تحریر: سہیل انجم ملک
رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان جو کہ قدرتی وسائل اور معدنےاتی دولت سے مالا مال ہے، مگر بد قسمتی سے قےامِ پاکستان سے لےکر آج تک بلوچستان کے عوام پسماندگی اور محرومےوں کا شکار چلے آ رہے ہےں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو بلوچستان کے صوبے اور لوگوں سے بے پناہ محبت تھی۔ اسی محبت کی بدولت قائد اعظم نے اپنی بےماری اورزندگی کے آخری اےام کوئٹہ مےں ہی گزارے۔ پسماندگی اور محرومےوں کی چکی مےں پسنے والے غےور بلوچ عوام کے استحصال کے ذمہ دار فقط مقامی نواب ، سردار اور وڈےرے ہی نہےں ، بلکہ وفاق مےں بےٹھے ہوئے فوجی و سوےلےن منتخب و غےر منتخب حکمران بھی برابر کے شرےک ہےں۔ بلوچستان مےں جب کبھی مقامی عناصر اور ذمہ داران پر سرکاری سطح پر مسلح فوج کشی کی گئی ، تو اسکے منفی نتائج مرتب ہو کر سامنے آئے۔ وزےراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے لےکر صدر پروےز مشرف کے دورِ حکومت مےں ہونے والی مسلح کاروائےوں نے بلوچ سرداروں کےساتھ ساتھ بلوچ عوام کے اندر بھی منفی سوچ اور فکر کو جنم دےا۔ جس سے صوبہ بلوچستان اور وفاق کے درمےان غلط فہمےوں کی خلےج بڑھتی ہی چلی گئی۔ بلوچستان مےں اربوں روپے ترقےاتی کاموں کے مد مےں خرچ کےے جانے کے باوجود آج تک بلوچستان کے پسماندہ عوام کے تعلےمی ، سماجی ، معاشی حالات ابترنظر آتے ہےں۔ ےوں وطنِ عزےز کا ےہ صوبہ جو قےامِ پاکستان کے وقت سے ہی استحصال کاشکار رہا۔ آج 61 سال گزرنے کے باوجود مقامی لےڈر شپ سمےت قومی سطح پر بھی بلوچستان کی ترقی کے مثبت اور خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہو سکے۔ کہےں سڑکےں بنانے کی اسکےموں پر مذاحمت ، تو کہےں اسکول کھولنے اور دےگر ترقےاتی منصوبوں مےں رکاوٹےں پےدا کی جاتی رہےں۔ لہٰذا اس ساری گھمبےر صورت حال مےں پاکستان کے دوسرے صوبے جو بلوچستان کے قدرتی وسائل سے مستفےد ہوتے رہے، مگر بلوچستان کے عوام کو پسماندگیوں اور محرومےوں کے سوا کچھ نہ ملا۔ جسکے ذمہ دار ماضی کے حکمران ہےں۔ جنکی ذہنی نا پختگی اور غےر دانشمندی نے معاملات کو مزےد الجھا دےا۔ مےر ظفر اﷲ جمالی جوشروع سے مسلم لےگی چلے آ رہے ہےں، اور پچھلے دورِ حکومت مےں پاکستان مسلم لےگ (ق) کی طرف سے بلوچستان کے پہلے وزےراعظم منتخب بنے۔ جبکہ مےر ظفر اﷲ جمالی کے کزن جان محمد جمالی اےوانِ بالا مےں ڈپٹی چئےرمےن کے اہم عہدے پر فائز ہےں۔ مگر بد قسمتی سے وزےراعظم اور چوہدری برادران مےں اختلافات کی پاداش مےں بلوچستان کے اےک انتہائی سےنئر اور شرےف النفس وزےراعظم مےر ظفر اﷲ جمالی کو مستعفیٰ ہونے پر مجبور کر دےا گےا۔ جمالی خاندان اور قبےلہ بلا شک و شبہ اےک شرےف ، صاحبِ کردار اور خدا خوف گردانا جاتا ہے۔ مگر تمام تر عہدے اور منصب ہونے کے باوجود بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کےلئے کوئی اہم اور نماےاں کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔ 18 فروری 2008 کے انتخابی نتائج مےں پاکستان پےپلز پارٹی ، ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ اور پھر پےپلز پارٹی کے کو چئےرمےن آصف علی زرداری نے بلوچ مذاحمت کار عناصر سمےت سب کو ساتھ لےکر چلنے کا عزم کےا ۔ اور جذبہ غےر سگالی کے طورپر سابق وزےر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر مےنگل، نواب اکبر بگٹی مرحوم کے بےٹوں اور پوتوں سمےت متعدد قبائلی رہنماو¿ں اور پارٹی کارکنوں کی رہائی عمل مےں لائی گئی۔ اور بعد مےں آصف علی زرداری نے متعدد پرےس کانفرنسوں مےں بلوچستان پر فوج کشی نہ کرنے کی ےقےن دہانی بھی کروائی ہے۔ اور ماضی کے تلخ واقعات پر بلوچوں سے معافی بھی مانگی ہے۔ وےسے تو اس وقت پورا ملک ہی مختلف بحرانوں کا شکار ہے، اسکے باوجود ملک مےں اےک بڑی سےاسی اور عوامی تبدےلی رونما ہوئی ہے۔ مرکز مےں پاکستان پےپلز پارٹی کی حکومت ہے، جبکہ صوبائی سطح پر بلوچستان مےں بھی پاکستان پےپلز پارٹی اور اسکے حماےت ےافتہ ارکان صوبائی اسمبلی ، صوبائی وزےر اعلیٰ نواب اسلم رئےسانی منتخب ہو چکے ہےں۔ وزےرا علیٰ بلوچستان نواب اسلم رئےسانی اےک کم گو دھےمے مزاج والے بالغ نظر سےاست دان جانے جاتے ہےں۔ دےکھنا ےہ ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کےساتھ ملکر کون سی حکمت عملی وضع کرتی ہے۔ جس سے بلوچستان سے پسماندگی ، غربت ، افلاس کا خاتمہ کر کے بلوچستان کے عوام کو بھی ترقی و خوشحالی کے مساوی حقوق مےسر آ سکےں۔ اور صوبائی خود مختاری کے حوالے سے بلوچ قوم پرست رہنماو¿ں کے تحفظات دور کر کے اعتماد کی فضاءکو بحال کےا جا سکے۔ وےسے بھی صوبوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے ”مشترکہ مفادات کی کونسل “ کو فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اور ” نےشنل کمےشن “ کا اےوارڈ بھی جلد لاےا جانا چاہئے۔ پچھلی حکومت کے آخری سال مےں وفاقی وزارتِ بےن الاصوبائی امور کے وزےر سلےم سےف اﷲ خان نے صوبوں کےلئے بعض اقدامات تو ضرور اٹھائے ، مگر انکی مدت وزارت ہی اتنی کم تھی، کہ پچھلی حکومت کے ختم ہوتے ہی تمام معاملات التوا کا شکار ہو گئے۔ مےرے نقطہ نظر کے مطابق بلوچستان کو گےس کی رائلٹی ملنی چاہئے، جےسا کہ صوبہ سرحد کو بجلی کی ، اور اسی طرح دوسرے صوبوں کو اپنے اپنے وسائل کے معاوضے کی تقسےم اس انداز سے ہونی چاہئے، جس سے ہر صوبہ اپنے داخلی امور پر خود مختاری حاصل کر کے اپنے صوبے کے پسماندہ اور پسے ہوئے طبقے کی فلاح و بہبود انکے مسائل بآسانی حل کر سکےں۔ مجوزہ آئےنی پےکج جو کہ اس ماہ ہونے والے اسمبلی اجلاس مےں پےش کےے جانے کی توقع ہے، مےں صوبوں کے وسائل ، رائلٹی اور معاوضے کے حوالے سے متنازعہ امور بھی اس آئےنی پےکج مےں شامل کر کے صوبائی خود مختاری سمےت صوبوں کے وسائل کے ذرےعے عوام الناس کی فلاح و بہبود کےلئے خصوصی پےکجز متعارف کروائے جا سکےں۔ گذشتہ جون کابجٹ نا کافی فنڈز کی وجہ سے بلوچستان حکومت بروقت پےش نہ کر سکی۔ بعد مےں وزےر اعظم سےد ےوسف رضا گےلانی نے 3 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کا اعلان کےا ، تو بلوچستان اسمبلی مےں بجٹ پےش کےا گےا۔ بلوچستان جغرافےائی لحاظ سے وسطیٰ اےشےا ئی ممالک کےساتھ تجارت کے لئے انتہائی اہمےت کا حامل صوبہ ہے۔ لہٰذا اگر وفاقی اور صوبائی حکومتےں اخلاص اور نےک نےتی کےساتھ تمام اہم اور نازک امور کو ڈائےلاگ Concensus کے ذرےعے حل کر لےں، تو ےقےنا وہ دن دور نہےں جب گوادر سمےت پورا بلوچستان بھی پاکستان کا صنعتی اور تجارتی مرکز بن کر ابھرے گا۔ جب اصلاحات کا رےلےف ڈائرےکٹ نچلے اور عام طبقے تک پہنچے گا ، تو پھر عام بلوچوں اور بلوچستان مےں رہنے والے ہر شہری کو ترقی کے اس عمل کو کوئی سردار ، وڈےرہ ےا مسلح طاقت ہر گز نہےں روک پائے گا۔ جب تعلےم کا بول بالا ہو گا ، خوشحالی آئے گی تو بلوچستان کا شہری بھی پاکستان کے کسی اور صوبے کے شہری کے برابر حقوق کا حامل ہو گا۔ مےرے نقطہ نظر کے مطابق ترقےاتی کاموں مےں فنڈز کی تقسےم فقط آبادی کی بنےاد پر نہےں ہونی چاہئے، بلکہ رقبے کی حقےقت کو بھی تسلےم کرتے ہوئے ، ترقےاتی فنڈز مےں آبادی + رقبے کے فارمولے پر بھی عمل کرنا اشد ضروری ہے۔ تاکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان وفاقی اور صوبائی وسائل اپنے مسائل کے مطابق حاصل کر سکے۔ ۔۔
International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی
Monday, August 4, 2008
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment