
وفاقی وزیر اطلاعات شیریں رحمن نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے سابقہ حکومت کے برعکس صحافت کو آزادی دی ہے۔ حکومت صحافیوں کی سیکورٹی کیلئے انشورنس دینے کو تیار ہے۔ دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانی چاہئیں۔ ویج بورڈ کا نفاذ اسمبلیوں کی بجائے صحافتی اداروں کو باہمی تعاون سے نافذ کروانا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام قومی قانفرنس برائے” جرنلسٹس سیفٹی اینڈ ایتھکس“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بیرون ممالک سے آنے والے مندوبین بھی موجود تھے۔ شیرین رحمن نے کہا کہ صحافیوں کو پیشہ وارانہ فرائض کے دوران بعض اوقات خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں زخمی ہونے کے علاوہ بعض اوقات وہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حکومت صحافیوں کوانشورنس دینے کو تیار ہے اس سلسلہ میں صحافتی تنظیمیں تین رکنی کمیٹی بنا کر وزارت اطلاعات سے بات چیت کریںحکومت بھرپور تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ صحافت کلرفل شعبہ ہے۔ پاکستان کے پرنٹ میڈیا کی کوالٹی کے لحاظ سے دنیا بھر میں منفرد پہچان ہے تاہم اخبارات کے مالکان کو نئے صحافیوں کیلئے مناسب تربیت کا بندوبست کرنا چاہئے الیکٹرانک میڈیا بعض معاملات میں عوام کوصحیح طور پر آگاہی نہیں دے پاتا جس کے باعث پیمرا کو مجبورا قانون سازی کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے صحافت کو مکمل طور پر آزادی دی ہے اور ماضی کے سیاہ پیمرا آرڈیننس کو بہتر کیا ہے تاہم اب صحافتی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا ضابطہ اخلاق خود مرتب کریں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے مالکان اپنے اداروں میں کام کرنے والے کارکنوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ ویج بورڈ کے نفاذ کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کا نہیں، صحافتی اداروں کو باہمی افہام وتفہیم سے اسے حل کرنا چاہئے پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس میں بھی جلد ترامیم کی جائیں گی۔ محترمہ شیری رحمن سے گذارش ہے کہ صحا فیوں کیلئے یہ کیسا اقدام ہے کہ وہ کسی حادثے میں معذ ور ہوں یا جان سے ہاتھ دو ھوئیں تب حکومت انھیں تشدد فنڈ سے مدد کرے گی۔ کیا اچھا ہوتا کہ وکٹم کے بغیر بھی صحا فیوںکیلئے کچھ کیا جا سکتا۔ شیری رحمن خود ایک ورکنگ جر نلسٹ رہ چکی ہیں وہ بذات خود صحا فیوں کے مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور یہی و جہ ہے کہ شیری رحمن ملک بھر کے صحا فیوں کی ہر دلعزیز منسٹر بھی ہیں شیری رحمن ذہانت،قابلیت اور کا ر کردگی کے لحاظ سے دوسرے وزراءسے ایک منفرد مقام ر کھتی ہیں شیری رحمن سے مزید گزارش ہے کہ صحافی اس ملک کی ترقی و استحکام کیلئے اور بےمار معاشرے کو راہ راست لانے کیلئے سولہ کروڑ عوام کی اجتماعی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان صحا فیوں کی بات نہیں ہو رہی جو ہر روز کسی تقریب کے کھا نے کے موقع پر آپ کو ملتے ہیں اور نہ ہی ان صحا فیوں کی بات ہو رہی ہے جو صحا فی کم،حکومتی، سیاسی اور صحا فتی مزارعے زیادہ ہیں اور جنھیں آپ کی حکومت کے تو سط سے پی ٹی وی میں اینکر پر سنز، ریسورس پر سنز اور دیگر شعبوں میں لاکھوں روپے کے پیکج میں رکھا گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سا بقہ دور حکومت میں بھی اس طرح کی بھر تیوں کی بھر ما ر رہی ہے۔ اور ان کی وجہ سے پی ٹی وی نے بیس کروڑ روپے قرضہ کیلئے بینک سے رجوع کیا ہے،۔بات ہو رہی تھی صحا فیوں کے مسائل کی تو اس ضمن میں گذارش ہے ہر بینک اور ما لیا تی ادارہ کی طرف سے ھدایات ہیں کہ ان کی ہر اسکیم سے پا کستان کا ہر شہری مستفید ہو سکتا ہے سوائے صحا فی کے یعنی یہ مقام ہے اس ملک میں صحا فی کا جو کہ ایک شرمناک بات ہے۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ وزارت اطلاعات ایسا کوئی اقدام کرے جس سے صحا فیوں کو معاشی تحفظ حا صل ہو سکے۔ جہاں تک اخباری ما لکان کا تعلق ہے ان کے اپنے مسائل ہیں یہ بات اسی طرح ہے کہ اگر ایک ورکنگ جر نلسٹ کسی حاد ثا تی طور پر پبلشر بن جا ئے تو اسے اچھی طرح سمجھ آ جا ئے گی کہ اخباری ما لکان کے مسائل کیا ہو تے ہیں۔ یہ اکثریتی پبلشرز کی بات ہو رہی ہے نہ ان اخباری ما لکان کی جو مسائل کی کشش ثقل سے با ہر ہیں۔ اگرچہ ہر حکومت چند اخباری ما لکان اور چند صحا فیوں کے مسائل سے آ گاہ ہو تی ہے جبکہ سو لہ کروڑ کی آ بادی میں کتنے اخبار و رسائل، پبلشرز، ورکنگ جر نلسٹ ہیں جن کا مٹھی بھر ما فیا استحصال کر کے ان کو اپنی موت آپ مار دیتا ہے۔ ہر حکومت تھڑے باز صحا فیوں کے احتجاج اور ایک دو اخباری ما لکان کی ادارتی فائرنگ سے بچنے کیلئے ان کے منہ میں ہڈی ڈا لنا اپنی مجبوری سمجھتی رہی ہے۔ باقی ملک بھر کے اخباری ما لکان، کالم نگاروں، اور صحا فیوں کی حکومت اپنی مجبوری اور نہ ہی کو ئی ضرورت سمجھتی ہے۔ ایک مخصوص موقع پر ست ما فیا ملک بھر کے میڈیا کا حق مار رہا ہے اور اس کی ذمہ دار خود وزارت اطلاعات ہے۔ کیو نکہ کسی بھی نئی حکومت کو میڈیا کے حوالے سے کچھ پتہ نہیںہوتا ۔ کسی بھی نئی حکومت کو وزارت اطلاعات نے سفارشات، تجاویز اور روڈ میپ دینا ہوتا ہے۔ جہاں تک صحا فتی تنظیموں کا تعلق ہے تو اس ضمن میں شیری ر حمن ہم سے بہتر جا نتی ہیں۔ کہ دنیا بھر کے پر یس کلبوں کا منشور اور مقا صد کیا ہو تے ہیں۔ اور ایسی صحا فتی تنظیمیں جن کا فنکشن لیبر ونگ اور ٹر یڈ یونین کا ہو ان کا لیگل سٹیٹس کیا ہو تا ہے۔ دنیا بھر کے پر یس کلبوں میں ممبر شپ کیلئے پبلشر، میڈیا چیف ایگز یکٹو، ایڈ یٹر، ورکنگ جر نلسٹ، میڈیا کے طالب علم و دیگر پبلک ریلیشنز کی پر یکتس کر نے وا لے اس کے ممبر ہو تے ہیں اور ٹریڈ یو نین ان پر یس کلبوں کی ایک ذیلی ونگ ہو تی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے ۔ ایک لیبر ونگ پو رے پر یس کلب پر مسلط ہے۔ اور یہ حال ملک بھر کے پر یس کلبوں کا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے ایک ایسا صحا فتی ضا بطہ اخلاق بنا یا جا ئے جس میں صحا فتی تنظیموں کے اندر بھی جمہوریت کو متعارف کروایا جا ئے۔ اور ایسی صحا فتی تنظیمیں جو ملک بھر کے صحا فیوں کے نام پر لوٹ مار کر کے ا پنے بینک بیلنس بڑ ھا رہی ہے۔ ان کا نہ صرف آڈٹ کیا جا ئے بلکہ ایف آ ئی اے سے ان کی انکوائری کروائی جا ئے کہ وفاقی حکومت اور صو بائی حکو متوں نے ان صحا فتی تنظیموں کو کتنا فنڈ دیا اور انھوں نے کہاں کہاں استعمال کیا اس کے علاوہ اسلام آباد میں حکومت نے صحا فیوں کیلئے سی ڈی اے کے پلا ٹوں میںتین فیصد کوٹہ رکھا ہوا ہے اس ضمن میں وزارت اطلاعات کے این او سی پر سی ڈی اے صحا فیوں سے درخواستیں وصول کر تی ہے۔ ان تمام صحا فیوں کی لسٹ جا ری کی جا ئے جن کو پلا ٹوں کیلئے وزارت اطلاعات نے این او سی جا ری کیے ہیں ۔ تا کہ معلوم ہو سکے کہ کسی حق دار صحا فی کا کسی نے حق تو نہیں ما را۔ جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کولمبومیں سارک سر براہ کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سے ملاقات کی ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بھارتی وزیر خارجہ پر ناب مکھرجی بھی اس موقع پر موجود تھے دونوں لیڈروں نے پاک بھارت جامع مذاکرات دو طرفہ تجارت اور سیکورٹی سے متعلق معاملوں پر بات چیت کی ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی دونوں لیڈروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے پر امن طریقے سے حل کئے جانے چاہئیں انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے جاری عمل پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے علاقے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں بڑی مدد ملے گی انہوں نے تجارت اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے سے متعلق مختلف معاملوں پر بھی بات چیت کی بعد میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کر تے ہوئے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں انہوں نے کہا کہ کشمیر سمیت تمام مسائل حل کر نے کی ضرورت ہے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر احمد آباد بم دھماکوں کا الزام عائدنہیں کیا وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان بھار ت اور افغانستان سمیت اپنے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے اور بھارتی وزیر اعظم سے ان کی ملاقات اس خواہش کی آ ئینہ دار ہے بنگلور اور احمد آباد کے بم دھماکوں کے واقعات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نے ملاقات کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ اس سلسلے میں ان کی حکومت پاکستان کو مورد الزام نہیں ٹھہراتی۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے راہنما راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ اگست ملکی سیاست میں اہم ترین مہینہ ہوگا ،جس میں متعدد فیصلے متوقع ہیں ،حکومت ملکی صورتحال کوکنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ،عوام باشعور ہو چکے ہیں آئندہ کسی آمر کو جمہوریت پر شب خون نہیں مارنے دینگے اور نہ ہی کسی کو مارشل لاء لگانے کی اجازت دینگے اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام سڑکوں پر نکل آئیں گئے گست کا مہینہ ملکی سیاست میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ اگست میں اہم فیصلے ہونگے جو ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرینگے، میاں محمدنواز شریف کی وطن واپسی اور آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے بعد ججز بارے فائنل راو¿نڈ شروع ہو گا مسلم لیگ(ن)آج بھی ججوں کی بحالی کے اصولی موقف پر قائم ہے،ججوں کے بحال نہ ہونے کی صورت میںحکومت میں رہنے یا نہ رہنے بارے پوچھے گے ایک سوال کے جواب میں راجہ محمد ظفرالحق نے کہا ہے کہ اس بات کا فیصلہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا،ملکی صورتحال بارے پوچھے گے ایک سوال بارے راجہ محمد ظفرالحق نے کہا کہ اس وقت ملک ایک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں اور نہ ہی وہ اس پر پورا اتر سکی،ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی آج بھارت اور افغانستان جیسے ملک ہمیں حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں جو میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی کمزور پالیسیوں کا نتیجہ ہے،ملک میں امن و امان اور مہنگائی بارے حکومت مہنگائی اور امن و مان کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے خاص طور پر آٹا کی قلت کی وجہ سے عوام سخت پریشان ہیں اور لوگ آج آٹا کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں حکومت کو اس بارے خصوصی اقدامات کرنے ہونگے ا ور ملک سے گندم کی سمگلنگ کو روکنے کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے ہونگے،جب تک گندم کی سمگلنگ کو کنٹرول نہیں کیا جاتا اس وقت تک آٹے کے بحران پر قابوپانا بہت مشکل ہے اس بحران سے ملک میں افراتفری اور لاقانونیت کا دوردورہ ہو سکتا ہے۔ اے پی ایس
No comments:
Post a Comment