International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, August 6, 2008

آئی ایس آئی کے خلاف ہر قسم کی سازش کو ناکام بنا دی جائے گی ۔سینٹ میں اپوزیشن اراکین کا اظہار خیال

اسلام آباد ۔ سینٹ میں اپوزیشن کے ارکان نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے خلاف ہر قسم کی سازش کو ناکام بنا دی جائے گی ۔ ملکی دفاع کے لیے آئی ایس آئی کا کردار دنیا کے سامنے ہے ۔ ملک کی دو بڑی شخصیات اپنا آدھا سرمایہ پاکستان لے آئیں تو ملک کی معیشت مستحکم ہو سکتی ہے ۔ آئینی پیکج شیطانی آنکھ ہے جس کی سمجھ حکمران اتحاد ی جماعتوں کو بھی نہیں آئی ۔ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے ہوشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ منگل کو اے این پی کے سینیٹر حاجی محمد عدیل نے ملک کی سلامتی اورتحفظ سے متعلق بیرونی عوامل پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہمیشہ آمروں اور غیر منتخب لوگوں کو منتخب نمائندوں کی نسبت زیادہ اہمیت دیتا ہے مگر جو مرجاتے ہیں تو امریکہ ان کے لیے زمین تنگ کردیتا ہے ا نہوں نے کہا کہ جب صدر پرویز مشرف امریکہ گئے تھے تو وزراء کے جوتے اتار کر تلاشی لی گئی اور انہیں ننگا کیا گیا مگر ہمارے وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دورن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ جب صدر پرویز مشرف نے پاکستان کو امریکہ کے سامنے پیش کردیا تو صدر بش نے انہیں مالی امداد دی مگر 10 ارب کہاں گئے کوئی جنہیں جانتا انہوں نے کہا کہ ہم ایٹم بم اور اسلحہ سے تنگ آچکے ہیں۔ ایٹم بم پر 36 ارب ڈالر خرچ کیے گئے اور اتنا ہی ہم پر غیر ملکی قرضہ پاکستان کے ذمہ واجب الادا ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کی تحقیقات کے لیے پارلیمنٹ کی کمیٹی تشکیل دی جائے افغان صدر ایک منتخب صدر ہیں جنہوں نے کہا کہ ان کے پاس آئی ایس آئی کے خلاف ثبوت ہیں جنہیں وہ پیش کریں گے مگر یہاں کا صدر منتخب بھی نہیں اور ایک جاتی ہوئی پارلیمنٹ نے منتخب کیا جو غیر قانونی تھا سینیٹر وسیم سجاد نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی کو محب وطن ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بیان دینے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر وزارت کا اپنا کام ہوتا ہے ان تمام وزارتوں کو وزارت داخلہ کے ماتحت نہیںکیا جاسکتا کہ یہ ملک کے اندر کام کررہی ہیں اور اگر ان وزارتوں کو وزارت داخلہ کے ماتحت نہیں دیا جا سکتا تو پھر آئی ایس آئی کو کیوں دیا جائے ۔ا نہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کا ملکی سلامتی کے لیے کردار دنیا تسلیم کرتی ہے یہ ادارہ صحیح انداز میں کام کرتا ہے تو پوری قوم سکون کی نیند سو سکتی ہے ۔ اس ادارے کا کام ملک کے باہر ہوتا ہے اس لیے اس کو وزارت داخلہ کے ماتحت نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کو سویلین کے زیر کنٹرول ہونا چاہیے ۔ اور اس کو وزیراعظم کے ماتحت ہی ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں ایک انٹیلی جنس کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کا واقعہ عراق جنگ اور کئی دوسرے واقعات اس لیے رونما ہوئے کہ اس میں خفیہ ادارے معلومات حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ سینیٹر عبدالرحیم مندوخیل نے بحث مین حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ امریکہ انے مقاصد کے حولے سے کامیاب تھا مسئلہ کا ریٹ نہیں بلکہ ملک کو درپیش مسائل کا حل تھا انہوں نے کہا کہ ملک پر میزائل حملے ہو رہے ہیں ۔ میزائل حملوں میں پاکستان کے اندر غیر ملکی مارے جا رہے ہیں یہ ایک سنجیدہ پہلو ہے ہماری سرزمین کے اندر یہ لوگ کیا کررہے ہیں یہ ایک سنجیدہ پہلو ہے ۔ ہماری سرزمین کے اندر یہ لوگ کیا کررہے ہیں ۔ قبائل عمائدین کو ذبح کیا جا رہا ہے ۔ ہمیں سکھایا جارہا ہے کہ اسلام کیا ہے ۔ سینیٹر ڈاکٹر خالد سومرو نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوستی کا رشتہ نہیں بلکہ غلام اور آقا کا ہے اور غلام کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ آقا کی بات ماننے سے انکار کردے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جہادپر یقین رکھتے ہیںا ور اس سے انکار کفر ہے ۔ ہم مجاہدین کے خیر خواہ اور مجاہدین کی مخالفت کرنے والوں کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں طالبائنزیشن کے حوالے سے بیانات دے کر مسائل پیدا کیے جا رہے اور حالات خرا ب کیے جا رہے ہیں ۔ ہمیں ملک کی سلامتی اور مسلمانوں کے لیے سوچنا چاہیے ۔ سینیٹر ایس ایم ظفر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے قوم کو سخت مایوس کیا ۔ وزیراعظم کے دورہ امریکہ سے ملک اور وزیراعظم کا اپنا تشخص مجروح ہوا ۔ آزادی کو بیچ کر عزت کی توقع ممکن نہیں اور باہر جا کر وہی سلوک ہوتا ہے جو ہمارے وزیراعظم کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیںپتہ نہیں کہ حکومت کہاں ہے ۔ پارلیمنٹ کے اندر ہے یا پارلیمنٹ کے باہر ۔ انہوں نے کہا کہ آج غربت کی حالت الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی ۔ ان حالات میں فیصلے ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے ۔ آج کوئی فیصلے نہیں ہو رہے ۔ اس وقت ملک کودرپیش مسائل ہماری کمزوریوں کے باعث ہے ۔ اگر ہم اپنی کمزوریوں کو دور کرلیں اور اپنے معاملات حل کرلیں تو ملک آگے بڑھ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے آئینی پیکج ایک شیطانی آنکھ سے کم نہیں اس پیکج سے خود حکومتیں اتحادی جماعتیں پریشان ہیں کیونکہ اس میں ترمیم در ترمیم پیش کی جا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری تجویز بہترین ہے کہ معزول ججوں کو ایک سادہ آئینی ترمیم کے ذریعے بحال کردیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے دو بڑے لیڈروں کے پاس اتنے اثاثے باہر ہیں اگر وہ ان کا آدھا حصہ ملک کے اندر لے آئیں تو آج ڈالر 72 روپے سے کم ہو کر 62 روپے تک ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںو کشمیر میں انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوںکے خلاف کارروائیوں اور مظالم کی مذمت کی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو دورہ امریکہ سے قبل سینٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا تاکہ وہاں ان کے لیے مسائل پیدا نہ ہوتے اور وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی دورے کے دوران اپنے خاندان کے لوگوں کو ساتھ نہیں دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے کہ اس نظام کو گرہن لگ جائے ۔ سینیٹر یاسمین شاہ نے بحث میں حصہ لیتے ہو ئے کہا کہ ملک اس وقت شدید مسائل اور کرب سے گزر رہا ہے اور اگر بروقت اس پر توجہ نہ دی گئی تواس ملک کو شدید خطرہ ہے آئی ایس آئی جیسے ملکی دفاع کے ادارے کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے وزارت داخلہ کے ماتحت کردیا گیا اور بعد میںا س کی تردید کی گئی مگر اس نوٹیفکیشن کو اب تک واپس نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے غیر ملکی آقاؤں کو تبادلے کہ آئی ایس آئی کی ملکی دفاع کے لیے خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آئی ایس آئی کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کی گئی ہے ۔ آصف علی زرداری دوسرے اداروں کی طرح آئی ایس آئی کو بھی اپنے تابع کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی پاکستان کی فرنٹ لائن ڈیفنس اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ ہے جس پر عملدرآمد کے لیے بنیادی کردار امریکہ کے لیے پاکستان کے نئے سفیر حسین احمد حقانی ہیں ۔ اس کے بعد اس منصوبے میں مشیر داخلہ رحمن ملک بھی شامل ہیں جبکہ ا س منصوبے کے تحت اس کی آخری منظوری آصف علی زرداری دیں گے۔

No comments: