جکارتہ۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت میں ہزاروں مسلمان قادیانیت پر امتناع عائد کرنے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ شعلہ بیان عالم دین ابو بکر بشیر بھی مختلف اسلام پسند تنظیموں کے 1500 سے زائد مظاہرین میں شامل تھے جنہوں نے ’’ اللہ اکبر ‘‘کے نعرے لگائے اور احمدیہ طبقہ کی مذمت کرتے ہوئے بینرز اور کتبے لہرائے۔ مظاہرین نے صدر سوسیلو بمبانگ ید ہو یونو سے احمدیہ طبقہ پر پابندی کا فرمان جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جکارتہ کے صدارتی محل کے رو برو واقع سڑک پر راستہ روک دیا۔ ابو بکر بشیر نے جنہیں 2002ء کے بالی بم دھماکوں میں ماخوذ کیا گیا تھا لیکن بعد میں بری کر دیا گیا، احتجاجیوں کے کثیر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’احمدیہ طبقہ اسلام کا انتہائی خطرناک دشمن ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ احمدیہ کی لازماً سرکوبی کی جانی چاہیے کیونکہ یہ کمیونزم سے زیادہ خطرناک ہے، بتایا جاتا ہے کہ انڈونیشیا میں احمدیہ طبقہ کے 5 لاکھ پیرو ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ملک میں قادیانیت کے خلاف احتجاج میں اضافہ ہوا ہے ۔
International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment