


حکومت خطرے میں ہے، پیپلزپارٹی اپنے طرزعمل کی وجہ سے کسی انہونی کا راستہ ہموار کررہی ہے۔ اس سسٹم کو چلنا چاہیے اوراپنی مدت پوری کرنی چاہیے، مگر پیپلزپارٹی کی گومگو اور وقت گذاری کی پالیسی حکمران اتحا د میں دوری پیدا کررہی ہے اور اس کا مزید چلنا مشکل ہوتا جا رہاہے 18فروری کے الیکشن کے بعد پوری قوم یہ چاہتی تھی کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن مل کر حکومت بنائیں،حکمران اتحاد مضبوط ہو اورملک و قوم کودرپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے نجات دلائے، ججوں کو بحال کرے، پرویز مشرف کا مواخذہ کرے، لاپتہ افراد کو بازیاب کرائے، قومی ہیروڈاکٹر عبدالقدیرخان کو رہاکرے، اور مہنگائی و غربت کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ پیپلزپارٹی نے اب تک ان اہم قومی ایشوز کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے جس کی وجہ سے جہا ں اس اتحاد کا جواز ختم ہورہاہے وہیں پیپلزپارٹی کو پرویز مشرف کاساتھی سمجھاجارہاہے ، اس کے خلاف عوامی نفرت میں اضافہ ہورہاہے اور لوگ مزید اس پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے ہزیمت اورسبکی کے سو اکچھ حاصل نہیں ہوا۔ اب یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ وزیراعظم کو وضاحتوں کے لیے واشنگٹن طلب کیا گیا تھا۔ پاکستان کے معاملات میں کھلم کھلا امریکی مداخلت اور اس پر حکمران طبقے کا خاموش رہنا اوربش کے سامنے سر جھکائے رکھنا شرمناک اور قوم کے لیے ناقابل قبول ہے بش کا آئی ایس آئی کے کردار پر ناراض ہونا ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ ہمارے حکومتی و اندرونی معاملات میں کس قدر دخیل ہے اور ہماری خفیہ ایجنسیوں کا کردار بھی وہی متعین کررہاہے۔ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ حکمران بھی امریکہ کی بے دام غلامی پر آمادہ ہیں۔ سی آئی اے، موساد اور را کا کردار زیر بحث لانا چاہیے جو دنیا میں فساد پھیلا رہی ہیں اور انھوں نے مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بچھا رکھے ہیں۔ جبکہ قاضی حسین احمد نے یہ بھی کہا ہے ایک طرف بھارت لائن آف کنٹرول پر گڑبڑ کررہا ہے،اور مشیر داخلہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں بدامنی کے تمام معاملات میں بھارت ملوث ہے اورافغانستان میں بھارتی قونصل خانے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں گڑ بڑ پھیلا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وزیر تجارت بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے اور اسے موسٹ فیورٹ نیشن قرار دینے کے اعلانات کررہے ہیں اور وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ امریکہ و بھارت کی قیمت پر چین سے تعلقات نہیں بڑھا سکتے۔ انھوں نے کہا کہ حکمران دشمن کا مقابلہ کرنے کے بجائے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہیں اور دوست کو دشمن بنارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے اور اس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیاہے۔ وزیر خارجہ امریکی زبان بولنے کے بجائے چین کے حوالے سے پاکستانی قوم کے جذبات کو ملحوظ رکھیں حکومت اپنے دیرینہ دشمن بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں سے نمٹنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی بنانے کے بجائے خود کو اس کے سامنے نرم چارہ بنا کرپیش کررہی ہے سندھ میں کوئلے کے دنیا کے سب سے بڑے ذخیرے کو بھارت کے حوالے کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں اور اس کے لیے بھارتی صنعتکاروں کی منتیں کی جارہی ہیں،اور بھارتی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سینکڑوں سینما گھرکھولنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ بھارت کے بارے میں حکومت کایہ رویہ قوم کو قبول نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام محب وطن قوتوں کے ساتھ مل کراس کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ Èئی ایس Èئی کے ادارے پر دوسری دفعہ قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے پہلے 1994ءمیں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک رےٹائرڈ جنرل کو اس ادارے کا ڈائرےکٹر جنرل مقرر کر دےا تھا جبکہ پاکستان کی تارےخ مےں پہلے اےسا کبھی نہےں ہوا تھا۔ جس سے اس ادارے کی افادیت اور ساکھ کو نقصان پہنچا۔ چودھری شجاعت حسین نے یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد وزارت داخلہ اور Èئی ایس Èئی کے درمیان رابطے کیلئے جو سیل بنایا گیا تھا اسے حکومت نے بند کر دیا تھا کیونکہ وہاں سے انتہائی اہم خفیہ کاغذات لیک Èئوٹ ہو جاتے تھے جو غیروں کے ہاتھ چڑھ جاتے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر نے مزید کہا اب دوبارہ Èئی ایس Èئی کے ادارے پر مکمل طور پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ ملکی مفاد کے برعکس قدم تھاجس سے پاکستان کا یہ حساس ادارہ دنیا بھر میں زیر بحث Èرہا ہے جو کسی صورت میں ملکی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا اس طرح کے حساس ادارے دنیا بھر میں کسی وزارت کے ذیلی ادارے نہیں ہوتے بلکہ چیف ایگزیکٹو کے ماتحت ہوتے ہیں۔ جبکہ صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک سے دو ماہ میں اپنی پالیسیاں واضح کر ے۔ صدر کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سیاسی حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے یہ باتیں صدارتی کیمپ آفس راولپنڈی میں فاٹا کے اراکین اسمبلی سے بات چیت کے دوران کیں ہیں۔ اس وقت ملک کو مہنگائی ، امن و امان ، اقتصادی اور سیاسی استحکام جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس لئے حکومت ان مسائل سے نمٹنے کیلئے ایک دو ماہ میں اپنی پالیسیاں واضح کرے۔ صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان مسائل سے نمٹنے کیلئے موجودہ حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیلئے تیار ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل(ر) حمید گل نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی دنیا کے تمام خفیہ اداروں میں سب سے زیادہ منظم اور با اصول ادارہ ہے وائٹ ہاو¿س پہلے ہی پینٹا گان کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آپریشن کے لئے اجازت دے چکا ہے اور اس کے لئے دس ہزار امریکی فوج بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور امریکی فوج قبائلی علاقوں پر حملے کے لئے ڈیورنڈ لائن کے قریب خود کو منظم کر رہی ہے نائن الیون کے بعد امریکی خفیہ اداروں کا کردار اطمینان بخش نہیں رہا اور سی آئی اے بہت کمزور ہے جس کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہوں امریکہ کی الیکٹرانک انٹیلی جنس اب نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے ما تحت کام کر رہی ہے اور ان اداروں کا باہمی تعاون متاثر کن نہیں ہے انہوں نے کہا کہ عراق سے متعلق سی آئی اے کی رپورٹ درست تھی لیکن بش انتظامیہ نے اپنے مخصوص اہداف کے حصول کے لئے اس میں تبدیلی کی پینٹا گون اس قسم کی جھوٹی رپورٹس کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو نا چاہتا ہے آئی ایس آئی دنیا کا بہترین با اصول اور منظم ادارہ ہے آئی ایس آئی کی افرادی قوت پاک فوج سے آئی ہے جو گزشتہ دو تین سالوں سے ایجنسی میں خدمات انجام دے رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی ایک با اصول ادارہ ہے اس لئے وہ ملک کے خلاف کسی بھی سازش میں ملوث نہیں آئی ایس آئی کے وزیر اعظم کے مکمل کنٹرول میں نہ ہو نے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ اس ادارے کے خلاف ایک سازش اور پروپیگنڈہ ہے 1975ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں آئی ایس آئی کو اندرونی انٹیلی جنس کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور آئی ایس آئی کے چارٹر میں پولیٹیکل اینٹلی جنس کا ذکر بھی شامل ہے انہو ںنے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات شیئر کر رہا ہے اور اب تک امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کی فراہمی کے باعث 750 سے زیادہ القاعدہ اور طالبان کو گرفتار اور متعد د کو ہلاک کیاجا چکا ہے در حقیقت نیٹو اور امریکہ افغانستان میں جنگ ہار رہا ہے امریکہ نے اب پاکستانی آئی ایس آئی سے بھی یہ توقع وابستہ کی ہوئی ہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ کی مدد کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت افغان عوام آئی ایس آئی کے ساتھ روس کے خلاف اور اب افغان عوام امریکہ کے خلاف ہے اس لئے امریکہ اور نیٹو افواج کی کامیابی نا ممکن ہے ایک سوال پر کہ کیا پاکستان کی موجودہ حکومت اور آئی ایس آئی میں تعاون کی کمی ہے ؟کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ لیڈر شپ بہت کمزور ہے اس لئے وہ امریکی دباو¿ کو ٹال نہیں سکتا۔ جبکہ صدر بش نے اس تاثر کو مسترد کردیاہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایشیا کا کردار کم کیا جا رہا ہے ۔ ایشیا کے تین ممالک کے دورے پر روانگی کے وقت صدر بش نے سینئر مدیران کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی مشرق بعید کے متعلق خارجہ پالیسی بہت مضبوط ہے ۔ صدر بش پانچ سے گیارہ اگست تک تینوں ممالک تھائی لینڈ ‘ جنوبی کوریا اور چین کادورہ کریںگے۔ دورہ چین کے حوالے سے صدر بش نے کہا ہے کہ وہ صدر کی حیثیت سے کھیلوں کے شوقین بن کر چین جا رہے ہیں۔صدر بش نے اپنی ایشیاءکی پالیسی پر اعتراض کو مسترد کردیا انہوں نے مشرق بعید کی پالیسی پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے چین ‘ جنوبی کوریا ‘اور تھائی لینڈ کے ساتھ تعلقات مضبوط نہیں ہیںاور ہمیں دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ صدر نے کہا کہ وہ بھارت ا ور چین کے تعلقات کو بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بھارت ‘ چین اور امریکہ پورے خطے میں تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے بہت زیادہ مواقع مہیا کررہے ہیں ۔اس سے خطے میں امن کے ماحول کے لیے اکٹھے کام کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سوچ یہ ہے کہ اگر جنوبی کوریا اپنے ہتھیار کو تلف کردے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے اس سلسلے میں چھ ملکی بات چیت مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان اکانومی واچ کے صدر اور عا لمی شہرت یا فتہ ما ہر اقتصادیات ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں تنزلی کا رجحان ہے اور سٹیٹ بینک اس موقع پر شرح سود میں کمی کا اعلان کر کے معیشت میں نئی روح پھونک سکتا ہے۔ ا سٹیٹ بینک کی جانب سے تیل کی بین الاقوامی قیمت 110ڈالر فی بیرل تک گرنے کی صورت میں شرح سود اور ڈسکاونٹ ریٹ میں کمی کا اعلان معاشی صورتحال میں بہتری کے لئے ایک نہایت صائب فیصلہ ہو گا جس کے نتائج ساری قوم کے لئے اچھے ثابت ہونگے۔ اس سے افراط زرکم ہو گا اور گرتی ہوئی کرنسی کو سہارا ملے گا۔ معیشت کوسیاست سے بالاتر ہو کر بچانامرکزی بینک کی زمہ داری ہے جس سے پوری طرح عہدہ براہ ہونا چائیے۔ سٹیٹ بینک مناسب وقت پر معیشت کو بچانے اور افراط زر میں کمی میں ناکام رہا ہے جس نے اس کی ساکھ متاثر کی ہے۔اب ارباب اختیار کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا زبردست موقع ہے جس سے فائدہ نہ اٹھانا زیاتی ہو گی۔تیل کی بین الاقوامی قیمتیں 145ڈالر سے 123ڈالر تک گر گئی ہیں اور مزید گر رہی ہیں۔ اب حکومت اور سٹیٹ بینک کے پاس موجودہ پالیسیاں اور قیمتیں برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ ساری دنیا میںحکومتیں اور تیل کمپنیوں کی اشیاء کے قیمتیں کم کی جا رہی ہیں۔ بھارت نے سی این جی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں آٹھ روپے کی کمی کر دی ہے جبکہ پٹرول کی قیمت ساڑھے چار روپے کم کی جا رہی ہے۔ادھر ہماری حکومت عوام کو چکر پر چکر دئیے جا رہی ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے ایسے اعلان سے بینکوں اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گااور انھیں اپنی سرمایہ کاری پر منافع نظر آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے صرف ماحول میں بہتری آئی ہے کیونکہ ساری دنیا میں گاڑیوں کا استعمال کم ہوا ہے۔ اے پی ایس
No comments:
Post a Comment