International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Sunday, August 3, 2008

دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے لیگل فریم ورک کی منظوری

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
کو لمبو۔ سارک ممالک نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے لیگل فریم ورک کی منظوری دے دی ہے ۔ جس کے تحت سارک ممالک جرائم دہشت گردوں کی نشاندہی اور ان کی روک تھام کے لئے مل کر کام کریں گے ۔ اس فریم ورک میں مزید کہا گیا ہے کہ رکن ممالک ایک دوسرے سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ممکن حد تک قانونی سطح پر تعاون کریں گے ۔ 15 ویں سارک سربراہ کانفرنس کے دوسرے روز پاکستان اور بھارت سمیت خطے کے 8 ممالک نے فریم ورک کی منظوری دی ۔ قانونی فریم ورک جرائم سے نمٹنے باہمی قانونی تعاون پر سارک کنونشن کے ذریعہ رکن ممالک کے سیکورٹی فورسز کے مابین عزیم باہمی تعاون کی قانونی فراہمی کی گنجاش فراہم کی جائے گی جس کے تحت کسی بھی رکن ملک کی درخواست پر مجرموں اور دہشت گردوں کی گرفتاری اور حوالگی عمل میں لائی جا سکتی ہے اس معاہدہ پر سارک کے دو روزہ اجلاس کے اختتام کے موقع پر دستخط کئے گئے یہ معاہدہ بھارت کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہو گا کیونکہ پاکستان اور چند دیگر سارک ممالک کے ساتھ اس کے باہمی حوالگی مجرمین معاہدات زیر التوا ہیں ۔ بھارت اس طرح کے قانونی طریقہ کار کے لئے کافی عرصہ سے اصرار کر رہا تھا لیکن اب یہ مخالفت باقی نہیں رہی جس کی وجہ سے معاہدہ ممکن ہو سکا ۔ اس معاہدہ کے تحت رکن ممالک دہشت گردی جیسے جرائم کے معاملات کی تحقیقات میں بھی ایک دوسرے کا تعاون کریں گے ۔ جبکہ کو لمبو میں ا مریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باوچر نے کہا ہے کہ جمہوری حکومت پاکستان میں دہشت گردی کے ساتھ بہتر طریقے سے نپٹ سکتی ہے ۔ منقسم معاشرہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتا ۔ حکومت پاکستان کو فوج تعلیم اور بہتر سیاسی ماحول کو اکٹھا لے کر آگے چلنا ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکے ۔ آئی ایس آئی کے حوالے سے ایک سوال پر رچرڈ باوچر نے کہا ہے پاکستان میںد ہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے انٹیلی جنس سروسز اور فوج بہت ضروری ہیں ۔ اور انٹیلی جنس سروس ایک ایسا جزو ہے جس کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی انہوں نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکہ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ۔ انہوں نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے کابل بم دھماکے کی تحقیقات کرانے کے بیان کو سراہا اور کہا کہ یہ سب کچھ خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون سے ممکن ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں تشدد ہے اور حکومت پاکستان کو پہلے اس تشددسے نمٹنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری حکومت ہی بہتر طریقے سے تشدد کے خاتمے کو بہتر بنا سکتی ہے ۔

No comments: