کراچی۔ پاکستان کے پانیوں میں مختلف مچھلیوں کے قومی ذخائر خطرناک سطح تک پہنچ گئے ہیں جس کی کلیدی وجوہات میں مچھلی کا بے دریغ شکار اور نسل کشی ہے۔پاکستان میںآبی ذخائر میں مچھلیوں کی درست تعداد معلوم کرنے کیلئے وزارت خوراک، زراعت اور مال مویشیاں کی جانب سے رواں سال کی آخری سہ ماہی میں سروے کا انعقاد کیا جائیگا تاکہ مچھلیوں کے ذخائر کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔محکمہ ماہی گیری کے جاری کئے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق ملکی پانیوں میں جھینگوں اور کیکڑوں کی تعداد 28ہزار1سو66 ٹن کی سطح تک پہنچ گئی ہے جبکہ ملکی پانیوں میں معیارات کے مطابق اسکی سطح ساڑھے 47 ہزار ٹن ہونا چاہئے تھی۔ملک میں دوسری جانب منافع کی لالچ میں مچھلیوں کے شکار سے متعلق ممنوعہ 2 ماہ کو بھی ایک ماہ کردیا گیا ہے اور ماہرین کی ہدایات کے برعکس مچھلیوں کے شکار میں مصروف کشتیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے جس سے قومی ذخائر انتہائی تیزی سے گررہے ہیں۔وزارت خورات، زراعت اور مال مویشیاں کی جانب سے ماہی گیروں کی درخواست پر مچھلیوں کے درست بریڈنگ سیزن کے تعین کیلئے بھی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ماہی گیروں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مچھلیوں کا بریڈنگ سیزن تغیرات کا شکار ہوتا ہے اور ان کی نسلوں کے درست تحفظ کیلئے بریڈنگ سیزن کا حقیقی تعین انتہائی ضروری ہے تاکہ صرف اس دورانئے میں شکار پر پابندی کا اطلاق کیا جائے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی پانیوں میں متفرق نسلی کی مچھلی کے ذخائر کا تخمینہ 1کروڑ14لاکھ7ہزار3سو ٹن لگایا گیا ہے جو 1974،1977،1983 اور 1991ء میں منعقدہ سرویز سے اخذ کئے گئے ہیں۔وزارت خوراک، زراعت اور مال مویشیاں کی جانب سے جو نیا سروے کیا جائیگا اس پر لاگت کا تخمینہ 49کروڑ60لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔محکمہ ماہی گیری کے مطابق سائنٹیفک ویزل فرٹ جاب نینس نے پاکستان کے پانیوں میں 6 ماہ گزار کر کامیاب سروے کیا تھا جبکہ 1991ء میں پاکستانی ویزل تحقیق مچھیرا کے تعاون سے سروے کیا گیا تھا۔وزارت خوراک، زراعت اور لائیو اسٹاک کی جانب سے اس بار بھی فرٹ جاب نینش کی خدمات کے حصول کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ ساتھ میں ایک انڈونیشی ویزل کی خدمات کے حصول کا قرین قیاس ہے۔وزارت منفال کی جانب سے کراچی شپ یارڈ پر بھی ایک ویزل کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس پر لاگت کا تخمینہ 1کروڑ30لاکھ ڈالرز لگایا گیا ہے تاکہ میرین تحقیقات میں پاکستانی ماہرین کی خودانحصاری پیدا کی جاسکے دوسری جانب ناروے کی جانب سے بھی پاکستان کو 60 لاکھ کرونا کی امداد دی گئی ہے۔پاکستان میں پانیوں میں مچھلیوںکے ذخائر کے تعین کے لئے سروے سندھ اور بلوچستان میں منقعد کیا جائیگا جو 4 سیزنز پر مشتمل ہوگا اور بریڈنگ سیزن (جولائی۔ستمبر) بھی تحقیقات جاری رہیں گی۔بریڈنگ سیزن سے پہلے اور بعد میں سروے منعقد کئے جائیں گے تاکہ بریڈنگ سیزن کے بعد میں اور پہلے مچھلیوںکی تعداد کا اندازہ لگایا جاسکے اور غیر جانبدارانہ نمونوں کا حصول ممکن ہوسکے جو شماریاتی سائنسز کی بنیادی شرط ہے۔صوبائی جائزوں کے مطابق سندھ میں 2003ء میں مچھلیوں کے ذخائر 2لاکھ70ہزار5سو22 ٹن تھے جو 2007ء میں کم ہوکر 2لاکھ2ہزار9سو75 ٹن ہوگئے ہیں اسی طرح بلوچستان میں 2003ء میں مچھلیوں کے ذخائر 1لاکھ26ہزار755 ٹن تھے جو 2007ء میں کم ہوکر 1لاکھ37ہزار82 ٹن ہوگئے ہیں
International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment