International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, August 4, 2008

ہزار فیصد یقین سے کہتا ہوں کہ بلوچستان میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے ۔صدر پرویز مشرف




کوئٹہ ۔ صدر پرویز مشرف نے ملک کی مجموعی معاشی صورتحال اور بلوچستان کے حالات پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے اس کی فوری بہتری کیلئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے پیر کو یہاں گورنر ہاؤس میں ایوان صنعت و تجارت کے ایک وفد سے بات چیت اور گورنر کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہو ئے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معاملات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے وہ سو فیصد نہیں بلکہ ایک ہزار فیصد یقین سے کہہ رہے ہیں کہ بھارت اور دیگر ممالک بعض بھٹکے ہوئے عناصر کو مدد فراہم کر رہے ہیں پیسہ اور دیگر امداد فراہم کی جارہی ہے ہمیں ان عناصر سے سختی سے نمٹنا ہوگا اور حکومت کو ڈرنے کی بجائے عوام کی طاقت سے ان کا مقابلہ کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو بلوچستان اور ملک کا نقصان ہوگا صوبہ پسماندگی کا شکار رہے گا غربت اسی طرح رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ ان عناصر کو ہر حالت میں روکنا ہوگا ورنہ کیا ہوگا ؟خون خرابہ ہوگا یہ راستہ ٹھیک نہیں ہے یہ راستہ اپنانا بھی نہیں چاہئے تاہم کمزوری سے اس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا حکومت کمزوری دکھائے گی تو نقصان ہوگا طاقت سے مقابلہ کرنا ہوگا اگر ہمارے ایمان میں کمزوری آجائے یا ہم بزدل ہیں تو پھر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون بہادر اقوام ہیں ان کا مقابلہ کریں اور انہیں بھٹکی ہوئی راہ سے سیدھے راستے پر لائیں اسی میں بقاء اور سالمیت ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سیٹلرز کے آباؤ اجداد کی قبریں ہیں انہوں نے اس صوبے کی ترقی میں حصہ لیا ان کو مارنا اور بھاگنا کہاں کی شرافت ہے ۔انہوں نے کہا کہ چھ ماہ پہلے میں کہتا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے آج افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے بدقسمتی سے لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے سیٹلرز کو مارا جارہا ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ یہ عناصر ایسا کیوں کر رہے ہیں ان کا کیا فائدہ ہے یہ کہاں جائیں گے یہ جو کچھ چاہتے ہیں وہ کیسے ممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ریاست یاحکومت یہ برداشت نہیں کرسکتی اگر یہ ایسے کرے تو وہ ریاست نہیں ہوسکتی نہ اس قسم کی اجازت دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات بلوچستان کے فائدے میں بھی نہیں ہے بلوچستان کو نقصان ہوگا صدر پرویز مشرف نے ملک کی مجموعی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ کے دوران جس طرح تیزی سے معاشی صورتحال بگڑی ہے یہ ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے سرمایہ تسلسل کے ساتھ باہر جارہا ہے جبکہ نئی سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے افراط زر بڑھ گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو ٹھیک کرنے کیلئے سیاسی استحکام اولین شرط ہے اس لئے ہمیں ملک میں سیاسی استحکام لانا ہوگا سرمایہ کار پیسے بنانے کیلئے آتا ہے پیسے لوٹانے کیلئے کوئی نہیں آتا ہمیں اس ملک کی سیاسی صورتحال اور امن و امان بہتر کرنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاری آئے جبکہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھانا ہوگا صدر نے کہا کہ حکومت صورتحال کو بہتر بنانے کی کوششیں کر رہی ہے میری ان کے ساتھ مکمل حمایت ہے میری دعا ہے کہ یہ اس صورتحال سے نمٹنے میں کامیاب ہوجائے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو تمام لوگ متاثر ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ ہم خوردنی تیل کی درآمد پر2ار ب ڈالر خر چ کرتے ہیں اس کی درآمد کم کرنی ہوگی اور سورج مکھی اور دوسرے بیجوں کی کاشت کو فروغ دینا ہوگا دنیا بھر میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے ہمیں گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار بڑھنی ہوگی جبکہ گنے کی پیداوار سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے پانی زیادہ صرف ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو کئی چیلنجز درپیش ہیں تاہم ان سب سے نمٹنے کیلئے سیاسی استحکام اولین ضرورت ہے ہمیں امن و امان کی خراب صورتحال ،دہشت گردی اور سرمایے کی بیرون ملک منتقلی جیسے مسائل کا سامنا ہے ان سے نمٹنا ہوگا ملک پر بیرونی دباؤ بھی ہے اس کا ہم تب ہی مقابلہ کرسکتے ہیں جب سیاسی استحکام ہو اور معاشی صورتحال بہتر ہو۔صدر نے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے و فد کے مطالبات کے جواب میں کہا کہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اب حکومت نہیں چلارہے ہیں تاہم ان کے مسائل کے حل کیلئے کوشش کریں گے اور متعلقہ حکام تک یہ مسائل پہنچائیں گے تاجروں کے یہ مطالبات جائز ہیں میں اب حکومت نہیں چلاتا لیکن یہ مطالبات حل کرانے کی کوشش کروں گابینکوں کی شرح سود میں اضافے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تاجروں کو اس سے شکایت ہے مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے مہنگائی کی شرح کو کم کرنے کیلئے کر رہی ہیں ان کا موقف یہ ہے کہ شرح سود میں اضافے سے لیکوڈیٹی بڑھے گی اور انفلیشن کم ہوگی تاہم اس پر ایک بحث ہونی چاہئے تاکہ پتہ چلے کہ انفلیشن بڑھنے کے محرکات کیا ہیں اور اس کو کیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں سڑکوں کی خراب صورتحال سمیت دیگر معاملات سے متعلق تاجروں کے مسائل بھی حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئٹہ میں پینے کے پانی کے لئے 8ارب روپے دیئے لیکن افسوس سے کہنا پڑٹا ہے کہ اس کا فائدہ نہیں اٹھایا گیا ۔صدر نے ملک میں مفاہمت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مفاہمت سے ہی حالات بہتر ہوسکتے ہیں محاذ آرائی سے سب کو نقصان ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ وفاق اور چاروں صوبوں میں مخلوط حکومتیں چلیں گی اور پانچ سال پورے کریں گی ملک ترقی کرے گا اگر یہ ملک ترقی کرے گا تو انہیں بڑی خوشی ہوگی وہ حکومت کو ہر قسم کا تعاون فراہم کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں کسی کے ساتھ بھی مل بیٹھنے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں وہ سب کے ساتھ ملکر چلنا چاہتے ہیںتاکہ ملک کو آگے لے جایا جاسکے اگر محاذ آرائی ہوگی تو معیشت کو ٹھیک نہیں کرسکیں گے چار ماہ میں قومی معیشت کی کیا صورتحال ہوگی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17ارب سے کم ہوکر 11ارب روپے رہ گئے ڈالر کی قیمت بڑھ گئی ہمیں کشکول اٹھاکر کہیں نہیں جانا چاہئے بلکہ صورتحال کی بہتری کیلئے اقدامات کرنے چاہئے پیسہ باہر جانے سے روکنا ہوگا ہم اندرونی ضروریات کو پورا کریں گے تو یہ سب کچھ ہوجائے گاتا ہم اس کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے دنیا کو نظرآنا چاہئے کہ حکومت پانچ سال چلے گی اور پالیسیوں میں تسلسل ہوگا جب لوگوں کو یقین ہوگا کہ پالیسیوں میں تسلسل ہوگا تو سارا پیسہ واپس آئے گا پیسے مانگنے سے کچھ نہیں ملے گا۔ صدر کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو صوبائی وزراء صادق عمرانی اور علی مدد جتک شریک ہوئے جن کا صدر نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سیاست ہر ملک میں ہوتی ہے دشمنی نہیں ہوتیں مجھے پیپلز پارٹی کے وزراء کو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ یہ بھی آئے ہیں ہم سب ایک ہیں ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہئے جس سے نفرتیںیا اختلافات بڑھیں واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اور پیپلز پارٹی اور آزاد گرو پ کے دیگر وزراء نے صدر کی تقربات میں شرکت نہیں کی تاہم مسلم لیگ (ق) اور بی این پی (عوامی)سے تعلق رکھنے والے وزراء نے صدر کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے میں شرکت کی ۔

No comments: