International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Friday, August 1, 2008

شوکت عزیز کے خلاف مقدمہ ، مدعی کو انصاف ملناچائیے ۔کالم ۔ممتاز احمد بھٹی





سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھا جاناچائیے کیونکہ شوکت عزیز دنیا کے کرپٹ تین سابق وزیر اعظم ہیں ۔جس نے مال بنانے کے لالچ میں بے شمار غریبوں کو برباد کر دیا ۔سٹا ک ایکسچینج کی تباہی سے غریب اپنی جمع پونجی لٹا بیٹھے لٹنے والے بے کس لوگ سٹاک ایکسچینج میں ہی بے ہوش ہو گئے جن کو ایمبولینسز میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا گیا ۔مگر شوکت عزیز بینک بیلنس بڑ ھاتا رہا ۔شوگر مافیاسے ساز باز کر کے راتوں رات چینی کا بحران پیداکر دیا ۔خود بھی اربوں روپے کمائے اور اپنے ہمنواؤں کے ’’وارے نیارے‘‘ کر دئیے آ ج کا آٹے کا بحران بھی سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کا پیداکر دہ ہے کیونکہ گزشتہ سیزن میں جب گندم کی کٹائی شروع ہوئی تو ابھی حکومت پاکستان کے گندم کی خریداری کا ہدف پورا نہیں ہوا تھا تو گندم مافیاسے میٹنگ کی کہ گندم ایکسپورٹ کر دیتے ہیں جس سے اربوں روپیہ کمایاجاسکتاہے اور پھر جب پاکستان کو گندم کی کمی سامنا ہو گا پھر امپورٹ کر لیں گے پھر بھی اربوں روپے بچیں گے ۔مال آٹا تو دیکھ کر مافیا کو کھلی چھٹی دے دی گئی ۔اسٹیل ملز کو کوڑیوں کے بھا ؤ بیچنے کی سازش و کوشش کے پیچھے بھی موصوف کھڑے نظر آتے ہیں دولت اکھٹی کرنے کا حرص بڑہتا چلا گیا ایک خفیہ میٹنگ میں شوکت عزیز نے اپنے ہمنواؤں کو حکم دیا کہ آنکھیں کھول کر دیکھو کیہ ڈالرز کہاں سے آرہے ہیں اور ہم ان کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں پھر ایک ادارے کو ورلڈ بینک کی طرف سے ملنے والے 260ملین ڈالرز کو ہر حال میں حاصل کرنے کا پراگرام بنا لیا ۔سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے ایف آئی اے کو درخواست بھیج دی کہ میرے جعلی دستخطوں کے ذریعے ڈاکٹر زاہدہ ملک 260ملین ڈالرز حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ایف آئی اے کے ذریعے ڈاکٹر زاہدہ ملک کو گرفتار کراکے جیل بھیج دیا ۔
حقیقت میں اوورسیز پاکستانیز سو شیو اکنامک ڈویلپمنٹ کلب جو بیرون ملک پاکستانیوں کا کنسورشیم ہے ڈاکٹر زاہدہ ملک اس کی کنٹری ڈائیر یکٹر ہیں یہ ادارہ بزنس ،تعلیم اور فلاحی ادارے چلاتا ہے ۔مختلف منصوبوں کے لئے ورلڈ بینک ورلڈبینک نے اس ادارے کو 260ملین ڈالرز دئیے ۔جن میں سے 130ملین ڈالرز کا سافٹ لون اور 130ملین ڈالرز کی انوسٹمنٹ تھی ورلڈ بینک نے اتنی بڑی رقم ہانگ کانگ کی کمپنی ہا ر کو ہولڈنگ کے ذریعے دی کنسورشیم کویہ رقم پہلے سے جاری اور کچھ نئے منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے دی گئی ۔پاکستان کے بڑے شہروں میں اعلی درجے کا سکولز سسٹم بنایا جانا تھا ۔10ملین ڈالر سوڈایش فیکٹری سندھ کیلیے ۔20ملین ڈالرز پراجیکٹس کیلئے ۔12ملین میڈیکل کالج کے قیام کے لئے۔15ملین “ پی سی بی اے “ پروفیشن کئیر ئیر اکیڈمی کے لئے۔15ملین ڈالرز ٹرانسپورٹ کیلئے .۔71ملین ڈالرز اگر اس روٹ لیول تک تعلیمی ترقی کے لئے ۔ 7ملین ڈالرز محمڈن اوپن یونیورسٹی کے لئے مختص تھی ۔شوکت عزیز نے جو درخواست ایف آئی اے کودی اس میں لکھا کہ ڈاکٹر زاہدہ ملک میرے جعلی دستخطوں سے اپنی بڑی رقم حاصل کرنا چاہتی ہے حالا نکہ اس کے لئے شوکت عزیز کے دستخطوں کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔اورنہ ہی اصل خط پر شوکت عزیز کے دستخط موجودتھے اس خط کوبعد میں گورنر سٹیٹ بینک نے عدالت میں بھی پیش کیا ۔جو ڈائیریکٹر زاہدہ ملک نے گورنر اسٹیٹ بینک کو لکھا تھا شوکت عزیز نے یہ سمجھ لیا کہ میرامنصوبہ مکمل ہو چکا ۔کیو نکہ جیل میں بڑے بڑے لوگ حوصلے ہا ر جاتے ہیں ۔یہ تو پھر بھی خاتون ہے مگروہ نہیں جانتے تھے ان کو ڈاکٹر زاہدہ ملک کے حوصلے اور ہمت کا اندازہ نہیں تھا ۔جیل نے ڈاکٹر زاہدہ ملک کی ہمت توڑنے کی بجائے ہمت میں اضافہ کیا ۔دو سال بعد عدالت نے ڈاکٹر زاہدہ ملک کو باعزت بری کر دیا ڈاکٹر زاہدہ ملک نے دوسال پریشانی اورر ذہنی دباؤ میں گزراے دوسری طرف شوکت عزیز نے ہتھیائے گئے260ملین سے سٹا ک ایکسچینج میں لگائے سٹاک ایکسچینج کو جوئے کا اڈہ بنادیاچند کرپٹ لوگوں سے ساز باز کر کے غریبوں کا خوب خون نچوڑا اور اربوں ڈالرز کے مالک بن گئے اس حوالے سے تما م حقائق منظر عام پر آچکے ہیں ۔
شوکت عزیز کے خلا ف -182 ppc 476,476,CRCPکے تحت مقدمہ درج ہو چکا ہے ۔شوکت عزیز کی گرفتاری کے لئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں۔ شوکر عزیز کے کرپشن کے کارناموں سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بد نامی ہوئی ہے ۔اورپاکستان میں غربت بڑھی ہے جبکہ شوکت عزیز دولت سمیٹ کر باہر جا کر بیٹھ گیا ہے ۔حالانکہ جب شوکت عزیز باہر جارہا تھا تو میڈیا چیخ رہا تھا لوگ شور مچارہے تھے ۔کہ شوکت عزیز کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے مگر کسی نے نہیں سنی۔آج حکومت وقت کا فرض بنتاہے کہ انٹر پول کے ذریعے شوکت عزیز کو گرفتار کرکے پاکستان لایا جائے۔مکمل اور اعلی سطحی تحقیقات کر کے قانون کے مطابق سخت سزادی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسا شخص غریبوں کی جمع پونجی لوٹ کر اور ڈاکٹر زاہدہ ملک جیسی رفاہی کا م کرنے والی خاتون کوجیل میں نہ بھیجا جا سکے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہونگے کہ کرپشن کے معاملے میں سب ملے ہو ئے ہیں ۔

No comments: