International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, August 4, 2008

آئی ایس آئی کا دہشت گردی کے خلاف موثر کردار تحریر : محمد اکرم خان آفریدی




ایسوسی ایٹڈ پریس سروس،اسلام آباد

ملٹری انٹیلی جنس(ایم آئی)،نیول انٹیلی جنس(این آئی) اور ائر انٹیلی جنس (اے آئی ) کی طرح انٹر سرسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) بھی خالص عسکری نوعیت کی ہے ۔ایم آئی،این آئی اور اے آئی تینوں اپنی اپنی سروس کے لئے خفیہ معلومات حاصل کرتی ہیں لیکن آئی ایس آئی تینوں سروسز سے متعلق معلومات اکٹھی ہی نہیں کرتی بلکہ اِس کے ماہرین اِن معلومات کا بغور جائزہ لے کر نتائج اخذ کرتے ہیں ۔یہاں تک کہ آئی ایس آئی کے ماہرین دشن کی نیت تک کا اندازہ لگا کر چیف آف آرمی سٹاف،ائر چیف اور نیول چیف کو آگا ہ کرتے ہیں ۔یہ ادارہ عسکری نوعیت کے باعث براہِ راست وزیر اعظم کے ماتحت ہوتا ہے ، آئی ایس آئی کی بنیاد 1948ء میں برٹش آرمی آفیسر میجر جنرل (ر) کیوتھوم نے رکھی۔1950ء میں اسے قانونی طور پر پاکستان کے تحفظ کی زمہ دار ٹہرا دیا گیا ۔ آئی ایس آئی کا ہزاروں کا عملہ ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کے انڈر ملک و قوم کے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر محنت کرتا ہے۔لیفٹننٹ جنرل جوکہ آئی ایس آئی میں بطور ڈائریکٹر جنرل کام کرتے ہیں انکے نیچے تین ڈپٹی ڈائریکٹر جنرلز ''ڈی ڈی جی پولیٹیکل،ڈی ڈی جی جنرل اور ڈی ڈی جی ایکسٹرنل کام کرتے ہیں ۔جبکہ یہ ادارہ چھ سے آٹھ ڈویثر نوں میں کام کرتا ہے۔جیسے کہ جوائینٹ انٹیلی جنس بیورو(JIB)جوائنٹ کاوئنٹر انٹیلی جنس بیورو(JCIB)جوائنٹ اٹیلی جنس نارتھ(JIN)جوائنٹ انٹیلی جنس مسلینئیس(JIM)جوائنٹ سگنل انٹیلی جنس بیورو(JSIB)جوائنٹ انٹیلی جنس ٹیکنیکل(JIT) اور جوائنٹ انٹیلی جنس ٹیکنیکل ڈویثرن شامل ہیں۔یہ تو تھیں آئی ایس آئی کے بارے میں بنیادی معلومات ۔اب قارئین کو بتانا چاہتا ہوں کہ آئی ایس آئی نے پاکستان کے تحفظ کی خاطر ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیاہے۔ بھارت اور افغانستان کے بعد اب امریکہ نے بھی آئی ایس آئی پر الزام لگانے شروع کر دئیے ہیں ۔ یہ امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے علم میں ہے کہ آئی ایس آئی نے دہشت گردی اور طالبان کے خاتمہ کے لئے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں نہ صرف آئی ایس آئی بلکہ پورے پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے بے شمار قربانیاں دی ہیں لیکن افسوس کہ اسکے باوجود بھی آج امریکہ نے الزام لگا دیا ہے کہ کابل میں موجود بھارتی سفارت خانے میں بم دھماکے کی زمہ دار آئی ایس آئی ہے ۔افسوس در افسوس کہ امریکہ کبھی پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں کی تعریف کرتا ہے اور کبھی اپنے محسن م±لک پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے ۔مجھے صدر مشرف کا آج بھی وہ بیان یاد ہے جِس میں انہوں نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی کا حاضر سروس آفیسرز طالبان کے لئے مددگار ثابت نہیں ہو سکتا ۔مجھے صدر مشرف کے ا±س سابقہ بیان سے اس لئے اتفاق ہے کہ میں جانتا ہوں کہ پاکستانی فوج کا ہر سپاہی حکومتی پالیسیوں سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرسکتا کیونکہ وہ حکومتی پالیسیوں کا حصہ ہوتا ہے اور پاکستانی حکومت کی پالیسی چونکہ اس وقت پوری دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ اور عالمی امن کا قیام ہے اس لئے آئی ایس آئی کے حاضر سروس آفیسرز کی بھی یہی پالیسی ہے۔ گزشتہ دنوں میں نے سی آئی اے کے ایک اعلیٰ اہلکار کا بیان پڑھا جس میں انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کا طالبان کے ساتھ رابطہ ہے یہ میرے لئے ایک حیران ک±ن خبر اسلئے تھی کہ امریکہ کی ایک اہم ترین ایجنسی کا اہم ترین اہلکار ایسا بیان دے رہا ہے جو مذاق لگ رہا تھا۔وہ اِس لئے کہ دنیا میں جتنی بھی خفیہ ایجنسیاں ہیں انہوں نے اپنے جاسوسی کے مقاصد پورے کرنے کے لئے ہر ملک اور ہر جماعت میں اپنے رابطے رکھنے ہوتے ہیں اور اگر وہ اپنے رابطے نہیں رکھ پاتے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ا±س ایجنسی کی نا اہلی ہے۔بہر حال میں امریکی سی آئی اے کے نائب ڈائریکٹر'' سٹیفن کاپس''پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ''رابطے'' اور ''مدد'' میں بڑا واضح فرق ہوتا ہے وہ خود بھی اس بات کو بخوبی سمجھتے ہوں گے کہ رابطے بڑھانا ہر خفیہ ادارے کی سٹریٹیجی کا ابتدائی مرحلہ ہو تا ہے اسلئے میرا خیال ہے کہ مسٹر سٹیفن صاحب آئندہ زر ا '' رابطے '' اور ''مدد'' میں فرق سمجھتے ہوئے اپنے موقف کی تصحیع کریں اور اپنے حکام کو بتائیں کہ پاکستان یا آئی ایس آئی طالبان کی مددگار نہیں ۔ اور وہ آئندہ محتاط انداز میں بیان دیں تاکہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے تعلقات بگڑ نہ سکیں۔ویسے بھی امریکہ آئی ایس آئی کا راگ الاپنے سے قبل وقتاً فوقتاً پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف براہِ راست کاروائیوں کی دھمکیاں دے رہا تھا ۔یہ وہی شدت پسند ہیں جو پاکستان میں افغانستان کی جانب سے ہجرت کرکے آئے تھے اور مہمان کے طور پر ٹھہرے تھے ۔امریکہ کو چاہئے کہ آئی ایس آئی کا راگ الاپنے کی بجائے بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے دامن سے لہو کے چھینٹے تلاش کرے جِس نے پاکستان کو بد نام کرنے کے لئے کابل میں خود ہی اپنے سفارت خانے پر حملہ کروا دیا۔ حکومتِ پاکستان نے خطے میں قیامِ امن کے لئے وقتاً فوقتاً طالبان کے ساتھ معاہدوں کے زریعے امن قائم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن امریکہ اِس پالیسی کے حق میں نہیں ہے۔معلوم نہیں کہ امریکہ دنیا میں خون خرابہ کیوں چاہتا ہے ۔ایک طرف امریکی بمباری سے لاکھوں بے گناہ مارے جارہے ہیں دوسری طرف امریکی عوام کے اندر یہ بات بڑی تیزی سے گردش کر رہی ہے کہ انکے ٹیکسز کی رقم سے اسلحہ خریدا جارہا ہے اور لاکھوں بے گناہس اسلحے کی بھینٹ چڑہ رہے ہیں۔اگر امریکی حکومت اور عوام دنیا کے دلوں پر راج کرنا چاہتی ہے تونہیں فی الفور دنیا میں قیامِ امن کے لئے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔اگر امریکہ اپنی طاقت لوگوں کو مارنے کی بجائے قیامِ امن، بھوک ،ننگ ،افلاس اور غربت کے خاتمے کے لئے استعمال کرے تو شائد امریکی بہت جلد پوری دنیا کے دلوں پر راج کریں ۔ اے پی ایس ، اسلام آباد



No comments: