International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, August 6, 2008

شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری۔تحریر محمد رفیق،اے پی ایس



امریکی فوج پر حملے کے الزام میں پانچ برس سے لاپتہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایف بی آئی کی حراست میں نیویارک پہنچا دیا گیا ہے جہاں انہیں امریکی فوجیوں اور اہلکاروں پر حملے کے الزام میں منگل کو عدالت میں پیش کیاگیا۔نیویارک میں ایف بی آئی اور نیویارک کے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی کی طرف سے جاری کیئے جانے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو ایک ماہ قبل افغانستان میں غزنی کے صوبے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اٹھارہ جولائی کو ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی ایک تفتیشی ٹیم پر ایک فوجی کی بندوق چھین کر فائرنگ کر دی تھی۔ اس ٹیم میں شامل ایک امریکی فوجی کی جوابی فائرنگ اور اس کے بعد کشمکش میں ڈاکٹر عافیہ زخمی ہو گئی تھیں۔ اس بیان کے مطابق ڈاکٹر عافیہ ایف بی آئی کو کافی عرصے سے دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھیں۔ اس بیان میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو غزنی میں گورنر کی رہائش گاہ کے احاطے سے افغان پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق افغان پولیس کو شیشے کے مرتبانوں اور بوتلوں میں سے کچھ دستاویزات ملی تھیں جن میں بم بنانے کے طریقے درج تھے۔ اس بیان میں کہا گیا ڈاکٹر عافیہ ایک کمرے میں بند تھیں۔ جب ان سے تفتیش کے لیے ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی ایک ٹیم پہنچی تو انہوں نے پردے کے پیچھے سے ان پر دو گولیاں چلائیں لیکن وہ کسی کو نشانہ نہ بنا سکیں۔ چھتیس سالہ ڈاکٹر عافیہ امریکہ سے تعلیم یافتہ ہیں اور مبینہ طور پر القاعدہ کی رکن ہیں۔2003ء میں کراچی سے ان کی گمشدگی کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ڈاکٹر عافیہ اور ان کے تین بچوں کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 2004ءمیں اس وقت کے امریکی اٹارنی جنرل ایشکرافٹ اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ مولر نے ڈاکٹر عافیہ کو القاعدہ کے ان ارکان میں شامل کیا تھا جو کہ امریکہ کو دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھے۔ دوسری جانب سے عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی کو شدید خطرہ ہے ان پر مظالم کی انتہاءہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ ان کی بہن پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہوں نے عافیہ صدیقی کو پاکستان لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی نڑاد خاتون ڈاکٹر عافیہ 2003ء میں کراچی سے غائب ہوئیں جنہیں بعد میں امریکہ میں القاعدہ سے مبینہ تعلقات کی بناء پر حراست میں پایا گیا جس کی اطلاع ایف بی آئی کے ایجنٹس نے از خود میڈیا میں دیں۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو منگل کو امریکہ عدالت میں پیش کیا گیا جن پر کیس بہ عنوان (ڈاکٹر عافیہ بہ نام امریکی حکومت) میں امریکی ریاست اور ڈاکٹر عافیہ کو فریق ٹھہرایا گیا ہے۔ایف بی آئی کی ایجنٹ مہتاب سید جو اس کیس میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ ٹاسک فورس میں بحیثیت خصوصی ممبر شامل ہیں ذاتی طور پر عافیہ صدیقی کے کیس کے تمام تحقیقاتی مراحل میں شامل رہیں جنہوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف الزام میںامریکی مجسٹریٹ جنوبی ڈسٹرکٹ تھیوڈور ایچ کاٹز کو شواہد پیش کئے ہیں جن پر ڈاکٹر عافیہ کی جانب سے امریکی اہلکاروں پر حملے کی کوشش کو بنیاد بنایا گیا ہے۔مہتاب سید نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو 18 جولائی 2008ءکے واقعے میں مورد الزام ٹھہرایا گیاجس دن انہوں نے غیر قانونی اور دانستہ طور پر اپنے مکمل ہوش حواس میں جان لیوا اور خطرناک ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے امریکی کوڈ سیکشن 1114 میں ٹائٹل 18 کے تحت جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے ڈیوٹی پر مامور ایف بی آئی کے افسران و ملازمین پر حملہ کیا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکہ فوجی کی ایم۔4 رائفل کے استعمال سے یہ غیر قانونی کام سرانجام دیا جس کے نتیجے میں ڈاکٹر عافیہ پر سیکشن 111(a),(1),(b) اور3238 کے تحت فرد جرم عائد ہوتی ہے۔ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہیں جب 17جولائی2008ء کو افغانستان کے صوبے غزنی میں افغان نیشنل پولیس (اے این پی) نے پکڑا جن کے ساتھ ایک نوعمر لڑکا تھا۔اے این پی افسران نے پاکستانی خاتون سے دری اور پشتو زبان میںپوچھ گچھ کی تاہم اردو میں ردعمل موصول ہونے پر معلوم ہوا کہ وہ پاکستانی نڑاد ہیں۔انہیں مشتبہ جانتے ہوئے جب ان کے سامان کی تلاشی لی گئی تو ان کے سامان سے آتش گیر مواد، کیمیائی ہتھیار بنانے کا سامان اور بائیولوجیکل ہتھیار کی تیاری میں معاون جرثومے دستیاب ہوئے اور ساتھ ساتھ ایسے نقشے برآمد ہوئے جن میں امریکہ کی حساس تنصیبات کی نشاندہی کی گئی تھی جبکہ ایک گیگابائیٹ کی اسٹوریج ڈیوائس بھی ان کے سامان میں شامل تھی۔ پاکستان اور اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ پاکستان سے کسی کو اغواءکر کے افغانستان یا امریکہ میں غیر قانونی طور پر زیر حراست رکھ سکے امریکہ نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر تے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور اس کے بچوں کو پانچ سال سے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے حقیقت میں امریکہ اور نیٹو خطر ناک جنگی مجرم ہیں اور پوری دنیا کے لوگوں کو ان کے خلاف جرائم کی عالمی عدالت یا انسانی نسل کشی کے قوانین کی عدالتوں میں آواز بلند کر نی چاہیے تا کہ عراق اور افغانستان پر ناجائز قبضے کے بعد انسانیت کے خلاف جرائم ،جنگی جرائم اور امن کی سبوتاڑی کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے جرائم کو بے نقاب کیا جا سکے کمیشن کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت ،امریکی فوج اور امریکی ایجنسیوں ،ڈی او ڈی ،او جے ،امریکن ایف بی آئی یا پاکستانی خفیہ ادارے افغانستان کے ڈرگ مافیا ،افغان حکام اور جنگی مجرم حامد کرزئی سمیت کسی کو یہ قانونی اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ پاکستانی شہری کو گرفتار کر کے افغانستان میں غیر قانونی حراست میں رکھے واضح رہے کہ امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی نے تسلیم کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی افغانستان کی بگرام ایئر بیس پر امریکی قید میں ہیں لیکن وہ زخمی ہیں ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق امریکی ادارے نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں ڈاکٹر عافیہ کے بچوں کے متعلق سخت تشویش ہے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں اغواءہو نے والی ڈاکٹر کے بارے میں امریکی اور پاکستانی حکام پر شدید دباو¿ کے بعد یہ معلومات فراہم کی گئی ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ افغانستان میں قید ہیں انسانی حقوق کمیشن نے لکھا ہے کہ بگرام جیل میں حراست کے دوران تشدد کے باعث ڈاکٹر عافیہ کا ذہنی توازن خراب ہو چکا ہے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی کی تصدیق کے بعد ایف بی آئی کے ایک افسر نے ڈاکٹر عافیہ کے بھائی سے ان کے گھر میں ملاقات کی ہے اور انہیں اطلاع دی ہے کہ وہ افغانستان میں ان کی تحویل میں ہے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی حکام نے ان کے حوالے سے صحیح معلومات فراہم نہیں کی اور نہ ہی ان کے بچوں کے بارے میں حقیقت بیان کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے رشتہ داروں اور عزیزوں کو مختلف ایجنسیوں کی جانب سے دھمکایا گیا تھا کہ وہ کیس کو خارج کریں لیکن امریکی ایف بی آئی کی اس تصدیق کے بعد وہ افغانستان میں ہے اور زندہ ہے اور زخمی حالت میں ہیں ڈاکٹر عافیہ کا اغواءہو نا انہیں 5سال کے لئے قید میں رکھنا ،ان پر کے خفیہ اداروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنانا اور ان کے بچوں کے حوالے سے غیر مصدقہ معلومات فراہم کر نا ان تمام اقدامات کا ذمہ دار خفیہ ادارے کو ٹھہرایا جا تا ہے جو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خاندان والوں کو اب تک دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں انسانی حقوق کمیشن نے اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے بارے میں فوری طور پر تحقیقات کریں اور ان کے بچوں کے حوالے سے حقیقی صورتحال سے آگاہ کریں اور امریکی زیر قیادت اتحادی فوج کو فوری طور پر ڈاکٹر عافیہ کو بچوں سمیت رہا کریں اور انہیں ذہنی جسمانی علاج مہیا کریں۔ جبکہ ملک بھر کے عوام اور اے پی ڈی ایم نے مطالبہ کیا ہے کہ "صدر پرویزمشرف فوری طور پر مستعفی ہو جائیں ۔ بلوچستان سمیت پورے ملک سے لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے ۔ ملک میں بیرونی مداخلت ، فوج اور ایجنسیوں کے سیاست میں مداخلت کا خاتمہ کیا جائے اور صوبائی خود مختیار دی جائے ۔ بصورت دیگر یکم ستمبر سے پورے ملک میں ہڑتال کی جائیگی ۔اس وقت ملک انتہائی سنگین صورتحال سے گزر رہاہے ۔ ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال ہے ۔ عوام کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے ۔ نئی جمہوری حکومت سے عوام کی جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہو ئی ۔ان تمام صورتحال کے ذمہ دار امریکا اور ان کے حواری ہیں ۔ امریکا ایک طرف تو انسانی حقوق کی تحفظ کی بات کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف امریکا نے اپنے مفادات کی خاطر افغانستان پر جنگ مسلط کی جو تورا بورا سے شمالی وزیرستان ، حیات آباد اور وہاں سے اسلام آباد کے جامعہ حفصہ تک پہنچ گیا ۔ جو کہ چند ڈالر کی خاطر کیا گیا۔ملک میں آئین اور قانون نام کی کوئی چیز بھی نہیں ہے ۔ ساٹھ سے زائد ججوں کو معزول کیا جا چکا ہے ۔ ہر جگہ لوگوں کو یرغمال بنا یا گیا ہے ۔ آئے روز نیٹو فورسز اور ہماری فوج بے گناہ اور معصوم لوگوں کا قتل عام کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ جس طرح افغانی صدر پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ خوف کے مارے اپنے شاہی محل سے باہر نہیں نکل سکتے تو اس طرح ہمارے وزیر اعظم بھی اپنے ملک کے قبائلی علاقوںمیں جانے سے کتراتے ہیں ۔"ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی طرح دیگرکئی معصوم اور بے گناہ شہری جنہیں بغیر عدالت میں پیش کئے امریکہ کے حوالے کردیا گیا ہے انہیں بھی عدالتوں میں پیش کیا جائے اور بے گناہوں کوفوراً رہا کیا جائے۔ بے شمار پاکستانی شہری امریکی جیلوں میں بند ہیں جن کا کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ انہیں معلوم ہے کہ انہیں یہ اذیتیں کس گناہ کی پاداش میں دی جارہی ہیں۔یہ ہم سب کے لئے شرم کا مقام ہے کہ چند سو ڈالر کے عوض پاکستانی بے گناہ اور معصوم شہریوں کو بیچ دیا گیا ۔اگر حکومت کو کسی شخص پر شک و شبہ ہو تو ملزم کو عدالت میں پیش کر کے تحقیقات کی جانی چاہئیں نہ کہ بغیر تحقیق کے اسے اٹھا کر امریکہ کے حوالے کردیا جائے۔ حکومت کو چاہئیے کہ دیگرلاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور انہیں ان کے لواحقین تک پہنچایا جائے،پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اس شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کا اولین فریضہ ہے. ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی گرفتاری اور تذلیل ہمارے حکمرانوں کے لیے ڈوب مرنے کامقام ہے۔ اس مجرمانہ عمل پر قوم انہیں معاف نہیں کرے گی۔ اہل قلم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کریں ۔ سچ لکھیں اور تاریخ کو مسخ نہ ہونے دیں۔ شاعر ادیب اور کالم نویس ہی قوموں کی صحیح سمت میں رہنمائی کرتے ہیں اس وقت دنیا میں امریکہ سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں سے مل کرعراق افغانستان میں انسانیت کا قتل عام کیا ہے، جبکہ فلسطین اور کشمیر میںہونے والے مظالم اور بربریت کے سلسلے میں بھی اسرائیل اور بھارت کو امریکی حمایت حاصل ہے۔ مظلوم مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔صحافیوں اور کالم نویسوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مظلوموں کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں۔آمر اور جابر حکمرانوں نے تاریخ کو اپنی مرضی سے لکھوایا ۔ مغربی میڈیا اپنی مرضی کی اطلاعات دنیا تک پہنچاتا ہے۔وہ قلمکار قبل تحسین ہیں جنھوں نے جبر کے ماحول میں بھی اپنی تخلیقات کے ذریعے قوم کی رہنمائی کی ہے۔اے پی ایس




No comments: