International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی
Monday, August 4, 2008
ران ایوانس کی کتاب جھوٹ کا پلندہ ہے ‘ ملعون رشدی
لندن ۔ ملعون سلمان رشدی نے اس پولیس اہلکار کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے جس نے اس دور کے تجربات کے بارے میں ایک کتاب لکھ ڈالی جب وہ بکر انعام یافتہ مصنف کو تحفظ فراہم کرتا تھا۔ملعون سلمان رشدی کی متنازعہ کتاب ’دی سیٹینک ورسز‘ کی اشاعت کے بعد ایران کے روحانی پیشوی آیت اللہ خمینی نے اہانت اسلام کے الزام میں ان کے خلاف موت کا فتوی جاری کر دیا تھا۔ نتیجتاًملعون رشدی کو رو پوش ہونا پڑا تھا اور ان کی حفاظت کے لیے برطانوی پولیس نے سخت انتظامات کیے تھے۔ ران ایوانس کی کتاب کا عنوان ہے ’ آن ہر میجسٹیز سروس‘۔ ملعون سلمان رشدی کا دعوی ہے کہ یہ کتاب ’جھوٹ کا پلندہ‘ ہے اور وہ سنجیدگی سے قانونی کارروائی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ملعون رشدی کے محافظین کی ٹیم میں ران ایوانس ڈرائیور تھے۔ وہ سابق وزیر اعظم جان میجر کی حفاظت پر مامور ٹیم میں بھی شامل تھے۔کتاب کے مطابق ملعون سلمان رشدی کو ان کے محافظ ’سکرفی‘ کہتے تھے اور ایک مرتبہ انہوں نے ملعون رشدی کوالماری میں بند کردیا تھا کیونکہ وہ بہت پریشان کر رہے تھے۔ اس کے بعد پولیس اہلکار شراب پینے چلے گئے۔ جب وہ ترو تازہ ہوکر لوٹے تو رشدی کو الماری سے نکالا‘۔ ران ایوانس کا یہ بھی دعوی ہے کہ ملعون رشدی پولیس والوں سے اپنے گھر میں رہنے کا چالیس پاؤنڈ کرایہ وصول کرتے تھے اور اگر وہ ان کی شراب پیتے، تو اس کے بھی پیسے مانگتے۔ لیکن ملعون سلمان رشدی کے مطابق یہ تمام باتیں جھوٹی ہیں۔’ میرے ان پولیس والوں سے بہت اچھے تعلقات ہوگئے تھے جو میری حفاظت پر مامور تھے‘۔ اس کا کہنا ہے کہ ’وہ بہت اصول پسند لوگ تھے، وہ کبھی ایسا نہیں کرتے۔ ملعون رشدی نے کتاب کے ناشر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کتاب میں سے قابل اعتراض باب نکال دیے جائیں کیونکہ یہ ہتک آمیز ہیں۔ ’میں صرف وہ چیزیں نکلوانا چاہتا ہوں جو جھوٹی ہیں۔ ملعون رشدی نے کہا کہ پولیس نے انہیں کرایہ دیا تھا لیکن یہ ان کی اپنی پیشکش تھی، ملعون رشدی نے ان سے کرایہ مانگا نہیں تھا۔’یہ صرف میری عزت کا سوال نہیں ہے، میرے علاوہ ایوانس نے پولیس فورس کی بھی بدنامی کی ہے۔ کتاب شائع کرنیوالی کمپنی نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کر دیا ہے۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment