کراچی ۔۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے حکومت پاکستان دینی و مذہبی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظمیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ سے پاکستان لانے میں کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی پر لگائے گئے الزامات قطعی بے بنیاد اور من گھڑت ہیں اور ان کے ساتھ کیا جانے والا بدترین سلوک انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے آج منگل کوحقوق کمیشن آف پاکستان کے سربراہ اقبال حیدر کے ہمراہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی کو 2003 ء میں حراست میں لیا گیا لیکن خاندان کو ان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا اور حال میں میڈیا کے توسط سے جو کوششیں ہوئیں ان کے نیتجے میں یہ علم ہوا کہ وہ افغانستان میں قید تھیں اور بعد میں انہوں امریکہ منتقل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ 5 سال میں یہی کہا جا تا رہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر کچھ الزامات ہیں صرف ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور اب پانچ سال کے بعد اچانک ان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ یہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی بلکہ امریکی قانون کی خلاف ورزی ہے انہوں نے کہا کہ ایک بچے کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور اس بچے کو فوری طور پر ہمارے حوالے کیا جانا چاہیے
۔۔۔تفصیلی خبر۔۔۔۔۔
پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے کہا ہے کہ میری بہن ڈاکٹر فوزیہ کی 5 برس کی اسیری ہی ان کی بے گناہی کا واضح ثبوت ہے جسے میڈیا میں اہمیت دی جائے۔میں نے اپنی والدہ کے ہمراہ ایف بی آئی حکام اور امریکی اٹارنی جنرل سے ملاقات میں وضاحت کی تھی کہ ڈاکٹر عافیہ کی تعلیمی قابلیت اس نوعیت کی نہیں ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیار بنائیں اور نہ ہی وہ لائیبیریا میں کسی ہیروں کی فروخت میں ملوث ہیں جن سے 9/11 کی فنانسنگ کی گئی ہو۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ میری بہن اور ان کے بچوں پر تشدد اور ڈاکٹر عافیہ کی عصمت دری پر پردہ ڈالنے کیلئے انہیں دہشت گرد قرار دے دیا جائیگا تاکہ امریکی حکومت کی خفت مٹائی جاسکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کراچی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا۔اس موقع پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے رہنما اقبال حیدر بھی موجود تھے۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ میری بہن پر بہت سے بہتان لگائے لگائے ہیں جو تمام بے بنیاد ہیں۔میں اور میرا خاندان عرصے سے خاموش تھا تاہم اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی خاموشی توڑدیں۔انہوں نے کہا کہ ہم جانتے تھے کہ اگر ہم نے زبان کھولی تو ہمیں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم اب ہمیں اپنی اور اپنے خاندان کی بقاء کیلئے آواز اٹھانا ہوگی۔انکا کہنا تھا کہ حال ہی میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے ایک وکیل نے ہمارے خاندان کی طرف سے پاکستانی ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بے گناہ قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ کو رہائی دلوائی جائے جو بگرام جیل افغانستان میں امریکی حراست میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پٹیشن ہی تھی جس کے باعث پاکستانیوں کو معلوم ہوا کہ ان کی بہن 4 برسوں سے بے گناہ امریکی قید میں ہیں جہاں انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ اب کھلا سچ ہے کہ بیشتر پاکستانی حکام ماضی میں اور تاحال امریکی عسکری خفیہ آپریشنز میں امریکہ کی ہر ممکن معاونت کرتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے دائر آئینی درخواست کے سلسلے میں بھی کورٹ نے ان متعلقہ حکام سے باز پرس کی اور انہیں طلب کیا تاکہ کورٹ کو ان کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کیا جائے جبکہ فاضل عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ ڈاکٹر عافیہ کو کس جرم کے تحت پاکستان سے امریکی حراست میں دیا گیا ہے۔پاکستان میں نشریاتی ،اخبارات اور خبر رساں اداروں میں ڈاکٹر عافیہ کی گمشدگی کی خبروں کے باعث بین الاقوامی طور پر بھی امریکہ پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے خصوصاً ایف بی آئی کے ایجنٹ کے انکشاف کے بعد کہ ڈاکٹر عافیہ افغانستان میںامریکی اسیری میں موجود ہیں سے صورتحال یکسر تبدیلی ہوگئی واضح رہے کہ ایف بی آئی ایجنٹ نے یہ انکشاف 31 جولائی اور یکم اگست کو پاکستان میں کیا تھا جسے پاکستان میں نشریاتی اداروں اور اخبارات میں نمایاں کوریج دی گئی۔انکا کہنا تھا کہ ہمیں اسی ایف بی آئی ایجنٹ سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر عافیہ حیات ہیں اور افغانستان میں موجود ہیں۔انکا کہنا تھا کہ 5 برسوں کے بعد یوں اچانک ان کی موجودگی کی اطلاع بذریعہ ایف بی آئی ایجنٹ موصول ہونا ایک خواشگوار اتفاق ہوسکتا ہے تاہم میں اتفاقات پر یقین نہیں رکھتی ہوں۔ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ انہیں گزشتہ 48 گھنٹوں میں امریکہ منتقل کیا جاچکا ہے۔ڈاکٹر فوزیہ کاکہنا تھا کہ مبینہ طور پر امریکہ کو دہشت گردی کے بجائے شرمندگی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے تاہم میں چاہتی ہوں کہ آپ یاد رکھیں کہ یہ ایسا کیس نہیں جس میں آپ ان پر الزامات لگائیں اور انہیں درست بھی سمجھیں۔انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ میری بہن کو بے گناہ تصور کیا جائے اور اگر انکے خلاف کسی قسم کے الزامات ہیں تو انکا ٹرائل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ انکے خلاف کسی قسم کے شبہات ہیں تو محض شک کی بنیاد پر انہیں اسیری میں نہیں رکھا جائے دوسری جانب ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صرف تحقیقات کیلئے مطلوب تھیں اور گزشتہ 5 برسوں میں انکے خلاف کسی قسم کے الزامات ثابت نہیںہوسکے ہیں۔ڈاکٹر فوزیہ نے بتایا کہ انہوں نے جب اپنی والدہ کے ہمراہ بوسٹن اور ہوسٹن میں 2003ء میں ایف بی آئی ایجنٹس اور امریکہ اٹارنی جنرل سے ملاقات کی تھی تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کو دہشت گردی کے الزام میں نہیں پکڑا گیا ہے۔ہم نے اس ملاقات میں ایف بی آئی کے دیگر ضمنی الزامات کی سختی سے تردید کی تھی جس میں ہم نے انہیں بتایا کہ وہ خالصتاً نیورو بائیولوجسٹ نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری میں مہارت حاصل ہے۔ڈاکٹر عافیہ نے نو گیارہ کے امریکی حملوں کی فنانسنگ کیلئے جولائی 2001ء میں لائیبیریا میںکوئی ہیروں کی ڈیل نہیں کی جس کا واضح ثبوت اس روز ان کی بیک بے(بوسٹن) میں موجودگی ہے جبکہ ہم ٹرائل میں کئی ایسے ثبوت پیش کرسکتے ہیں جن میں انکی اس روز بوسٹن میں موجودگی ثابت ہوجائیگی۔انہوں نے میڈیا سے پر زور اپیل کہ خدارا انہیں بے قصور سمجھا جائے اور امت اور پاکستانی خاتون کی حرمت کے مفاد میں اپنی رپورٹنگ کو ڈاکٹر عافیہ کی بے گناہی کا بہترین عکاس ثابت کریں۔ڈاکٹر عافیہ پر 5 برسوں میں کوئی ایسا الزام ثابت نہیں ہوسکا ہے کہ وہ 9/11 کی فنانسنگ میں ملوث تھیں یا انہوں نے القاعدہ یا کسی اور تنظیم کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت سے فوائد پہنچائے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ مورد الزام ٹھہرائی جاچکی ہوتیں تاہم ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آئی اے کی جانب سے گوانتا ناموبے کے دستاویزات کی روشنی میں انہیں قصور وار ٹھہرائے جانے کی کوششیں تیز کی جارہی ہیں تاکہ میڈیا میں امریکی خفت کو کم کیا جائے۔انکا کہنا تھا کہ امریکی پراسیکیوٹرز کی جانب سے امکان ہے کہ گزشتہ 5 برسوں میں ڈاکٹر عافیہ اور انکے بچوں پر تشدد اور ان کی عصمت دری کے واقعات کو انہیں دہشت گردی کی جنگ میں اہم محرک قرار دے دیا جائے۔انہوں نے اپیل کی کہ پاکستانی اور امت مسلمہ کے پلیٹ فورم سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے آواز اٹھائی جائے کیونکہ برطانیہ نے بھی اپنے مسلمان شہریوں کو آزادی دلائی ہے تاہم انہوں نے ایک بار پھر میڈیا سے اپیل کی کہ انکی 5 برس کی اسیری ہی ان کی بے گناہی کا ثبوت ہے جسے اخبارات اور نشریاتی اداروں میں خاص اہمیت دی جائے ۔اس موقع پر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت دیگر گمشدہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ جتنے لوگ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غائب کئے گئے ہیں وہ بے گناہ ہیں اور میری بہن بھی معصوم ہے۔اس موقع پر انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بچوں کے حوالے سے بھی ہمیں کوئی اطلاع نہیںپہنچائی گئی انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بچوں کو ہمارے حوالے کیا جائے کیونکہ ان بچوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔اس موقع پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے رہنما اقبال حیدر نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا انہوں نے کہا کہ ہم گوانتا نامو بے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے امریکی حکام سے انصاف کی توقع نہیں رکھتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کے ٹرائل کیلئے آزاد اور بین الاقوامی عدالت تشکیل کی جائے جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان پر قائم کئے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں جن سے انہیں بری قرار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ اپنی بہن کی آزادی کیلئے کوششوں میں تن تنہا مصروف ہیں جبکہ میں نے انہیں کہا ہے کہ ان کی تمام مشکلات ان کی بہن کی مشکلات کے مساوی ہیں اور یہ انہیں مزید حوصلہ دیں گی
International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment