International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی
Tuesday, August 5, 2008
سفارتخانے پر بم دھماکہ افغان، بھارت دوستی پر حملہ ہے ۔من موہن سنگھ
نئی دہلی ۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے دورہ بھارت کے دوران دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کر نے اور دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو بر قرار رکھنے کے لئے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مل کر کوششوں پر زور دیا ہے من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے جنوبی ایشیا ء کے خطے اور بھارت،افغانستان کی سیکورٹی اور امن کے لئے ایک سنجیدہ اور دھمکی آمیز صورتحال اجاگر ہوئی ہے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ وہ اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی مشترکہ عزم کے ساتھ متحد ہو کر اس دھمکی کے خلاف جنگ کر نے پر متفق ہیں انہوں نے افغانستان کے صدر کی آمد اور ان سے بات چیت کے دوران میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ دونوں راہنماؤں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسی دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی جو ان کے ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی راہ میں حائل ہو سکے انہوں نے کہا کہ ہماری ایمبیسی پر سات جولائی کو ہو نے والا حملہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی کو کسی بھی رکاوٹ کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ یہ افغانستان اور بھارت کی دوستی پر حملہ تھا انہوں نے اس طرف اشارہ بھی کیا کہ علاقے میں کرزئی کے دورے کو انتہائی تنقیدی نقطہ نظر سے لیا گیا ہے اس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان اور بھارت کو دہشت گردی کے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جیسا کہ قتل عام کی کاروائیاں اور کابل میں ایمبیسی پر بم دھماکہ اور احمد آباد اور بنگلور میں بم دھماکوں کے واقعات انتہائی اہم نوعیت کے ہیں حامد کرزئی نے مزید وضاحت کی کہ دونوں ممالک کے پاس ان مسائل کے حل کی کوئی راہ نہیں لیکن متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے جیسا کہ ہمار ی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو امن و تحفظ دیں۔ من موہن سنگھ نے 450 ملین ڈالر کی امداد افغانستان کو جنگ سے تباہی کے بعد دوبارہ تعمیر نو کے لئے دی ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment