International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی
Monday, August 4, 2008
اسرائیل نے اراکین پارلیمنٹ رہا کئے تو اتھارٹی کو توڑ ڈالوں گا :محمود عباس
مقبوضہ بیت المقدس ۔ فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین محمود عباس نے اسرائیلی حکومت کو خبرد ار کیا تھاکہ اگر حماس سے تعلق رکھنے والے گرفتار اراکین قانون ساز کونسل کو رہا کیاگیا تو وہ فلسطینی اتھارٹی کو کالعدم قرار دے دیں گے ۔مڈل ایسٹ اسٹڈی سنٹر کی رپورٹ کے مطابق دو برسوں سے اسرائیل نے 45فلسطینی اراکین قانون ساز کونسل کو قید کیا ہوا ہے تاکہ غزہ کے نزدیک سے گرفتار ہونے والے فوجی قیدی کی رہائی کے لیے دباؤ میں استعمال کیا جاسکے۔ محمود عباس کے انتباہ کو ’’ذاتی پیغام ‘‘ قراردیا اور کہاکہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے واضح کردیا ہے کہ ’’وہ استعفیٰ نہیں دیں گے بلکہ فلسطینی اتھارٹی ہی کو ختم کردیں گے ۔‘‘رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے حکام نے اس خبر پر تبصرے سے انکار کردیا ہے ۔ رام اللہ میں موجود باخبر ذرائع کے مطابق محمود عباس یقین رکھتے ہیں کہ قانون ساز کونسل کے اراکین کی رہائی کے بعد قانون ساز کونسل کے اراکین ، سلام فیاض حکومت کے خلاف تحریک پیش کردیں گے ۔ سلام فیاض کی حکومت کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے ۔ فتح اورحماس کے درمیان پائے جانے والے تنازعے کی وجہ سے فلسطین قانون ساز کونسل عملاً مفلو ج ہوچکی ہے ، فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کو اسرائیلی اخبار کے مطابق خدشہ ہے کہ ان اراکین کی رہائی سے حماس کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور فتح کی مقبولیت میں کمی آئے گی۔ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے مبینہ تعاون سے مغربی کنارے کے اسلامی اور نیم اسلامی اداروں کے خلاف کاروائی شروع کردی ہے۔ سکولوں ، یتم خانوں ،خیراتی اداروں ، تجارتی مراکز ، صحت و مالیات کے اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اسرائیلی جیلوں میں قید رہنے والے نمایاں فلسطینی راہنماؤں میں فتح کے راہنما مروان برغوثی ،عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے راہنما احمد سعدات اور فلسطینی پارلیمان کے سپیکر عبدالعزیز دویک شامل ہیں۔ حماس کا مطالبہ ہے کہ گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے میں ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیاجائے ، ان میں قانون ساز کونسل کے اراکین بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ حماس کے مطالبات تسلیم کرنے سے اسے زیادہ مقام مل جائے گا جبکہ موجودہ حکومت اسرائیل کے احکامات پر زیادہ اچھا عمل درآمد کررہی ہے ۔ فلسطینی قیدیوں کے مسئلے پر غیر معمولی طور پر سنجیدہ ہیں کیونکہ ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد جیل میں زندگی گزار رہاہے اور اس کے ان کی نفسیاتی زندگی پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment