب بھی حکومت پر ان کی مکمل گرفت دکھائی نہیں دیتی۔ قومی احتساب بیورو سمیت متعدد اداروں میں اب تک وہی ریٹائرڈ یا حاضر سروس افسر تعینات ہیں جو صدر پرویز مشرف کے منظور نظر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ گیس کے نرخوں میں ایک دم سے تیس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا جو کہ کبھی غیرسیاسی دور میں بھی اتنی بڑی شرح میں ایک دم سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ بجلی پر پندرہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس کی جو چھوٹ مشرف دور میں دی گئی وہ موجود ہ حکومت نے واپس لے لی ہے۔ جب تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے لوگ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہوں وہاں گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ غریب اور متوسط طبقات کے لیے یقینا کسی خود کش حملے سے کم نہیں ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے موجودہ حکومت کی مقبولیت بھی بڑی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو انہیں بہت جلد گھر بھیجنے کا صدر پرویز مشرف کا کام آسان ہوجائے گا۔ جیالے ،جماعت کی بقا اور حکومت کے لیے بھرپور خطرات کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ ہفتوں میں اگر صدر پرویز مشرف کو نہیں ہٹایا گیا تو وہ اس حکومت کو چند ماہ میں چلتا کردیں گے۔ اسٹیبلشمینٹ نے کبھی پیپلزپارٹی کو برداشت نہیں کیا۔ اگر چہ ’پہلی بار پیپلز پارٹی کو چاروں صوبوں میں بھرپور نمائندگی ملی ہے اور مارچ دو ہزار نو میں جب ایوان بالا سینیٹ کے نصف اراکین کا انتخاب ہوگا تو سینیٹ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے گی جوکہ اسٹیبلشمینٹ کبھی نہیں چاہے گی۔‘ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو تیزی سے غیرمقبول کرنے کا کام شروع ہوگیا تاکہ سینیٹ کے الیکشن سے قبل ہی کام تمام ہوجائے۔حکومت کو فوری طور پر مہنگائی کم کرنے، پارٹی کے ناراض ساتھیوں کو یکجا کرنے، صدر پرویز مشرف کو ہٹانے پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں رواں سال نومبر میں امریکی انتخابات سے پہلے صدر پرویز مشرف کو ہٹانا پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کے لیے بڑا مشکل کام ہے کیونکہ بش انتظامیہ کی مداخلت کا خدشہ ہے۔ امریکہ جسے ساری دنیا بات کرتے وقت معذب ملک کہتی ہے۔َامریکہ کو ترقی یا فتہ ملک کہنا سمجھ میں آتا ہے ۔ لیکن مہذب وہی کہہ سکتے ہیں جن کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو اپنی قوم کیلئے کئی ایک قوموں کو تباہ و برباد کر کے ان کے وسائل پر قبضہ کر لے اور دنیا بھر کے ملکوں میں عدم استحکام اور ظالمانہ معاشی پا لیسیوں کی وجہ سے ایک عام آدمی Commen People )) کو ذہنی اور جسمانی طور پر پر معذور کر کے رکھ دے۔ جس کی وجہ وہ ممالک جن کے حکمران، حاکم کم اور امریکہ کے ایجنٹ اور غلام زیادہ ہیں اور اس کے مفادات کیلئے کا م کر تے ہیں۔ انھیں اپنے عوام سے کو ئی خطرہ نہ ہو اس لئے ضروری ہے کہ انھیں بے روزگاری، نا انصافی، مہنگائی جیسے بحرانوں کے تا بع کر دیا ہوا ہے۔ امریکہ کے ان عزائم اور حکمت عملی کو جب آپ بغور مشاہدہ نظرثانی کر یں تو آپ کیسے امریکہ کو مہذب کہہ سکتے ہیں۔تہذیبوں کا مطالعہ کرنے والے دانشور ہی بتا سکتے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بسنے والے لوگوں کو ایک قوم کا درجہ دیا جانا چاہیئے یا نہیں امریکہ کے نو آبادیاتی معاشرے کی بنیاد کی اساس”جس کی لاٹھی ا±س کی بھینس“ کامقولہ تھا اسی یک نکاتی نظریے پر عمل کرتے ہوئے یوررپی حملہ آوروںنے امریکی معاشرے کی بنیاد رکھی۔ یورپی حملہ آوروں اور آبادکاروں میں اکثریت جفا پیشہ افراد کی تھی ۔ان افرادنے ” مارو یا مر جاو “ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے مقامی آبادی کو ا±ن کی اپنی زمینوں سے بے دخل کر دیا اور ایک نئی تاریخ رقم کی۔یورپی آباد کاروں کے بعد روس اور بعد ازاں جرمنی سے یہودیوں کے انخلا سے صیہونی سرمایہ کاری نے امریکی معیشت کو د±نیا کی امیر اور مضبوط ترین معیشت بنا دیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد نو آبادیاتی نظام تو ختم ہو گیا مگر جنگ کے بعد ا±بھرنے والی عالمی طاقتوں نے معاشی امداد اور عالمی اداروں کی آڑ لے کرکمزور ممالک پر اپنا سیاسی تسلط قائم رکھا۔ سرد جنگ کے دوران ایک د±نیا میں ایک طاقت کا توازن قائم رہا اور عالمی طاقتیںعسکری محاذآرائی سے گریز کرتی رہیں۔ امریکہ اپنے زیرِ اثر کمزور ممالک میں اپنی پسند کی حکومتیں لاتا رہا اس کے لئے اکثر ممالک میں بغاوتوں کے لئے امریکی سرمایہ کے ساتھ امریکی خفیہ ایجینسیاںبھی سرگرم عمل رہیں۔افغانستان سے روس انخلا کے بعد روس کی شکست و ریخت کاسلسلہ شروع ہو گیا ۔یہ د±نیا میں بسنے والے تمام انسانوں کی بالعموم اور مسلمانوں کی بالخصوص بدقسمتی ہے کہ آج پو ری د±نیا امریکی عالمی طاقت کے زیرِ اثر ہے۔ امریکہ اپنے مفادات کا پوری د±نیا میں تحفظ کرتا ہے چاہے اس کی قیمت دوسری اقوام کی آزادی اور خود مختاری ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ ساتھ عالمی ضمیربھی م±ردہ ہو چکا ہے۔ گیارہ ستمبر کے سانحے ذمہ دار افراد کو سزا دینے کے لئے پہلے افغانستان کو تباہ کیا ، پھر عراق کو اور اب پاکستان پر ہر ہفتے میزائل داغے جاتے ہیں۔تین ہزار سے کم افراد کی ہلاکت کے بدلے امریکہ اب تک پچیس لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک کر چکا ہے اور ا±س کے بدلے کی آگ ہے کہ اور بھڑکتی جا رہی ہے ۔ معصو م لوگوں کی ہلاکتیں مزید ہلاکتوں کا سبب بنتی ہیں۔اسی لئے شاید اب امریکہ انجانے خوف میں مبتلا ہو چکا ہے اور مزید ہلاکتوں پر ت±لا ہوا ہے۔ اپنے ملک سے لاکھوں میل کی دوری پر رہنے والے غیر ترقی یافتہ قبائلی لوگوں سے امریکہ جیسی طاقت کو نہ جانے کونسے خطرات لاحق ہیں۔ جو اب پاکستان کی حکومت کو مزید قبائلی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ایک ایسی عالمی طاقت جو اپنے انتہائی جدید سیٹیلائٹ نظام سے د±نیا کے کسی مقام کی تصاویر لے سکتی ہے جس نے افغانستان کی غاروں پر د±نیا کے وزنی ترین بم برسائے۔ جس کی خفیہ ایجینسیوں کا نیٹ ورک پوری د±نیا میں پھیلا ہوا ہے وہ آٹھ نو سال سے اسامہ بن لادن کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔اور اسی اسامہ کی تنظیم القاعدہ کے کئی مشتبہ ارکان امریکی عقوبت خانوں میں ہر روز موت سے سے پہلے ہزار موتیں مرتے ہیں ۔ ویسے سچ تو یہ ہے کہ ا±سامہ کے بھوت کو زندہ رکھنے میں امریکہ کا فائدہ ہی فائدہ ہے ۔ اسی بہانے وہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام مسلمان ممالک کو یکے بعد دیگرے اپنے غضب کا نشانہ بنا سکتا ہے۔اور اپنے نورِ نظر اسرائیل کو خوش رکھ سکتا ہے۔امریکہ نے د±نیا میں جو قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے اس کا وہ تنہا ذمہ دار نہیں بلکہ تمام اقوامِ عالم کا مردہ ضمیر بھی اس کا ذمہ دار ہے۔حیرت کی بات ہے کہ اب تک کسی بین الاقوامی فورم پر امریکہ کے بڑھتے ہوئے جارحانہ عزائم کے خلاف کوئی تحریک پیش نہیں ہوئی۔ اقوامِ متحدہ کو مردہ گھوڑا قرار دینے والے تو بہت ہیں مگر او ۔ آئی ۔ سی ، عرب لیگ اور غیر جانبدار تحریک بھی اس سلسلے میں کوئی قرارداد سامنے لانے میں ناکام رہی ہیں اور نہ ہی ان تنظیموں کے ر±کن ممالک عالمی امن کو بچانے لئے کسی لائحہ عمل پر متفق ہو سکے ہیں۔ کیا عالمی انسانی ضمیر ان سوالوں کے جواب دے سکتا ہے کیا امریکہ د±نیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا سب سے بڑا ملک نہیں؟ ہیروشیما اور ناگاساکی میں آج بھی امریکی بربریت کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔ افغانستان کے پہاڑ تک امریکہ کو بد دعائیں دیتے ہیںاور دجلہ اور فرات کا پانی پندرہ لاکھ افغانیوں کے خون سے سرخ ہو چکا ہے۔ عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے کیا اتنی جانو ںکا نذرانہ کافی نہیں؟کیا امریکی حاکموں پر عالمی عدالتِ انصاف میں کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا جا سکتا؟کیا گیارہ ستمبر کے سانحے کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کو نہیں کرنی چاہیئے تھی اور پوری د±نیا کو یہ جاننے کا حق نہیں تھا کہ کچھ جنونی عربوں کے جرائم کی سزا کس بنا پر افغانستان اور عراق کو دی گئی۔ کیا کوئی ایسا عالمی قانون نہیں بن سکتا کہ ایک انسانی جان کے بدلے ایک ہی جان لی جائے؟کیا چھوٹے ملکوں کی آزادی اور خود مختاری کو پامال کرنے پر عالمی طاقتوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا؟کیا صرف امریکی شہریوں کا خون ہی مقدس ہے کیا مسلمانوں کے خون کی کوئی حرمت ، کوئی قیمت نہیں؟ایک بلی یا ک±تے کی جان بچانے کے لیے اہلِ مغرب بے تاب نظر آتے ہیں اور فخر سے ایسی مہمات کو ٹی وی پر دکھاتے ہیں کیا مغربی میڈیا کو اتنی آزادی میسر نہیں کہ عراق اور افغانستان میں حشرات الارض کی طرح مرنے والوں کی کہانی بھی دکھا سکیں یا گوانتابے کے اسیروں کے دن رات فلمبند کر سکیں۔کیا امریکی یہ نہیں جانتے کہ ظلم مزاحمت کو جنم دیتا ہے اطاعت کو نہیں۔کیا امریکی قوم اپنے حاکموں کے جارحانہ عزائم پرکوئی قدغن نہیں لگا سکتی؟کیاد±نیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے باشندے چھوٹے ملکوں کی آزادی اور خود مختاری کے قائل نہیں۔یا دورِ جاہلیت کی طرح آج بھی د±نیا میں طاقتور اپنا ہی قانون بنانے کے لئے آزاد ہے؟ بات شروع ہوئی تھی نواز زرداری کی فیصلہ کن ملاقات کی بہر حال دنیا بھر کے اہل قلم بھی جب تک ظالم اور مظلوم میں توازن پیدا کر نے کے حربے کو ختم نہیں کرتے وہ بھی وہ نتائج حا صل نہیں کر سکتے جن کا احترام آدمیت کے تحفظ کیلئے ضروری سمجھا جا تا ہے۔بات پھر دوبارہ وہیں سے شروع کر تے ہیں جومو ضوع کا عنوان ہے۔بے نظیر کے سیا سی جانشینوں کے کا نوں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے وہ الفاظ گونجتے رہنے چاہیں جن میں انہوں نے افتخار محمد چودھری کو اپنا چیف جسٹس قرار دیا اور کہا تھا کہ وہ خود ان کے گھر پر پاکستان کا جھنڈا دوبارہ لہرائیں گی جو پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے تحت اتار دیا تھا۔ ججوں کے بحال نہ ہونے کے ذمہ دار نواز شریف اور آصف زرداری ہیں اور اب یہ ذمہ داری پارلیمان پر بھی عائد ہوتی ہے اور صدر مشرف تو اس معاملہ میں بقول اعتزاز احسن " ایک مجرم ہیں"۔ امریکہ کی وکلاءتنظیمیں، سول سوسائٹی اور جمہوری تنظیمیں تو پاکستان میں ججوں کی بحالی کے حق میں ہیں لیکن امریکی صدر بش اور امریکی حکومت رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ ججز کی بحالی میں اس وقت دلچسپی لے گا۔ جب حکمران، امریکہ کی توقعات پر پو را نہ اترے۔ گذشتہ ما ہ ایک امریکی غیر سرکاری تنظیم نے پاکستان میں کیے جانے والے ایک سروے کے حوالے سے کہا تھا کہ پاکستانیوں کی اکثریت مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتی ہے اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور شدت پسندی کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کی خواہاں ہے۔ نواز شریف ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستانیوں کی اکثریت ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو ملک کا صدر دیکھنا چاہتی ہے۔ واشنگٹن میں قائم انٹرنیشنل ریپبلیکن انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ہونے والے اس سروے میں ملک کے پچاس ضلعوں میں ساڑھے تین سو مقامات پر تقریباً چار ہزار افراد سے سوالات پوچھے گئے تھے۔ ملک کے اقتصادی اور سماجی مسائل کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں ستر فیصد پاکستانیوں کی رائے تھی کہ مہنگائی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جبکہ صرف دو فیصد امن و امان اور خودکش حملوں کو مسئلہ سمجھتے ہیں۔ بہت کم پاکستانی (ایک فیصد سے بھی کم) القاعدہ تنظیم کو اپنے لیے مسئلہ سمجھتے ہیں۔ بہتّرفیصد پاکستانیوں کی رائے میں ان کے معاشی حالات گزشتہ سال کی نسبت زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ اکاون فیصد لوگوں کے نز دیک ملک کو درپیش اہم مسائل حل کرنے میں حکومت کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ چھیاسی فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے اور تریسٹھ فیصد لوگ خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ تراسی فیصد افراد معزول ججوں کی بحالی کے حق میں تھے۔اٹھاون فیصد لوگ موجودہ حکومتی اتحاد کو برقرار رکھنے کے حق میں جبکہ ترپن فیصد لوگوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ ق سے اتحاد کی مخالفت کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے مقبول جماعت کے طور پر سامنے آئی سروے میں شامل لواگوں کا کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں انتخاب ہونے پر چھتیس فیصد لوگ مسلم لیگ ن اور بتیس فیصد نے پیپلز پارٹی کے حق میں ووٹ دیں گے۔ جبکہ گذشتہ ماہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی جانب سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی درخواست پر طلب کیے گئے اتحادی جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے سے اس اجلاس میں کسی اہم فیصلے کی توقع پوری نہ ہو سکی۔ وزیر اعظم ہاوس میں ہونے والا یہ اجلاس چاروں اتحادی جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے بعد پہلا اجلاس تھا۔اس اجلاس کے طلب کیے جانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس کا بنیادی مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال اور ایک مشترکہ پالیسی طے کرنا بتایا تھا۔ پہلے دن کے اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور خفیہ ایجنسیوں کے حکام سربراہان کو سکیورٹی کی صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ یہ حکمراں اتحاد کو اس قسم کی دوسری بریفنگ تھی۔ اگرچہ گذشتہ منگل کوحکمران اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان بنیادی قومی ایشوز کے فوری حل پر اتفاق ہو گیاہے۔اتحادی جماعتوں کے اعتماد میں لینے کے بعد اس کا حتمی اعلان کیاجائے گا۔ دونوں جماعتوں نے صدرپرویز مشرف کے مواخذے اورججز کی بحالی کے حوالے سے بنیادی نکات کی منظوری دی ہے جن کے بارے میں جمعیت العلماءاسلام اور عوامی نیشنل پارٹی کو اعتماد میں لیا جائے گا۔دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین کے درمیان اگلے روز دوبارہ ملاقات ہو گی۔اگرچہ اس وقت یہ سطور آن لائن یا پرنٹ لائن ہو گئی ہوں گی ۔مولانا فضل الرحمن و اسفند یار ولی خان سے بات چیت کیلئے مذاکراتی ٹیم جو کہ سینٹ میں قائد ایوان میاں رضا ربانی اور وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ پر مشتمل ہے۔رابطے شروع کر دئیے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان اہم قومی ایشوز کے حوالے سے زرداری ہاو¿س اسلام آباد میں ساڑھے چھ گھنٹے کے طویل مذاکرات ہوئے مذاکرات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی معاونت رضا ربانی ، سید خورشید شاہ ، شیری رحمن اور جہانگیر بدر نے کی جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی معاونت وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ، سینیٹر اسحاق ڈار ، چوہدری نثار علی خان اورخواجہ آصف نے کی۔دوپہر دو بجے شروع ہونے والے مذاکرات رات ساڑھے آٹھ بجے تک جاری رہے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے بعد دونوں قائدین کے درمیان دوگھنٹے تک ون آن ون ملاقات ہوئی۔ملاقات کے دوران وفاقی وزیر قانون وانصاف فاروق ایچ نائیک کو خصوصی طور پر طلب کیا گیاتھا۔فاروق ایچ نائیک نے حکمران اتحاد کے قائدین کو ججز کی بحالی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی مجوزہ سفارشات کے بارے میں بریفنگ دی۔ملاقات کے دوران ججز کی بحالی کے ایشوز کے حوالے سے وکلاءتحریک کی ڈیڈ لائن کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے معزول ججز کے صدر پرویز مشرف سے حلف کے حوالے سے تجویز کو مسترد کر دیاہے اور اس ضمن میں اپنے تحفظات کا اظہار کیاہے۔دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان بنیادی ایشوز کے فوری حل کیلئے اہم نکات پر اتفاق ہو گیاہے۔ اگرچہ بنیادی ایشوز کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہوئی ہے اجلاس میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ ان بنیادی ایشوز کے ممکنہ حل کے حوالے سے اسفند یار ولی خان اور مولانا فضل الرحمن کو بھی اعتماد میں لیاجائے گامذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے ملاقات انتہائی مثبت رہی ماحول انتہائی خوشگوار تھا دونوں بڑی جماعتوں کے مذاکرات کے بارے میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیاجائے گا۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری اور ان کی مذاکراتی ٹیموں کے اراکین کے درمیان اگلے روز پھر زرداری ہاو¿س میں دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ عوام کو امید تھی کہ اس اجلاس میں پیش رفت ضرور ہوگی۔ ’کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو حکمرانوں یا سیاستدانوں کی نظروں سے اوجھل ہو۔ سب کو معلوم ہے کیا کرنا ہے۔‘ پاکستان کے چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کے سربراہان آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کے درمیان منگل کو اسلام آباد میں چھ گھنٹے کی ملاقات میں اختلافی امور طے نہیں پاسکے اور فریقین کے درمیان اگلے روز بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔دونوں رہنماو¿ں کی مشترکہ بریفنگ کا اہتمام بھی کیا گیا تھالیکن عین وقت پر فیصلہ منسوخ کیا گیا اور زداری ہاو¿س میں چھ گھنٹے گزارنے کے بعد میاں نواز شریف اپنے ساتھیوں کے ساتھ میڈیا سے بات کیے بغیر روانہ ہوگئے۔ظہرانے پر ہونے والی اس ملاقات میں پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کی معاونت سید خورشید شاہ، رضا ربانی، شیری رحمان، جہانگیر بدر اور قمر الزمان کائرہ نے کی جبکہ آخر میں وزیر قانون فاروق نائیک بھی زرداری ہاو¿س پہنچے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر قانون نے حکومت کے تیار کردہ آئینی پیکیج کے ابتدائی مسودے میں ردو بدل کے بارے میں بریفنگ دی۔ میاں نواز شریف کے زرداری ہاو¿س میں موجودگی کے دوران چین کے سفیر آصف علی زرداری سے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت ملاقات کے لیے پہنچے۔ واضح رہے کہ اس ملاقات سے محض ایک روز قبل میاں نواز شریف نے لاہور میں جبکہ آضف علی زرداری نے اسلام آباد میں اپنی جماعت کے سرکردہ رہنماو¿ں سے مشاورت کی تھی۔ پیپلز پارٹی کے مشاورتی اجلاس کے بعد وزیر قانون فاروق ایچ نائیک سے منسوب ذرائع ابلاغ میں یہ خبر نشر ہوئی کہ ’حکومت تمام ججوں کو سینارٹی کے مطابق بحال کرنے کو تیار ہے اور معزول ججوں کو صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں نیا حلف اٹھانا ہوگا‘۔ لیکن منگل کو فاروق نائیک نے اس کی تردید کی اور کہا کہ معزول چیف جسٹس کے علاوہ دیگر ججوں کو موجودہ چیف جسٹس سے حلف لینا ہوگا۔پیر کو لاہور میں میاں نواز شریف نے اپنی جماعت کے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ منگل کو آصف علی زرداری کے ساتھ ان کی ملاقات فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) نے انہیں اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جا کر فیصلے کرسکتے ہیں۔ گذشتہ منگل کو نواز زرداری ملاقات سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکمراں اتحاد کے مذکرات جو پہلے دن بے نتیجہ رہے ہیں وہ اگلے دن بھی بے نتیجہ ہی رہیں گے اور معزول ججز کی بحالی اور مشرف کا مواخذہ کرنا حکمران اتحاد کی بس کی بات نہیں اس ضمن میں عوام کا یہ بھی جا ننا بہت ضروری ہے کہ زرداری اور نواز لیگ کا وطن واپس آنے پر مشرف کے ساتھ وہ کو نسی شرائط تھیں جن کی نواز، زرداری پا سداری کرتے ہوئے ابھی تک کسی بھی بحران پر قا بو نہیں پا سکے اور ڈھنگ ٹپا ئو اور حکومت کرو فارمولے پر عمل کر تے ہوئے مزید لا را لپہ دیکر پھر ایک دو ما ہ کیلئے لندن،دوبئی روانہ ہو جا ئیں گے۔ جبکہ معزول ججوں نے بحا لی کے لئے دوبارہ حلف اٹھا نے کی پیشکش مستر د کر دی ہے دوبارہ حلف اٹھا نا ایسا ہی ہے کہ 3 نو مبر کے اقدام کو درست تسلیم کر لیا جا ئے اوراگر نو کر ی بچانا مقصد ہو تا تو 5نو مبر کو ہی معزول جج حلف اٹھا لیتے۔ مسئلہ نو کر ی کا نہیں آئین کی صحیح تشریح کا ہے ۔ آئین کے مطابق اس ملک میں آرٹیکل دو سو نو یعنی سپر یم جو ڈیشل کو نسل کے بغیر ججوں کو نہیں ہٹایا جا سکتا حلف اٹھا نے کا مطلب برطرفی کا فیصلہ درست تسلیم کر نا ہے۔اے پی ایس







No comments: