
اٹھارہ فروری کو کامیاب ہونیوالی سیاسی جماعتوں کو عوام نے انصاف، امن اور ترقی کیلئے ووٹ دیا تھا ہم آہنگی اور رواداری کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا اور جہاں انصاف ختم ہو جائے وہاں جنگل کا قانون چلنے لگتا ہے۔ حکومت کی جانب سے تمام معزول ججز کو دوبارہ حلف اٹھانے کی پیشکش ہے لیکن کوئی باضمیر جج ایسا نہیں کرے گاوکلاءتحریک میں پہلے صرف صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگائے جاتے تھے لیکن اب پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطا بق یہ بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اب ججز کی بحالی میں ممکنہ توقعات نظر آ رہی ہیں ان کے خیال میں اگر حکومت ایجنسیوں کو کنٹرول نہ کر سکی اور امریکہ کی نا فرنانی کی پا داش میںحکومت سمیت این آر ا و سے فیضیاب ہونے والے موجودہ و سابقہ حکمرانوں کو سزا کے طور پر خفیفہ اداروں کو راہ راست پر لانے کیلئے اب امریکہ کی بھی ججز کی بحالی میں د لچسپی بڑے گی اگرچہ ججز کو معزول کر نے کی کئی ایک و جوہات ہیں لیکن ان میں سے ایک گمشدہ افراد کے حوالے سے خفیفہ اداروں کا بھی حوالہ دیا جا تا رہا ہے۔امرہکہ کو قبائلی علاقوں میں پا کستان کی خفیفہ ایجنسیوں سے جو شکا یا ت ہیں اب امریکہ ججز کی بحا لی میں بھی اپنا کر دار ادا کر ے گا کیو نکہ اب اس کا اپنا بھی اس میں مفاد ہے اور اس ضمن میں قا ر ئین تک یہ سطور پہنچنے تک چودھری اعتزاز احسن امر یکہ روانہ ہو چکے ہو نگے اگر چہ وہ کسی تقر یب میں جا رہے ہیں لیکن بعض تجز یہ نگا روں کے خیال میں ججز کی بحالی کے حوالے سے بھی امر یکہ بہادر خود ان سے بات کر ے گا جبکہ عوامی حلقوں میں یہ بھی قیاس آ را ئیاں ہیں کہ یہ بھی شاید ممکن ہو کہ معزول ججز بحال ہو نے کی بجائے مو جو دہ حکمرانوں کی اچانک بساط لپیٹنے کے فورا بعد اس ملک کے وزیر اعظم اور صدر و دیگر کا بینہ کے ممبر ہوں اس ملک میں کچھ بھی ممکن ہے۔ اڈیا لہ جیل سے نکلنے والے وزیر اعظم بن سکتے ہیں تو معزول ججز کے با رے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال یہ تھیں وہ قیاس آ را ئیاں جو عوامی حلقوں میں گفتگو کا مو ضوع بحث بنی ہو ئی ہیں۔ نواز شریف نے آصف علی زرداری کو 16جولائی کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان کی توجہ اس طرف دلائی تھی کہ 18فروری کو عوام نے ہمیں جو مینیڈٹ دیا تھا اس کا احترا م نہیں کیا گیا ۔جنرل پرویز مشرف کا موخذہ ہوا اور نہ ہی مری ڈیکلریشن کے تحت جج بحال کیے گئے خط میں یہ بھی لکھا گیاکہ فاٹا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن اور تیل وبجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے سمیت اہم ملکی معاملات میں مسلم لیگ (ن ) کہیں بھی مشاورت نہیں کی گئی میثاق جمہوریت کے تحت 1973ءکے آئین کی بحالی کے لئے کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی ۔ غربت اور مہنگائی اور بدامنی کے خاتمے کے لئے بھی کوئی اقدامات نہیں کیے جا سکے ۔ اس سے عوام میں مایوسی اور بد دلی پھیل رہی ہے اگر چہ نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ دل و جان سے حکومتی اتحاد کو قائم رکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے عوامی مینیڈیٹ کا احترام معزول ججوں کی بحالی اور چارٹر آف ڈیموکسی کے تحت معاملات کو عملی جامعہ پہنایا جانا ضروری ہے ان کے نزدیک آئی ایس آئی کو سویلین کنٹرول ہونا چاہیے اور اس کا کوئی سیاسی کردار نہیں ہونا چاہیے مسلم لیگ (ن ) کی پارلیمانی پارٹی اور مرکزی مجالس عاملہ نے نوز شریف کو مکمل اختیار دیا ہے کہ آصف علی زروداری کے ساتھ تمام معاملات پر دو ٹوک بات کریں۔نواز شریف سمجھتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف جنہوں نے ملک کا دو بار آئین توڑا اور ملک کی معاشی اور امن و امان کی صورت حال کو تباہ کردیا ان کاآئین کے آرٹیکل 6کے تحت ٹرائل ضروری ہے ۔ ان کے نزدیک مشرف نے صرف آئین ہی نہیں توڑا ملک کی عدالت اور پارلیمنٹ کو توڑنے کے ساتھ ہماری خود مختاروی اور عزت کو بھی پامال کیاہے ۔ مشرف نے آٹھ سال کے دوران جو گھاو¿ لگائے ہیں اس کے نتیجے میں آج ملک کی معاشی صورت حال ابتر ہے ۔اور ملک کو شدید خطرات کا سامنا ہے ۔ بجلی کا بحران مہنگائی اور دیگر مصائب سابق حکمران کی نا قص کاکرداگی کا نتیجہ ہے وزیراعظم (شوکت عزیز ) نے ملک کی معاشی صورت حال کو تباہ کیا وہ لندن میں بیٹھا ہے اور وطن واپس اس لئے نہیں آرہا کہ اسے آٹھ سال کا حساب لیا جائے گا ۔ نواز شریف نے چیلنج کیا ہے کہ شوکت عزیز کو واپس بلایا جائے اور وہ اس کے ساتھ بیٹھ کر معاشی اور قبائلی مسائل پر مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہیں جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کے لئے مائنس ون یا مائنس ٹو فارمولہ قبول نہیں کریں گے ۔ ججوں کی بحالی قومی اسمبلی میں اعلان مری کے تحت قرارداد پیش کر کے ہی کی جانی چاہیے ۔ ہم صرف حکومت کے ان اقدامات کی ذمہ داری قبول کر سکتے ہیں جن میں ہمیں اعتماد میں لیا گیا ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے تیل بجلی گیس کی قیمتیں بڑھاتے وقت ہمیں اعتماد میں نہیں لیا اس لئے ہم اس کی ذمہ داری بھی نہیں لے سکتے ۔اگر ہم سے مشورہ کیا جاتا تو نہ صرف انہیں بہتر مشورہ دیتے بلکہ ان مسائل سے نمٹنے کے لئے بھی تجاویز دیتے ۔حکومت پر امریکی دباو¿ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن ) پر پیپلز پارٹی کا کوئی دباو¿ نہیں ہے اور نہ ہی ہم ایسے کسی دباو¿ کو قبول کرتے ہیں ۔ اپنی زندگی کو درپیش خطرات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ میری سیاست اور خدمات پاکستان کے عوام کو مہنگائی غربت اور بے روز گاری سے نکالنے اور انہیں بہتر ماحول فراہم کرنے کے لئے ہے اگر میری زندگی کو خطرات درپیش ہیں تو میں ڈر کر گھر نہیں بیٹھ سکتا ۔ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے حکومتی کارکردگی کو باریک بینی سے دیکھنے سے متعلق بیان پر انہوں نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ حکومتی معاملات میں دخل دے ہم بھی اس شخص کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں مشرف ہمیں یہ بتائیں کہ انہوں نے آٹھ سال کے دوران پاکستان کے لئے کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے ۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر کیوں شروع نہیں کی گئی بجلی کے نئے کارخانے کیوں نہیں لگائے گئے انہوں نے صرف پلاٹ کی سیاست کی اور پھر جب سے ہم سعودی عرب سے آئے ہیں وہ سازشوں میں مصروف ہیں ہمارے کاغذات نا مزدگی مسترد کروائے جاتے ہیں ۔ اور حکومت کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں پھر حکومتی کارکردگی دیکھنے کے بیان بھی دیتے ہیں موٹروے ہم نے بنائی ایٹمی دھماکے ہم نے کیے غازی بروتھا ڈیم کی تعمیر ہم نے شروع کی کوئٹہ میں کوسٹل ہائی وے بھی ہم نے تعمیر کی انہوں نے تو بمشکل ہمارے شروع کیے ہوئے کچھ منصوبوں کی تکمیل کی ہے آٹھ سال کے دوران معیشت کا جعلی نقشہ پیش کیا گیا اگر پاکستان کی معیشت واقعی مضبوط ہوتی تو صرف چار ماہ کے دوران عوام کو اس قدر معاشی مسائل کا سامنا نہ ہوتا ۔ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال پر عوام کوگہری تشویش ہے اس کی فوری بہتری کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ جس طرح تیزی سے معاشی صورتحال بگڑی ہے یہ ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے ملک کو کئی چیلنجز درپیش ہیں تاہم ان سب سے نمٹنے کیلئے سیاسی استحکام اولین ضرورت ہے ہمیں امن و امان کی خراب صورتحال ،دہشت گردی اور سرمایے کی بیرون ملک منتقلی جیسے مسائل کا سامنا ہے ان سے نمٹنا ہوگا ملک پر بیرونی دباو بھی ہے اس کا ہم تب ہی مقابلہ کرسکتے ہیں جب سیاسی استحکام ہو اور معاشی صورتحال بہتر ہو۔ اگر محاذ آرائی ہوگی تو معیشت کو ٹھیک نہیں کرسکیں گے چار ماہ میں قومی معیشت کی کیا صورتحال ہوگی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17ارب سے کم ہوکر 11ارب روپے رہ گئے ڈالر کی قیمت بڑھ گئی ہمیں کشکول اٹھاکر کہیں نہیں جانا چاہئے بلکہ صورتحال کی بہتری کیلئے اقدامات کرنے چاہئے۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment