International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Sunday, August 3, 2008

پاکستان میں بھکاری مافیا کے ہاتھوں ’ ’ شاہ دولہ کے چوہوں ‘‘ کا استحصال

اسلام آباد ۔ جینیاتی مسائل کی وجہ سے چھوٹے سر، تلے کان ، ناک اوردبلے بدن کے ساتھ پیدا ہونے والے سیکڑوں نوجوان اور بچے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گجرات کے گلیوں ، بازاروں میں بھیک مانگتے نظرآتے ہیں .ان چھوٹے سر والے بچوں اور نوجوانوں کو ان کے والدین بچپن ہی میں بھکاری مافیاؤں کے ہاتھ فروخت کردیتے ہیں جو انہیں 17ویں صدی کے بزرگ شاہ دولہ کے نام پر ان کیچوہے قرار دیتے ہوئے ان کا استحصال کرتے اور ان سے شہر شہر،گاؤں گاؤں بھیک منگواتے ہیں .گجرات میں اس بزرگ کے مزارکے باہر چھوٹے سر والی 25 سالہ نادیہ ایک چٹائی پر بیٹھی ہے جویہاں آنے والے زائرین سے بھیک دینے کا تقاضا کرتی ہے. ”یہ اللہ کے بچے ہیں.ہمیں ان کی دیکھ بھال کرنے پر فخر ہے”.مزار کے سرکاری متولی اعجاز حسین کا کہنا تھا.اعجازحسین نے بتایا کہ نادیہ ایک چھوٹی بچی تھی جب اس کے والدین 20 سال قبل رات کے اندھیرے میں اسے مزار پر چھوڑ گئے تھے اور اس کے بعد کبھی اس کے والدین کا سراغ نہیں ملا.”اس دن سے ہم اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں لوگوں دعاؤں کے لئے یہاں آتے ہیں اور اپنی خواہشات کی تکمیل چاہتے ہیں لیکن وہ اس کا احترام کرتے ہیں”56 سالہ اعجاز حسین کا مزید کہنا تھا.مقامی روایت کے مطابق جس عورت کے ہاں بچہ پیدانہ ہو،وہ شاہ دولہ کے مزار پر آکر دعا کرے تو اس کے ہاں بچے پیدا ہوجاتے ہیں لیکن اس کو اس کی بھاری قیمت بھی چکانا پڑتی ہے .وہ یوں کہ لوگوں کی ضعیف الاعتقادی کے مطابق پہلا بچہ غیر معمولی طور پر چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہوگا جسے لازمی طور پر خانقاہ کی نذر کرنا ہوگا ورنہ اس عورت کے دوسرے بچے بھی اسی نقص کے ساتھ پیدا ہوں گے.لیکن عملاً اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ واقعتاً اسی وجہ سے بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور اگر میاں بیوں کو کوئی حیاتیاتی یا جینیاتی مسئلہ درپیش ہو تو ان کے ہاں کیسے اولاد جنم لے سکتی ہے. پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے شاہ دولے شاہ کے چوہوں کا استحصال کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی ہے .اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایسے افراد کی دیکھ بھال کے لئے گجرات میں بحالی مرکز قائم کرنا چاہتی ہے.ساٹھ کے عشرے میں جب حکومت نے اس مزارکوسرکاری تحویل میں لیا تھا تو اس کے بعد یہاں چھوٹے سر والے بچوں کو لینے پر پابندی لگا دی گئی تھی،لیکن مزار کے دروازے پر نہ صرف نادیہ آج تک موجود ہے بلکہ شہر کے بھکاری آقاؤں نے اس حوالے سے توہمات کوبھی زندہ رکھا ہوا ہے.دس لاکھ کے قریب آبادی والے صنعتی شہر گجرات میں چھوٹے سر والے بچوں کی بہت زیادہ تعدادایک طویل عرصہ سے تنازعے کی وجہ ہے.بہت سے پاکستانی اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ ظالم بھکاری گینگ بچپن میں بچوں کے سرلوہے سے جکڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے سر چھوٹے رہ جاتے ہیں لیکن حکومت اور انسانی حقوق کے گروپ اس کی تردید کرتے ہیں.ان کا کہنا ہے کہ اس بات کے ثبوت میں کوئی شہادت نہیں ملی.حالیہ طبی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں آپسی خاندانوں خاص طور پرچچا زاد،ماموں زادیا خالہ اور پھوپھی زاد کے درمیان شادیوں کی وجہ سے ایک جیسے جینز چھوٹے سر والے یا مائیکروسیفالی بچوں کی پیدائش کا موجب ہوتے ہیں.شاہ دولہ مزار کے ایک سجادہ نشین پیر نصیرالدولہ کا کہنا ہے کہ ”چھوٹے سروالے بچوں کی پیدائش کا سبب ڈھونڈنا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے کہ ان ”چوہے بچوں” کا مذہب کے نام پر استحصال ہونے دیا جائے”.سائنس کے سابق پروفیسر اور کئی کتب کے مصنف 70 سالہ پیر نصیر کا کہنا تھا کہ”چوہوں سے متعلق گھڑی کہانیوں کا بھکاری مافیازاور مذہبی گروپ استحصال کرتے ہیں”.انہوں نے بتایا کہ:”یہ لوگ دیہات میں پھرتے رہتے ہیں اور اگر کوئی حقیقی چوہا،چھوٹے سر والا بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے والدین کو رقم دے کراسے خرید لیتے ہیں”. اور پھربڑا ہونے پر وہ ساری زندگی کے لئے ان کی کمائی کا ذریعہ بن جا تا ہے

No comments: