
بر طانوی اخبار سنڈے ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکا کے موقع پر بش انتظامیہ نے پاکستان کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے کردار پر انگلی اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ایجنسی دانستہ طور پر افغانستان میں نیٹو کی قیام امن کی کوششوں کو سبوتاڑ اور القاعدہ و طالبان عناصر کی مدد کر رہی ہے۔ واشنگٹن میں ملاقات کے دوران جب جارج ڈبلیو بش کا آمنا سامنا یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ہوا تو انہیں اس بات سے آگاہ کردیا گیا کہ آئی ایس آئی کے دہرے کردار کی وجہ سے بش انتظامیہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ گیلانی سے ملاقات کے دوران صدر بش نے خبردار کیا کہ اب اگر افغانستان یا کسی اور جگہ مزید ایک حملہ ہوا اور اس کے ڈانڈے پاکستان سے ملے تو سخت ترین اقدام کیا جائے گا۔ گیلانی نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن سے بھی ملاقات کی جنہوں نے وزیراعظم کو ایک دستاویز پیش کی جس میں آئی ایس آئی کی جانب سے طالبان کی مدد کرنے اور کابل میں بھارتی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کے ثبوت موجود تھے۔ اس حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ ایک ٹیلی فون کال انٹر سیپٹ کی گئی ہے جس سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ کابل میں مذکورہ حملے میں آئی ایس آئی نے ماسٹر مائنڈ کا کردار ادا کیا تھا۔ جبکہ واشنگٹن سے واپسی پر وزراء نے کہا کہ انہیں دورہ امریکا اور پاک امریکا تعلقات میں اعتماد کے نقصان پر دھچکا لگا ہے۔ پاکستانی وفد میں شامل ایک وزیر نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے معاملے پر وہ (امریکی) بہت برہم تھے، جب ہم نے اس معاملے پر مزید تفصیلات طلب کیں تو امریکی صدر ہنس دیئے اور کہا ” ہم آپ لوگوں سے معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں اور بدمعاش لوگ بھاگ جاتے ہیں“۔ وزیراعظم گیلانی کے مشیر برائے امورِ داخلہ رحمن ملک ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہیں کہ آئی ایس آئی کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملے میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کئے گئے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا پاکستانی علاقوں میں کئی بار میزائل حملے کرچکا ہے لیکن اکثر یہ ہوتا ہے کہ مطلوبہ ٹارگٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ بش انتظامیہ آئی ایس آئی کی جانب سے شرپسندوں کو معلومات فراہم کرنے کے معاملے پر اتنی زیادہ پریشان ہے کہ رواں سال جنوری میں بش انتظامیہ نے دو انتہائی سینئر انٹیلی جنس افسران (مائیکل میک کونیل اور مائیکل ہیڈن) کو پرویز مشرف سے ملاقات کیلئے پاکستان بھیجا اور انہوں نے سی آئی اے کو وسیع تر اختیارات کے ساتھ پاکستانی قبائلی علاقوں میں کارروائی کی اجازت طلب کی۔ امریکا کو سب سے زیادہ تشویش آئی ایس آئی کے اسکے اپنے پرانے اتحادی جلال الدین حقانی کے ساتھ تعلقات پر ہے، حقانی کے تعلقات پنجاب کے شدت پسند گروپ لشکر طیبہ سے ہیں جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ کنڑ میں اسی گروپ نے گزشتہ ماہ امریکی چوکی پر حملہ کرکے 9 فوجیوں کو ہلاک کیا تھا۔ صورتحال چاہے جو بھی، پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکا صرف افغانستان میں حملوں کو روکنا چاہتا ہے، وہ پاکستان کو اس کی سرزمین پر دہشت گردی سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کوئی مدد کرنا چاہتا ہے اور نہ اہم ترین ساز و سامان، جیسا کہ بغیر پائلٹ کے طیارے، دے رہا ہے۔ پاکستانی وزراء اس وقت سخت ناراض ہوئے جب وہ دورہ امریکا کیلئے روانہ ہو ہی رہے تھے کہ امریکی طیارے نے قبائلی علاقے میں میزائل حملہ کردیا۔ وزیراعظم کے وفد میں شامل ایک رکن نے کہا کہ طیارے اڑتے وقت مجھے اپنے بلیک بیری (موبائل فون) پر جو پیغام موصول ہوا وہ یہی تھا کہ امریکی طیارے نے قبائلی علاقے میں ایک اور حملہ کردیا ہے۔ مذکورہ رکن نے طنزیہ کہا، ”کیا شاندار تحفہ ہے!“ ۔ جبکہ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باوچر نے بھی کہا ہے کہ اگر پاکستان کو دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنا ہے تو حکومت، فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مل کر ایک سمت میں چلنا ہوگا ۔ یوسف رضا گیلانی کا دورہ امریکا کامیاب رہا،پاکستانی عوام نے جمہوریت کی بحالی کیلئے معتدل پسند لیڈروں کوچنا ،پاکستان کے لیے یہ بہت ضروری ہے اس کی حکومت کے تمام شعبہ ایک ہی سمت میں چلیں پاکستان میں ایک نئی سیاسی قیادت نے حکمرانی سنبھالی ہے اور اس کے سامنے کئی بڑے چیلنج ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ’ فوج اور انٹیلی جنس سروسز سمیت دوسرے ادارے اس کے ساتھ مل کر کام کریں۔‘ ’حکومت کو اگر واقعی دہشت گردی پر قابو پانا ہے تو اسے سب کو ایک ہی سمت میں لیکر چلنا ہوگا۔‘امریکہ کو سارک میں مبصر کی حیثیت حاصل ہے اور اجلاس میں مسٹر باوچر اس کی نمائندگی کر رہے ہیں منقسم معاشرہ دہشت گردی کیخلاف جنگ نہیں لڑ سکتا۔ حکومت پاکستان کو فوج تعلیم اور بہتر سیاسی ماحول کو اکٹھا لے کر آگے چلنا ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکے۔ آئی ایس آئی کے حوالے سے ایک سوال پر رچرڈ باو¿چر نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے انٹیلی جنس سروسز اور فوج بہت ضروری ہیں اور انٹیلی جنس سروس ایک ایسا جزو ہے جس کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ پیپلزپارٹی حکومت خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی وجہ سے آج کل امریکی حکام اور ذرائع ابلاغ کا مسلسل ہدف بنی ہوئی ہے۔ یہ نہ پہلی مرتبہ ہے اور نہ شاید آخری ہو لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس تمام الزام تراشی کی اس موقع پر وجوہات کیا ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کو شک ہے کہ افغانستان میں اس کے مکمل کنٹرول کا واحد مخالف پاکستان ہے۔ طالبان یا مولوی جلال الدین حقانی کو اس تمام اسکیم میں پاکستان کے ایک آلہ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو خدشہ ہے کہ افغانستان کے بعد نمبر پاکستان کا ہوگا اگر ایسا ہے تو امریکی موجودگی کا سب سے بڑا خطرہ ایران کو ہونا چاہئے لیکن وہ تو کسی طالبان کی مدد نہیں کر رہا۔ چاہے اس خطے کے قدرتی وسائل ہوں یا پھر محض اپنی موجودگی کو یقینی بنانا امریکہ کے آنے سے افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک کو بھی پریشانی یقینی ہے۔ ایسا ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس تاثر کا افغانستان میں پاکستان کو بہت برا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہر افغان یہاں تک کہ وہ جو پاکستان میں کئی دہائیوں تک پناہ گزین کے طور پر مہمان نوازی کا فائدہ اٹھاتے رہے وہ بھی متنفر ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کا اثر یقیناً بڑھا ہے لیکن اس کی وجہ اس کی وہ سینکڑوں ٹاٹا بسیں ہیں جو آج بھی عام افغان کو آمدورفت میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اپنی مدت صدارت کے آخری چند ماہ میں ہیں۔ ایسی خبریں پہلے ہی آ چکی ہیں کہ نومبر کے صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لئے امریکہ کوئی بڑی کارروائی کرے۔ وہ القاعدہ کے کسی بڑے رہنما کو پکڑنے میں کامیاب رہے یا پھر قبائلی علاقوں میں مزید بڑی کارروائیاں کرے۔ اس سے قبل وہ شاید آئی ایس آئی سے کچھ نکلوانے کی کوشش میں مصروف ہے، اسے آنکھیں دکھا رہا ہے۔ آئی ایس آئی کیخلاف سازشیں ہو رہی ہیں اور ملک کی صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی ہے، آئی ایس آئی کو کمزور کرنا ملک اور فوج کو کمزور کرنے کے مترادف ہے،آئی ایس آئی اور پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے اس ادارے کے خلاف سازش کی گئی، آئی ایس آئی ایک محب وطن ادارہ ہے جو ملک کے استحکام کیلئے کام کر رہا ہے میڈیا پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تب ہم سوچتے ہیں۔ اس وقت صورتحال نہایت خطرناک ہے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ایک ہی بات ہونی چاہئے یہ نہیں کہ سب اپنی اپنی الگ ا لگ کہیں چند روز سے ایک نہایت خطرناک ڈولپمنٹ ہوئی ہے جو آئی ایس آئی سے متعلق ہے اس میں سازش نظر آتی ہے۔ یہ آئی ایس آئی کو اور فوج کو کمزور کرنے کی سازش ہے آئی ایس آئی کی غلطی یا کمزوری یہ ہے کہ جس حکومت نے بھی اس سے جوکہا اس نے کر کے دکھا دیا۔ ہمیں آئی ایس آئی پر فخر کرنا چاہیے۔ آئی ایس آئی کو تحفظ دینا چاہیے یہ ہم سب کا فرض ہے۔ جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں سے نصف کو تو پہلے ہی آئی ایس آئی پکڑ لیتی ہے۔ جس کا اخباروں میں ذکر بھی نہیں کیا جاتا۔ گزشتہ چار پانچ ماہ میں غیر ملکی سطح پر آئی ایس آئی کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔ ہمیں یہ غلط فہمیاں دو رکرنا ہوں گی۔ آئی ایس آئی پاکستان کو تحفظ دیتی ہے اور دیتی رہے گی۔جو عناصر ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب کر رہے ہیں وہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کو غیر مستحکم کردیں گے تو وہ یہ بھول جائیں ، ان عناصر سے سختی سے نمٹا جائے۔ صدر مملکت پرویز مشرف کو چا ہیے کہ ملک سے بحران اور ایشو کے خاتمے کے لیے وہ خود چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کردیں کیونکہ آج پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سازش کی جارہی ہے، آئی ایس آئی کو توڑنے کی سازش میں امریکہ اور انڈیا بھی شامل ہیں، امریکی دوستی اپنے مفادات کے لئے ہے، ۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment