
مسلم لیگ ( ق ) کی جانب سے تجویز کا خیر مقدم ، کانفرنس کے انعقاد سے قومی وحدت کو فروغ ملے گا ، چوہدری شجاعت حسین
اسلام آباد ۔ حکومتی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن ، جمعیت علماء اسلام ف نے صدر پرویزمشرف کی گول میز کانفرنس کی تجویز کو یکسر مسترد کر دیاہے ۔ دونوں جماعتوں نے کہا ہے کہ صدر مہربانی فرما کر رخصت ہو جائیں تو یہی ملک و قوم کے حق میں بہتر ہے ۔ سیاستدان ملک میں قومی یکجہتی کے فروغ کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔جبکہ اے پی ڈی ایم نے بھی کہا ہے کہ گول میز کانفرنس کے بجائے پرویزمشرف مستعفی ہوں ۔ ان کی وجہ سے ملک و قوم گھمبیر مسائل سے دوچار ہے ۔حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ( ق ) نے صدر مملکت کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے اور سیاستدانوں پر زور دیاہے کہ اس بارے میں مثبت سوچ کے ساتھ رائے قائم کی جائے ۔ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے چےئرمین راجہ ظفر الحق ، جے یو آئی ( ف ) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری ، اے پی ڈی ایم کی سنٹرل سٹےئرنگ کمیٹی کے سربراہ لیاقت بلوچ ، اور پاکستان مسلم لیگ ( ق ) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے صدر مملکت کی تجویز کے حوالے سے اپنے رد عمل میں کیا۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ صدر کو مذاکرات کی دعوت دینے کی بجائے مستعفی ہوناچاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پرویزمشرف کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک آج اس مقام پر کھڑا ہے وہ ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے رخصت ہو جائیں قومی پالیسیاں قوم کے منتخب نمائندوں کو بنانی چاہئیں۔ مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا کہ صدر مہربانی فرما کر اپنا بستر گول کر لیں تو بہتر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک یقیناً بحرانوں سے دوچار ہے ان بحرانوں کا حل قومی یکجہتی اور قومی سوچ کے تحت ہی نکل سکتا ہے۔ کیونکہ سرحد ، فاٹا جن حالات سے دوچار ہے اور بلوچستان میں جو کشیدگی ہے اس سے سب آگاہ ہیں ۔ سب کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا ہے ۔پرویزمشرف متنازعہ صدر ہیں ان کی گول میز کانفرنس میں سیاسی جماعتیں کیسے شرکت کر سکتی ہیں ۔حکومت کو چاہیے کہ وہ قوم میں یکسوئی کے لیے اے پی سی بلائے ۔لیاقت بلوچ نے کہا تمام مسائل پرویز مشرف کی وجہ سے ہیں ۔ غیر آئینی صدر ہیں 18 فروری کے انتخابی نتائج کا اگر پرویز مشرف کو کچھ احترام ہے تو وہ صدارت سے الگ ہو جائیں۔ حکمران اتحادنے بھی قوم سے پرویز مشرف کے مواخذے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متنازعہ صدر کی کسی بھی تجویز کی کوئی کیسے حمایت کر سکتا ہے ۔ حکمران اتحاد صدر کا مواخذہ کر کے انہیں گھر بھیجے ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ مسلم لیگ ( ق ) سیاسی قوتوںکو مضبوط کرنے کی حامی ہے ۔صدر پرویز مشرف کی تجویز پر سیاست دان مثبت رد عمل کا اظہار کریں۔ حالات کا تقاضاہے کہ اس قسم کی کانفرنس منعقد کی جائے جس کے نتیجے میں قومی وحدت اور یکجہتی کو فروغ حاصل ہو
No comments:
Post a Comment