International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Sunday, August 3, 2008

قومی وسائل پر صرف عوام کا حق ہےتحریر : اے پی ایس، اسلام آباد







سارک ممالک نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے لیگل فریم ورک کی منظوری دے دی ہے ۔ جس کے تحت سارک ممالک جرائم دہشت گردوں کی نشاندہی اور ان کی روک تھام کے لئے مل کر کام کریں گے ۔ اس فریم ورک میں مزید کہا گیا ہے کہ رکن ممالک ایک دوسرے سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ممکن حد تک قانونی سطح پر تعاون کریں گے ۔ 15 ویں سارک سربراہ کانفرنس کے دوسرے روز پاکستان اور بھارت سمیت خطے کے 8 ممالک نے فریم ورک کی منظوری دی ۔ قانونی فریم ورک جرائم سے نمٹنے باہمی قانونی تعاون پر سارک کنونشن کے ذریعہ رکن ممالک کے سیکورٹی فورسز کے مابین عزیم باہمی تعاون کی قانونی فراہمی کی گنجاش فراہم کی جائے گی جس کے تحت کسی بھی رکن ملک کی درخواست پر مجرموں اور دہشت گردوں کی گرفتاری اور حوالگی عمل میں لائی جا سکتی ہے اس معاہدہ پر سارک کے دو روزہ اجلاس کے اختتام کے موقع پر دستخط کئے گئے یہ معاہدہ بھارت کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہو گا کیونکہ پاکستان اور چند دیگر سارک ممالک کے ساتھ اس کے باہمی حوالگی مجرمین معاہدات زیر التوا ہیں ۔ بھارت اس طرح کے قانونی طریقہ کار کے لئے کافی عرصہ سے اصرار کر رہا تھا لیکن اب یہ مخالفت باقی نہیں رہی جس کی وجہ سے معاہدہ ممکن ہو سکا ۔ اس معاہدہ کے تحت رکن ممالک دہشت گردی جیسے جرائم کے معاملات کی تحقیقات میں بھی ایک دوسرے کا تعاون کریں گے ۔ جبکہ کو لمبو میں ا مریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باو¿چر نے کہا ہے کہ جمہوری حکومت پاکستان میں دہشت گردی کے ساتھ بہتر طریقے سے نپٹ سکتی ہے ۔ منقسم معاشرہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتا ۔ حکومت پاکستان کو فوج تعلیم اور بہتر سیاسی ماحول کو اکٹھا لے کر آگے چلنا ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکے ۔ آئی ایس آئی کے حوالے سے ایک سوال پر رچرڈ باو¿چر نے کہا ہے پاکستان میںد ہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے انٹیلی جنس سروسز اور فوج بہت ضروری ہیں ۔ اور انٹیلی جنس سروس ایک ایسا جزو ہے جس کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی انہوں نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکہ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ۔ انہوں نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے کابل بم دھماکے کی تحقیقات کرانے کے بیان کو سراہا اور کہا کہ یہ سب کچھ خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون سے ممکن ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں تشدد ہے اور حکومت پاکستان کو پہلے اس تشددسے نمٹنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری حکومت ہی بہتر طریقے سے تشدد کے خاتمے کو بہتر بنا سکتی ہے ۔ تشدد کے حوالے سے رچرڈ بائوچر کیا مراد لیتے ہیں انھیں پتہ ہوگا۔ البتہ لاہور کے علاقے اقبال ٹاو¿ن میں باری سٹوڈیو کے قریب واقع ایک گھر میں 15سال سے قیدلوہے کی زنجیروں سے جھکڑی ے دو بہنوں اور ان کے باپ کو ریسکیو 1122ٹیم نے مسلم لیگ (ن )کے کارکنوں کے ہمراہ بازیاب کر ا لیا ہے بتایا جاتا ہے کہ قیصر نامی شخص نے 15 سال قبل اپنی والدہ کی وفات کے بعد اپنی دو بہنوں 35سالہ نگہت 25 سالہ رفعت اور 60 سالہ باپ نذیر احمد کو لوہے کی بڑی بڑی زنجیروں سے ایک اندھیرے کمرے میں جھکڑ کر قید کر دیا تھا اور انہیں کھانے کے لئے درختوں کے پتے اور غلط اشیاء دیتا تھا زیادہ عرصہ قید رہنے پر تینوں ذہنی طور پر بالکل مفلوج ہو گئے ہیں اور بات کر نے سے قاصر ہیں بتایا جاتا ہے کہ بڑی بہن نگہت میٹرک اور چھوٹی بہن رفعت نے گریجوایشن کیا ہوا ہے اور ان کا باپ نذیر احمد واپڈا میں 16 گریڈ کا افسر تھا پڑوسیوں کی اطلاع پر ریسکیو ٹیم نے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے ہمراہ گھر میںگھس کر انہیں بازیاب کرایا ریسکیو ٹیم کے مطابق کمرہ بالکل تاریک تھا اور یہ تینوں بھاری بھاری لوہے کی زنجیروں سے جھکڑے ہوئے تھے جب انہیں باہر نکالا گیا تو وہ لوگوں کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئیں اور رونا شروع کر دیا کیونکہ 15سال سے انہوں نے کوئی روشنی اور بندہ نہیں دیکھا تھا ریسکیو ٹیم کے چھاپے سے قبل قیصر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا ان تینوں کو سروسز ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں طبی امداد دی جا رہی ہے اور مختلف ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں پڑوسیوں کے مطابق قیصر لوگوں کو دھمکیاں دیتا تھا کہ اگر انہوںنے اس کے گھریلو معاملات میں مداخلت کی تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے قیصر کے متعلق ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ ذہنی مریض ہے یا ٹھیک حالت میں ہے تاہم اس کی گرفتاری کے بعد ہی صحیح صورت حال کا علم ہو سکے گا۔گھریلو ملازمین کے ساتھ بیہمانہ سلوک کی خبریں تو ہر دوسرے تیسرے روز میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ان ملازموں پر نہ صرف گھر کا ہر فرد ذہنی و جسمانی تشدد کرتا ہے۔بلکہ کئی مرتبہ وہ مردہ بھی پائے جاتے ہیں۔لیکن یہ خبر نہیں آتی کہ مجرم خاندان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ پاکستان جیسے ممالک میں اس طرح کی کہانیاں صرف فرد سے منسوب نہیں ہیں سابقہ حکومت بھی اسی طرح کے رویے میں ملوث تھی۔ کتنے پاکستانی شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر لاپتہ ہوگئے۔اس بارے میں حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دعووں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔کتنے شہریوں کو حکومت نے دیگر ممالک کو فروخت کرکے معاوضہ وصول کرلیا ۔کوئی نہیں جانتا۔سن دو ہزار سات میں صرف تھانوں کے اندر ڈیڑھ سو ملزموں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ پینسٹھ ملزم پولیس حراست میں ہلاک ہوگئے۔کتنے افراد پولیس اور نیم مسلح اداروں کے نجی عقوبت خانوں میں پائے جاتے ہیں۔اور یہ عقوبت خانے کتنے ہیں اور کہاں کہاں ہیں۔کون جانتا ہے۔ کتنے قیدی محض اس لیے بند ہیں کہ ان کے پاس ضمانت کرانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔کیا سزائے موت اور عمر قید بھگتنے والے نوے فیصد افراد کے جرائم میں یہ جرم بھی شامل ہوتا ہے کہ ان کا کوئی بااثر والی وارث نہیں ہوتا یا وہ تگڑی سفارش اور موثر دباو¿ کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں۔ اس کا جواب کس کے پاس ہے۔ کتنے پاکستانی شہری انسانی اسمگلنگ کے کاروبار کا نوالہ بن چکے ہیں۔اور کتنے بیرونِ ملک جیلوں میں ہیں۔دفترِ خارجہ کہتا ہے کہ صرف ساڑھے تین سوہیں، سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے اہلکار کے مطابق ساڑھے تین ہزارہیں جبکہ انسانی حقوق کے ادارے کہتے ہیں کہ یہ تعداد سات سے دس ہزارہے۔ خاندانی و قبائلی تنازعات میں مصالحت کے عوض نوعمر بچیوں کو بطور تاوان دینے کی روایت کے سرپرست اسمبلیوں میں بیٹھے ہوں۔جہاں صدرِ مملکت سوچ یہ ہو کہ کئی خواتین غیرملکی ویزوں کے لیے ریپ کروالیتی ہیں۔اسوقت ستر سے زائد ممالک میں پاکستانی سفارتخانے ہیں۔بیرونِ ملک پاکستانی قیدیوں کے جرائم کی نوعیت کیا ہے۔انہیں کس قسم کی قانونی امداد میسر ہے۔ایسے سوالات ہیں جن کا ان کے ذمہ داروں کے پاس کو ئی جواب نہیں۔ جبکہ سازشی عناصر ملک میں جمہوری نظام کا خاتمہ کرکے آمریت مسلط کرنا چاہتے ہیں حکمراں اتحاد کو مل کر ان سازشوں کو ناکام بنا کر جمہوریت اور جمہوری نظام کو مستحکم بنانا ہوگا سابقہ حکمرانوں نے پورا نظام تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور ان کی ناقص اور غلط پالیسیوں کے باعث قائد اعظم کا پاکستان تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے عوام انصاف کی فراہمی چاہتی ہے اس لئے ججوں کی بحالی کے حوالے سے سنجیدہ ہونا ہوگاسابقہ حکمرانوں نے اربوں روپے کے قومی وسائل اپنی ذاتی شان و شوکت کے لئے استعمال کئے لیکن عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔اگر عوام کا پیسہ عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔ قومی وسائل پر صرف عوام کا حق ہے اور یہ وسائل عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے، انہیں صحت اور تعلیم کی سہولتوں کی فراہمی پر ہی صرف کئے جائیں سابق حکمران قومی خزانے سے اربوں روپے اپنی ذاتی تشہیر پر لگانے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرتے تو آج عوام اس کسمپرسی کی حالت میں نہ ہوتے۔ پاکستان ہم سب کا گھر ہے اور ہمیں بہت عزیز ہے۔ اس لئے ہم سب کو مل جل کر ملک کے حالات کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ملک کی سا لمیت اور بقاء کے لئے لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہوگا۔بے لاگ انصاف کی فراہمی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔اسی لئے ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے مضبوط اور اصولی موقف حکمران اتحاد کیلئے ناگزیر ہے ورنہ مہینوں اور ہفتے نہیں بلکہ دنوں میں حکرانوں کا بوریا بستر لپیٹ دیا جا ئے گا اور اس ضمن میں مشرف اشارہ دے چکے ہیں اور حیرت ہے کہ کسی بھی سیا سی پا رٹی اور اتحاد حکمران کی کسی اعلی شخصیت کی طرف سے کو ئی رد عمل سا منے نہیں آیا۔ اگرچہ وزیر اعلی شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کر تے ہو ئے کہا ہے کہ اگر انصاف کی فراہمی کے مشن کی راہ میں ہزار وزارت اعلی بھی قربان کرنا پڑیں تو پرواہ نہیں۔انہوں نے کا کہ معزول ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی نہ صرف ہمارا بلکہ 16 کروڑ عوام کا مطالبہ ہے۔ ہماری جدوجہد ملک میں لوگوں کو بلاتاخیر انصاف کی فراہمی کے لئے ہے اور ہم اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ معاشرے کے پسے ہوئے اور محروم طبقات کو فوری انصاف ملے۔انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ ہمارا اتحاد مضبوط ہو اور ہم مل کر قوم کو مسائل کے بھنور سے نکالیں جس دھرتی پر انصاف نہ ہو وہاں امن و سکون نہیں رہتا اور معاشرے سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ آٹے کی قیمت کسی صورت بڑھنے نہ دی جائے اور حکومت کو چاہیے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں آٹا مز ید سستا اور اس کی فراہمی بہتر کی جائے۔ سرکار کی وساطت سے اسلام آباد کی ما رکیٹوں میں د ستیاب آٹا ناقص معیار کا ہے لو گوں کے پیٹ میں درد ہو رہا ہے یہ صورتحال وفاقی دارلحکومت کی ہے با قی ملک کا کیا حال ہے اس ضمن میں بھی حکمران ہوش کے ناخن لیں جبکہ وزیر اعلی پنجاب کا یہ بھی خوش آئند عزم ہے کہ مفت تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے ، ملک کا کھویا ہوا وقار بحال کرنے اور کشکول توڑنے کے لئے ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا ہوگا اور ہم اس جانب گامزن ہیں۔ اے پی ایس

شہری غیر قانونی سکیموں میں پلاٹوں کی خرید وفروخت نہ کریں ۔ سی ڈی اے ترجمان

اسلام آباد ۔ وفاقی دارالحکومت کے خیابان ، مارگلہ اور مارگلہ ہلز کے درمیان حصے میں جاری ہاؤسنگ سکیموں کو سی ڈی اے نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسلام آباد کے سیکٹر ایریا زون ون میںپلاٹوں کی خرید و فروخت نہ کریں ۔ آج سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف ہاؤسنگ سوسائٹیز کی جاری کردہ ایک بیان میں عوام الناس کو مطلع کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایریا ای ۔ 13 ، ایف ۔ 14 ، ایف ۔13 ، ایف ۔ 12 ، جی ۔ 12 ، ای 15 ، ای 14 ، ڈی ۔ 15 ، ڈی 14 ، ڈی ۔ 13 ، سی ۔ 17 ، سی ۔ 16 ، سی ۔15 ، سی ۔ 14 ، سی ۔13 ، سی ۔ 12 کے علاوہ خیابان مارگلہ اور مارگلہ ہلز کے درمیانی حصے میں غیر قانونی اور بلا اجازت ہاؤسنگ سکیموں کی ڈویلپمنٹ کی سرگرمیاں ہو رہی ہیں ۔ زون ون سیکٹرل ایریا اسلام آباد میں ہاؤسنگ سکیم کی منصوبہ بندی اور ڈویلپمنٹ کا کام غیر قانونی اور بلا اجازت ہے اس لیے لوگوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ ایسی غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں میں کسی بھی قسم کے پلاٹس کی خرید وفروخت نہ کریں ۔

پاکستان میں بھکاری مافیا کے ہاتھوں ’ ’ شاہ دولہ کے چوہوں ‘‘ کا استحصال

اسلام آباد ۔ جینیاتی مسائل کی وجہ سے چھوٹے سر، تلے کان ، ناک اوردبلے بدن کے ساتھ پیدا ہونے والے سیکڑوں نوجوان اور بچے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گجرات کے گلیوں ، بازاروں میں بھیک مانگتے نظرآتے ہیں .ان چھوٹے سر والے بچوں اور نوجوانوں کو ان کے والدین بچپن ہی میں بھکاری مافیاؤں کے ہاتھ فروخت کردیتے ہیں جو انہیں 17ویں صدی کے بزرگ شاہ دولہ کے نام پر ان کیچوہے قرار دیتے ہوئے ان کا استحصال کرتے اور ان سے شہر شہر،گاؤں گاؤں بھیک منگواتے ہیں .گجرات میں اس بزرگ کے مزارکے باہر چھوٹے سر والی 25 سالہ نادیہ ایک چٹائی پر بیٹھی ہے جویہاں آنے والے زائرین سے بھیک دینے کا تقاضا کرتی ہے. ”یہ اللہ کے بچے ہیں.ہمیں ان کی دیکھ بھال کرنے پر فخر ہے”.مزار کے سرکاری متولی اعجاز حسین کا کہنا تھا.اعجازحسین نے بتایا کہ نادیہ ایک چھوٹی بچی تھی جب اس کے والدین 20 سال قبل رات کے اندھیرے میں اسے مزار پر چھوڑ گئے تھے اور اس کے بعد کبھی اس کے والدین کا سراغ نہیں ملا.”اس دن سے ہم اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں لوگوں دعاؤں کے لئے یہاں آتے ہیں اور اپنی خواہشات کی تکمیل چاہتے ہیں لیکن وہ اس کا احترام کرتے ہیں”56 سالہ اعجاز حسین کا مزید کہنا تھا.مقامی روایت کے مطابق جس عورت کے ہاں بچہ پیدانہ ہو،وہ شاہ دولہ کے مزار پر آکر دعا کرے تو اس کے ہاں بچے پیدا ہوجاتے ہیں لیکن اس کو اس کی بھاری قیمت بھی چکانا پڑتی ہے .وہ یوں کہ لوگوں کی ضعیف الاعتقادی کے مطابق پہلا بچہ غیر معمولی طور پر چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہوگا جسے لازمی طور پر خانقاہ کی نذر کرنا ہوگا ورنہ اس عورت کے دوسرے بچے بھی اسی نقص کے ساتھ پیدا ہوں گے.لیکن عملاً اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ واقعتاً اسی وجہ سے بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور اگر میاں بیوں کو کوئی حیاتیاتی یا جینیاتی مسئلہ درپیش ہو تو ان کے ہاں کیسے اولاد جنم لے سکتی ہے. پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے شاہ دولے شاہ کے چوہوں کا استحصال کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی ہے .اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایسے افراد کی دیکھ بھال کے لئے گجرات میں بحالی مرکز قائم کرنا چاہتی ہے.ساٹھ کے عشرے میں جب حکومت نے اس مزارکوسرکاری تحویل میں لیا تھا تو اس کے بعد یہاں چھوٹے سر والے بچوں کو لینے پر پابندی لگا دی گئی تھی،لیکن مزار کے دروازے پر نہ صرف نادیہ آج تک موجود ہے بلکہ شہر کے بھکاری آقاؤں نے اس حوالے سے توہمات کوبھی زندہ رکھا ہوا ہے.دس لاکھ کے قریب آبادی والے صنعتی شہر گجرات میں چھوٹے سر والے بچوں کی بہت زیادہ تعدادایک طویل عرصہ سے تنازعے کی وجہ ہے.بہت سے پاکستانی اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ ظالم بھکاری گینگ بچپن میں بچوں کے سرلوہے سے جکڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے سر چھوٹے رہ جاتے ہیں لیکن حکومت اور انسانی حقوق کے گروپ اس کی تردید کرتے ہیں.ان کا کہنا ہے کہ اس بات کے ثبوت میں کوئی شہادت نہیں ملی.حالیہ طبی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں آپسی خاندانوں خاص طور پرچچا زاد،ماموں زادیا خالہ اور پھوپھی زاد کے درمیان شادیوں کی وجہ سے ایک جیسے جینز چھوٹے سر والے یا مائیکروسیفالی بچوں کی پیدائش کا موجب ہوتے ہیں.شاہ دولہ مزار کے ایک سجادہ نشین پیر نصیرالدولہ کا کہنا ہے کہ ”چھوٹے سروالے بچوں کی پیدائش کا سبب ڈھونڈنا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے کہ ان ”چوہے بچوں” کا مذہب کے نام پر استحصال ہونے دیا جائے”.سائنس کے سابق پروفیسر اور کئی کتب کے مصنف 70 سالہ پیر نصیر کا کہنا تھا کہ”چوہوں سے متعلق گھڑی کہانیوں کا بھکاری مافیازاور مذہبی گروپ استحصال کرتے ہیں”.انہوں نے بتایا کہ:”یہ لوگ دیہات میں پھرتے رہتے ہیں اور اگر کوئی حقیقی چوہا،چھوٹے سر والا بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے والدین کو رقم دے کراسے خرید لیتے ہیں”. اور پھربڑا ہونے پر وہ ساری زندگی کے لئے ان کی کمائی کا ذریعہ بن جا تا ہے

امریکہ میں بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ، کئی اداروں میں ملازمتوں میں کٹوتی

واشنگٹن ۔ امریکہ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال جولائی میں بے روزگاری کی شرح میں 5.1 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ چار سال میں سب سے زیادہ ہے ۔ تجارتی اداروں نے اپنے عملے میں تخفیف مسلسل ساتویں مہینے میں بھی جاری رکھی لیکن یہ کمی توقع سے کم رہی ۔ امریکی ادارے برائے محنت کے مطابق معیشت کو 51000 نوکریوں کا نقصان ہوا ہے جو کہ جون کے مہینے کے اعداد و شمار کے مساوی ہے ۔ جس میں بے روزگاری کی شرح 5.5 فیصد رہی تھی ۔ اقتصادی ماہرین کو توقع تھی کہ 75000 کے قریب نوکریاں کم ہو جائیں گی لیکن اس کے باوجود جولائی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت کمزور ہے ۔ بڑھتی ہوئی تیل ‘ اشیاء خور د و نوش کی قیمتوں اور کساد بازاری کی وجہ سے امریکی تجارتی ادارے اپنے عملے میں اضافہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں جن شعبوں میں نوکریاں کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں وہ سرکاری دفاتر ‘ تعلیم ‘ ہوٹلوں اور صحت کا شعبہ ہے ۔ تعمیرات کے شعبے میں 22000 نوکریاں ختم کی گئیں جبکہ صنعتی شعبے میں 35000 جائیدادوں کی کمی کی گئی ۔

امریکہ ، ہر سال ٥٦ ہزار لوگ ایڈز کا شکار ہو جاتے ہیں

واشنگٹن ۔ امریکہ میں ایک رپورٹ کے مطابق ایڈز کی بیماری کا شکار ہونے والے لوگوں کی تعداد سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہے ۔تازہ اعدادوشمار ایڈز کے نئے مریضوں کے سامنے آنے سے حاصل ہوئے ہیں۔امریکہ میں قائم بیماریوں پر قابو پانے اور ان سے بچاؤ کے ادارے ’سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن‘ کے مطابق چھپن ہزار لوگ ہر سال ایچ آئی وی کا شکار ہوتے ہیں جو سابقہ اندازوں سیچالیس فیصد زیادہ ہے۔ امریکن فاونڈیشن فار ایڈز رسرچ کے ایک ترجمان کے مطابق ان اعداوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت اس وبا کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ کچھ غیر سرکاری تنظیموں کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا خیال ہے کہ بہت سے لوگ بدنامی سے بچنے کے لیے اس کا ٹیسٹ ہی نہیں کرواتے۔اس سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر کیون فینٹن کا کہنا ہے کہ پندرہ سند اٹھارہ ہزار امریکی شہر ہر سال ایڈر کے مرض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وبا جاری ہے اور اس میں ہم جنس پرست، عورتوں اور مردوں دونوں سے جنسی فعل کرنے والے اور سیاہ فام مرد اور عورتیں اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والے اعدادوشمار سے ثابت ہوتا ہے کہ سیاہ فام امریکیوں کا اس مرض میں مبتلا ہونے کا سفید فام امریکیوں سے سات گنا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ ایچ آئی وی کا شکار پچیس فیصد لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں

بیجنگ اولمپک گیمز کی تیاریاں مکمل

افتتاحی تقریب کو یادگار بنانے کے لیے چین پوری طاقت لگانے کے لیے تیارچین نے تقریب کے دوران زبردست آتش بازی اور اپنی ہزاروں سال پرانی تہذیب کے مظاہرہ کا منصوبہ بنایا ہے
بیجنگ ۔ آئندہ جمعہ دنیا بھر کے چار ارب سے زیادہ لوگوں کی نظریں بیجنگ کے نئے انوکھے، اسٹیڈیم میں ہونے والی اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب پر ہوں گی تو چین اسے کھیل کی تاریخ کا سب سے یادگار پل بنانے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار کھڑا نظر آئے گا۔ آخر ہو بھی کیوں نہ چین کے لیے یہ خود کو بین الاقوامی افق پر ایک بڑی طاقت کے طورپر پیش کرنے کا ایک زبردست موقع ہے اور ایک قوم کی حیثیت سے چین کے مزاج کو پہچاننے والے جانتے ہیں کہ وہ اس موقع کا پورا فائدہ اٹھائے گا۔ چین اولمپک کھیلوں کے انعقاد کے بہانے یہ جتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اب کم ترقی یافتہ ملک نہیں رہا اور وہ تاریخ کا سب سے مہنگا کھیل منعقد کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ بارودایجاد کرنے والے چین نے افتتاحی تقریب کے دوران زبردست آتش بازی اور اپنی ہزاروں سال پرانی تہذیب کے مظاہرہ کا منصوبہ بنایا ہے ۔ ساڑھے تین گھنٹہ تک چلنے والی اس تقریب میں دس ہزار سے زیادہ فنکار دنیا کے کچھ بہترین ہدایت کاروں کی رہنمائی میں لے اورتال پر جھومتے نظر آئیں گے۔ اگر چہ اولمپک افتتاحی تقریب کی نوعیت کے بارے میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے مگر کچھ دن پہلے جنوبی کوریئی ٹی وی چینل نے تقریب کی ڈریس ربہرسل کا کچھ حصہ چوری چھپے ریکارڈ کر کے پردہ راز کے اندر چھانکنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی ۔ انٹرنیٹ پر ڈالی گئی اس ویڈیو فومیج میں کچھ فنکار ٹریک پر تیرتے ہوئے نظر آئے تو کچھ فنکار چین کے روایتی فن کنگ فو کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیں گ۔ بہرحال ایک عام آدمی کو تو پرندہ کے گھونسلے کی شکل والے برڈس ٹیسٹ اسٹیڈیم میں ہونے والی شاندار تقریب کو اپنی ٹی وی اسکرین پر دیکھنے کا بے صبری سے انتظار ہے۔ اس تقریب کی تیاری سے وابستہ ملٹی میڈیا ماہرین ویس پیپسن نے زارداری اور اسرار کے پردوں کو برقرار رکھتے ہوئے بس اتنا کہا ، یہ افتتاحی تقریب تو واقعی بے حد شاندار ہو گی۔ اسکے ذریعہ چین سازی دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ وہ کیا کچھ کر سکتا ہے مجھے لگتا ہے کہ یہ اپنی طرح کا اب تک کا بہترین شو ہو گا اگر واقعی ایساہوتا ہے تو چار سال پہلے ہوئے ایتھنز اولمپک کی افتتاحی تقریب بھی جس کی بڑی تعریف ہوئی تھی، پھیکی پڑ جائے گی، لیکن بیجنگ کو سب سے بہترین کھیل کے انعقاد کا کریڈٹ دلانے کے لیے چین نے پانی کی طرح پیسہ بہایا ہے۔ میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق صرف افتتاحی اور اختتامی تقریبات پر دس ہزار کروڈ ڈالر خرچ ہونے کاامکان ہے ۔ واضح رہے کہ افتتاحی تقریب 8 اگست 2008 ء کو رات 8بجکر 8 منٹ پر شروع ہو گی۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے لیگل فریم ورک کی منظوری

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
کو لمبو۔ سارک ممالک نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے لیگل فریم ورک کی منظوری دے دی ہے ۔ جس کے تحت سارک ممالک جرائم دہشت گردوں کی نشاندہی اور ان کی روک تھام کے لئے مل کر کام کریں گے ۔ اس فریم ورک میں مزید کہا گیا ہے کہ رکن ممالک ایک دوسرے سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ممکن حد تک قانونی سطح پر تعاون کریں گے ۔ 15 ویں سارک سربراہ کانفرنس کے دوسرے روز پاکستان اور بھارت سمیت خطے کے 8 ممالک نے فریم ورک کی منظوری دی ۔ قانونی فریم ورک جرائم سے نمٹنے باہمی قانونی تعاون پر سارک کنونشن کے ذریعہ رکن ممالک کے سیکورٹی فورسز کے مابین عزیم باہمی تعاون کی قانونی فراہمی کی گنجاش فراہم کی جائے گی جس کے تحت کسی بھی رکن ملک کی درخواست پر مجرموں اور دہشت گردوں کی گرفتاری اور حوالگی عمل میں لائی جا سکتی ہے اس معاہدہ پر سارک کے دو روزہ اجلاس کے اختتام کے موقع پر دستخط کئے گئے یہ معاہدہ بھارت کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہو گا کیونکہ پاکستان اور چند دیگر سارک ممالک کے ساتھ اس کے باہمی حوالگی مجرمین معاہدات زیر التوا ہیں ۔ بھارت اس طرح کے قانونی طریقہ کار کے لئے کافی عرصہ سے اصرار کر رہا تھا لیکن اب یہ مخالفت باقی نہیں رہی جس کی وجہ سے معاہدہ ممکن ہو سکا ۔ اس معاہدہ کے تحت رکن ممالک دہشت گردی جیسے جرائم کے معاملات کی تحقیقات میں بھی ایک دوسرے کا تعاون کریں گے ۔ جبکہ کو لمبو میں ا مریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باوچر نے کہا ہے کہ جمہوری حکومت پاکستان میں دہشت گردی کے ساتھ بہتر طریقے سے نپٹ سکتی ہے ۔ منقسم معاشرہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتا ۔ حکومت پاکستان کو فوج تعلیم اور بہتر سیاسی ماحول کو اکٹھا لے کر آگے چلنا ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکے ۔ آئی ایس آئی کے حوالے سے ایک سوال پر رچرڈ باوچر نے کہا ہے پاکستان میںد ہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے انٹیلی جنس سروسز اور فوج بہت ضروری ہیں ۔ اور انٹیلی جنس سروس ایک ایسا جزو ہے جس کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی انہوں نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکہ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ۔ انہوں نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے کابل بم دھماکے کی تحقیقات کرانے کے بیان کو سراہا اور کہا کہ یہ سب کچھ خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون سے ممکن ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں تشدد ہے اور حکومت پاکستان کو پہلے اس تشددسے نمٹنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری حکومت ہی بہتر طریقے سے تشدد کے خاتمے کو بہتر بنا سکتی ہے ۔

شیری رحمن اور اگست کا مہینہ




وفاقی وزیر اطلاعات شیریں رحمن نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے سابقہ حکومت کے برعکس صحافت کو آزادی دی ہے۔ حکومت صحافیوں کی سیکورٹی کیلئے انشورنس دینے کو تیار ہے۔ دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانی چاہئیں۔ ویج بورڈ کا نفاذ اسمبلیوں کی بجائے صحافتی اداروں کو باہمی تعاون سے نافذ کروانا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام قومی قانفرنس برائے” جرنلسٹس سیفٹی اینڈ ایتھکس“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بیرون ممالک سے آنے والے مندوبین بھی موجود تھے۔ شیرین رحمن نے کہا کہ صحافیوں کو پیشہ وارانہ فرائض کے دوران بعض اوقات خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں زخمی ہونے کے علاوہ بعض اوقات وہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حکومت صحافیوں کوانشورنس دینے کو تیار ہے اس سلسلہ میں صحافتی تنظیمیں تین رکنی کمیٹی بنا کر وزارت اطلاعات سے بات چیت کریںحکومت بھرپور تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ صحافت کلرفل شعبہ ہے۔ پاکستان کے پرنٹ میڈیا کی کوالٹی کے لحاظ سے دنیا بھر میں منفرد پہچان ہے تاہم اخبارات کے مالکان کو نئے صحافیوں کیلئے مناسب تربیت کا بندوبست کرنا چاہئے الیکٹرانک میڈیا بعض معاملات میں عوام کوصحیح طور پر آگاہی نہیں دے پاتا جس کے باعث پیمرا کو مجبورا قانون سازی کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے صحافت کو مکمل طور پر آزادی دی ہے اور ماضی کے سیاہ پیمرا آرڈیننس کو بہتر کیا ہے تاہم اب صحافتی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا ضابطہ اخلاق خود مرتب کریں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے مالکان اپنے اداروں میں کام کرنے والے کارکنوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ ویج بورڈ کے نفاذ کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کا نہیں، صحافتی اداروں کو باہمی افہام وتفہیم سے اسے حل کرنا چاہئے پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس میں بھی جلد ترامیم کی جائیں گی۔ محترمہ شیری رحمن سے گذارش ہے کہ صحا فیوں کیلئے یہ کیسا اقدام ہے کہ وہ کسی حادثے میں معذ ور ہوں یا جان سے ہاتھ دو ھوئیں تب حکومت انھیں تشدد فنڈ سے مدد کرے گی۔ کیا اچھا ہوتا کہ وکٹم کے بغیر بھی صحا فیوںکیلئے کچھ کیا جا سکتا۔ شیری رحمن خود ایک ورکنگ جر نلسٹ رہ چکی ہیں وہ بذات خود صحا فیوں کے مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور یہی و جہ ہے کہ شیری رحمن ملک بھر کے صحا فیوں کی ہر دلعزیز منسٹر بھی ہیں شیری رحمن ذہانت،قابلیت اور کا ر کردگی کے لحاظ سے دوسرے وزراءسے ایک منفرد مقام ر کھتی ہیں شیری رحمن سے مزید گزارش ہے کہ صحافی اس ملک کی ترقی و استحکام کیلئے اور بےمار معاشرے کو راہ راست لانے کیلئے سولہ کروڑ عوام کی اجتماعی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان صحا فیوں کی بات نہیں ہو رہی جو ہر روز کسی تقریب کے کھا نے کے موقع پر آپ کو ملتے ہیں اور نہ ہی ان صحا فیوں کی بات ہو رہی ہے جو صحا فی کم،حکومتی، سیاسی اور صحا فتی مزارعے زیادہ ہیں اور جنھیں آپ کی حکومت کے تو سط سے پی ٹی وی میں اینکر پر سنز، ریسورس پر سنز اور دیگر شعبوں میں لاکھوں روپے کے پیکج میں رکھا گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سا بقہ دور حکومت میں بھی اس طرح کی بھر تیوں کی بھر ما ر رہی ہے۔ اور ان کی وجہ سے پی ٹی وی نے بیس کروڑ روپے قرضہ کیلئے بینک سے رجوع کیا ہے،۔بات ہو رہی تھی صحا فیوں کے مسائل کی تو اس ضمن میں گذارش ہے ہر بینک اور ما لیا تی ادارہ کی طرف سے ھدایات ہیں کہ ان کی ہر اسکیم سے پا کستان کا ہر شہری مستفید ہو سکتا ہے سوائے صحا فی کے یعنی یہ مقام ہے اس ملک میں صحا فی کا جو کہ ایک شرمناک بات ہے۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ وزارت اطلاعات ایسا کوئی اقدام کرے جس سے صحا فیوں کو معاشی تحفظ حا صل ہو سکے۔ جہاں تک اخباری ما لکان کا تعلق ہے ان کے اپنے مسائل ہیں یہ بات اسی طرح ہے کہ اگر ایک ورکنگ جر نلسٹ کسی حاد ثا تی طور پر پبلشر بن جا ئے تو اسے اچھی طرح سمجھ آ جا ئے گی کہ اخباری ما لکان کے مسائل کیا ہو تے ہیں۔ یہ اکثریتی پبلشرز کی بات ہو رہی ہے نہ ان اخباری ما لکان کی جو مسائل کی کشش ثقل سے با ہر ہیں۔ اگرچہ ہر حکومت چند اخباری ما لکان اور چند صحا فیوں کے مسائل سے آ گاہ ہو تی ہے جبکہ سو لہ کروڑ کی آ بادی میں کتنے اخبار و رسائل، پبلشرز، ورکنگ جر نلسٹ ہیں جن کا مٹھی بھر ما فیا استحصال کر کے ان کو اپنی موت آپ مار دیتا ہے۔ ہر حکومت تھڑے باز صحا فیوں کے احتجاج اور ایک دو اخباری ما لکان کی ادارتی فائرنگ سے بچنے کیلئے ان کے منہ میں ہڈی ڈا لنا اپنی مجبوری سمجھتی رہی ہے۔ باقی ملک بھر کے اخباری ما لکان، کالم نگاروں، اور صحا فیوں کی حکومت اپنی مجبوری اور نہ ہی کو ئی ضرورت سمجھتی ہے۔ ایک مخصوص موقع پر ست ما فیا ملک بھر کے میڈیا کا حق مار رہا ہے اور اس کی ذمہ دار خود وزارت اطلاعات ہے۔ کیو نکہ کسی بھی نئی حکومت کو میڈیا کے حوالے سے کچھ پتہ نہیںہوتا ۔ کسی بھی نئی حکومت کو وزارت اطلاعات نے سفارشات، تجاویز اور روڈ میپ دینا ہوتا ہے۔ جہاں تک صحا فتی تنظیموں کا تعلق ہے تو اس ضمن میں شیری ر حمن ہم سے بہتر جا نتی ہیں۔ کہ دنیا بھر کے پر یس کلبوں کا منشور اور مقا صد کیا ہو تے ہیں۔ اور ایسی صحا فتی تنظیمیں جن کا فنکشن لیبر ونگ اور ٹر یڈ یونین کا ہو ان کا لیگل سٹیٹس کیا ہو تا ہے۔ دنیا بھر کے پر یس کلبوں میں ممبر شپ کیلئے پبلشر، میڈیا چیف ایگز یکٹو، ایڈ یٹر، ورکنگ جر نلسٹ، میڈیا کے طالب علم و دیگر پبلک ریلیشنز کی پر یکتس کر نے وا لے اس کے ممبر ہو تے ہیں اور ٹریڈ یو نین ان پر یس کلبوں کی ایک ذیلی ونگ ہو تی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے ۔ ایک لیبر ونگ پو رے پر یس کلب پر مسلط ہے۔ اور یہ حال ملک بھر کے پر یس کلبوں کا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے ایک ایسا صحا فتی ضا بطہ اخلاق بنا یا جا ئے جس میں صحا فتی تنظیموں کے اندر بھی جمہوریت کو متعارف کروایا جا ئے۔ اور ایسی صحا فتی تنظیمیں جو ملک بھر کے صحا فیوں کے نام پر لوٹ مار کر کے ا پنے بینک بیلنس بڑ ھا رہی ہے۔ ان کا نہ صرف آڈٹ کیا جا ئے بلکہ ایف آ ئی اے سے ان کی انکوائری کروائی جا ئے کہ وفاقی حکومت اور صو بائی حکو متوں نے ان صحا فتی تنظیموں کو کتنا فنڈ دیا اور انھوں نے کہاں کہاں استعمال کیا اس کے علاوہ اسلام آباد میں حکومت نے صحا فیوں کیلئے سی ڈی اے کے پلا ٹوں میںتین فیصد کوٹہ رکھا ہوا ہے اس ضمن میں وزارت اطلاعات کے این او سی پر سی ڈی اے صحا فیوں سے درخواستیں وصول کر تی ہے۔ ان تمام صحا فیوں کی لسٹ جا ری کی جا ئے جن کو پلا ٹوں کیلئے وزارت اطلاعات نے این او سی جا ری کیے ہیں ۔ تا کہ معلوم ہو سکے کہ کسی حق دار صحا فی کا کسی نے حق تو نہیں ما را۔ جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کولمبومیں سارک سر براہ کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سے ملاقات کی ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بھارتی وزیر خارجہ پر ناب مکھرجی بھی اس موقع پر موجود تھے دونوں لیڈروں نے پاک بھارت جامع مذاکرات دو طرفہ تجارت اور سیکورٹی سے متعلق معاملوں پر بات چیت کی ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی دونوں لیڈروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے پر امن طریقے سے حل کئے جانے چاہئیں انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے جاری عمل پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے علاقے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں بڑی مدد ملے گی انہوں نے تجارت اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے سے متعلق مختلف معاملوں پر بھی بات چیت کی بعد میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کر تے ہوئے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں انہوں نے کہا کہ کشمیر سمیت تمام مسائل حل کر نے کی ضرورت ہے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر احمد آباد بم دھماکوں کا الزام عائدنہیں کیا وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان بھار ت اور افغانستان سمیت اپنے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے اور بھارتی وزیر اعظم سے ان کی ملاقات اس خواہش کی آ ئینہ دار ہے بنگلور اور احمد آباد کے بم دھماکوں کے واقعات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نے ملاقات کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ اس سلسلے میں ان کی حکومت پاکستان کو مورد الزام نہیں ٹھہراتی۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے راہنما راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ اگست ملکی سیاست میں اہم ترین مہینہ ہوگا ،جس میں متعدد فیصلے متوقع ہیں ،حکومت ملکی صورتحال کوکنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ،عوام باشعور ہو چکے ہیں آئندہ کسی آمر کو جمہوریت پر شب خون نہیں مارنے دینگے اور نہ ہی کسی کو مارشل لاء لگانے کی اجازت دینگے اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام سڑکوں پر نکل آئیں گئے گست کا مہینہ ملکی سیاست میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ اگست میں اہم فیصلے ہونگے جو ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرینگے، میاں محمدنواز شریف کی وطن واپسی اور آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے بعد ججز بارے فائنل راو¿نڈ شروع ہو گا مسلم لیگ(ن)آج بھی ججوں کی بحالی کے اصولی موقف پر قائم ہے،ججوں کے بحال نہ ہونے کی صورت میںحکومت میں رہنے یا نہ رہنے بارے پوچھے گے ایک سوال کے جواب میں راجہ محمد ظفرالحق نے کہا ہے کہ اس بات کا فیصلہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا،ملکی صورتحال بارے پوچھے گے ایک سوال بارے راجہ محمد ظفرالحق نے کہا کہ اس وقت ملک ایک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں اور نہ ہی وہ اس پر پورا اتر سکی،ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی آج بھارت اور افغانستان جیسے ملک ہمیں حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں جو میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی کمزور پالیسیوں کا نتیجہ ہے،ملک میں امن و امان اور مہنگائی بارے حکومت مہنگائی اور امن و مان کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے خاص طور پر آٹا کی قلت کی وجہ سے عوام سخت پریشان ہیں اور لوگ آج آٹا کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں حکومت کو اس بارے خصوصی اقدامات کرنے ہونگے ا ور ملک سے گندم کی سمگلنگ کو روکنے کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے ہونگے،جب تک گندم کی سمگلنگ کو کنٹرول نہیں کیا جاتا اس وقت تک آٹے کے بحران پر قابوپانا بہت مشکل ہے اس بحران سے ملک میں افراتفری اور لاقانونیت کا دوردورہ ہو سکتا ہے۔ اے پی ایس




Saturday, August 2, 2008

Gilani urges SAARC for collective measures to fight terrorism, poverty, energy, food challenges




COLOMBO: Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Saturday urged the eight-member regional cooperation for joint efforts to fight terrorism, poverty, meet energy needs and overcome food shortages, afflicting the region. Speaking here at the inaugural session of the 15th SAARC summit, the Prime Minister termed extremism and terrorism a scourge and called for joint measures to strengthening regional cooperation. He strongly condemned the attack in Kabul on Indian embassy and said Pakistan too has lost its leader Mohtarma Benazir Bhutto in an act of terrorism. He also welcomed the finalisation of Saarc Convention on Mutual Assistance on Criminal Matters. Gilani stressed the need for “greater economic integration” to address the challenges confronting the grouping that houses the world’s poorest countries. He said South Asia was rich in natural resources and concerted efforts were required to boost cooperation in areas of hydro energy, laying of oil and gas pipelines to address the shortages and enhance industrial growth. Gilani said “we should also envisage regional network of intra regional and trans regional oil and gas pipelines.” He stressed the need to harness region’s indigenous energy potential, particularly solar, wind, bio-mass and hydro energy. Prime Minister Gilani stressed for achieving greater food security and said the SAARC region was blessed with fertile lands. However he pointed that there was a need for introducing modern farming techniques, equipment and irrigation resource management to increase yield. “Together with other Asian countries, we should think of launching Greater Asia Food Security Programme,” Gilani said, and called for learning from best practices in the region and beyond. Prime Minister Gilani called for elimination of non-tariff barriers, trade facilitation members, reduction of sensitive lists of member states and strengthening of communication and transportation, cooperation in area of finance and banking. Gilani said a lot of progress has been achieved in SAFTA, however stressed that more was needed towards its implementation for creating a real win-win situation for the SAARC states. The Prime minister called for encouraging a project-based cooperation under Saarc and the focus should be on implementing regional and sub-regional projects in priority areas. “We may also involve Saarc observers, international development institutions and public-private sector collaboration to achieve objectives.” He said the Saarc needs to develop positive links with adjoining regions and beyond by having an inclusive approach. “We should be open to mutually beneficial interactions, especially with our larger Asian neighbourhood.” He said governors of state banks of member states can make positive contribution towards trade facilitation, under the mechanism of Saarc Finance. He said the Saarc Development Fund could underwrite financial support for important development projects of mutual benefit to Saarc members. Gilani termed the cultural heritage and landscape of the SAARC member states as “invaluable assets” that need to be promoted for the socio-economic uplift of their peoples. “Let us pledge to lay a solid foundation of mutual cooperation and trust for the benefit of South Asia,” Gilani said. Gilani called for evolving modalities to associate observers with the work of the organisation and granting dialogue partnership status to those observers which wish to deepen relationship with Saarc for mutual benefit. The Prime Minister expressed the confidence that the Colombo Summit would provide a fresh impetus to reinvigorating regional cooperation in South Asia.


Mushahid says PML message to be taken to all


ISLAMABAD:(APS) The PML Secretary General, Senator Mushahid Hussain has said that the message of Pakistan Muslim League as a vibrant and robust opposition would be spread to all sections of society. Talking to various PML delegations from different parts of the country at the PML House, Senator Mushahid Hussain said that the PML was the only political party that was taking a strong stand on issues and going to the people at the grassroots. He said that the coalition government was failing to provide leadership to the people at the time of crises and their action and utterances were contributing to the sense of despondency and confusion. He said that recently the PML had held a successful Media Conference and this would contribute to activating the party's media outlets in different parts of the country. Then on the occasion of the International Youth Day, the PML Youth Wing had promoted an environmental awareness through its "Green and Clean Pakistan" campaign by planting saplings. Talking to PML Information Secretary, Sindh, Haleem Adil Sheikh, they discussed matters pertaining to the media and party organization in that province and in that meeting Senator Mushahid Hussain announced that President, PML Chaudhry Shujat Hussain and he himself would visit upper Sindh during August 16-18, touring Sukkur and Shikarpur. This tour would also help in mobilizing the party workers in that province who are facing political victimization. During a meeting at the PML House with the party leaders from NWFP, including Additional Secretary General Intikhab Khan, Deputy Information Secretary Moazam Butt and Provincial Information Secretary Nighat Orakzai, the PML Secretary General lauded the activities of the PML in the NWFP which was quite active under the leadership of Provincial Party President Amir Muqam. He also discussed the arrangements for organizing of a peace and stability conference in Peshawar by the PML NWFP on the occasion of the Independence Day celebrations. Later, talking to reporters at the PML House, Senator Mushahid Hussain said that the PML Minorities Wing would organize an Independence Day meeting at the PML House on August 11 to celebrate the 62nd anniversary of Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah's famous speech of August 11, 1947 to the first Constituent Assembly. The PML Punjab would also organize a public rally in Rawalpindi on August 14. He also apprised the media of the meeting held at the residence of Chaudhry Shujat Hussain with PML Balochistan President Jam Yousaf and Additional Secretary General Mir Naseer Mengal. He said that both he and Chaudhry Shujat Hussain had been invited by Jam Yousaf to visit Balochistan and dates for that visit would be set. He informed the media that PML President had convened a meeting of the Central Executive Committee (CEC) on Thursday, August 21, 2008.


امریکی نئی د فاعی حکمت عملی" توازن "






وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ دنیا کو د ہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا سامنا ہے ۔ سارک ممالک سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہوئے ۔ ہم سب کو مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئی ۔ سارک کانفرنس میںپاکستان کی نمائندگی کرنا میرے لیے قابل فخر ہے اور سارک ہی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جو جنوبی ایشیاء کے مسائل کو حل کر سکتا ہے انہوں نے گزشتہ سال کے دوران بھارتی وزیراعظم من موہن کی طرف سے سارک کی صدارت کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ سارک کے ممبر ممالک کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے کیونکہ کوئی بھی معاشرہ اپنے معاشی وسائل کو بروئے کار لائے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ، اس لیے ہمیں اپنے وسائل بروئے کار لانے ہوں گے ۔ خطے میں غربت کے خاتمے کے لیے سارک کے سوشل چارٹر اور بچوں و خواتین کے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیدا شدہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے جن میں خصوصی طور پر پن بجلی ، شمسی توانائی پر انحصار کیا جائے اور تیل گیس پائپ لائن کے ذریعے سے توانائی کی ضروریات پوری کریں سارک ممالک کو چاہیئے کہ توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے ا یک دوسرے سے تعاون کریں ۔ عالمی سطح پر غذائی قلت کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے سارک ممالک کو اپنا آبپاشی نظام جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے زراعت کے شعبے میں تحقیق اور ذرائع کو جدید بنانے کی ضرورت ہے ۔ سارک ممالک غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ د یں جنوبی ایشیاء کے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے سارک ممالک کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہو گا۔ پاکستان گزشتہ دو عشروں سے اقتصادی تعاون کررہا ہے اپنی تجاویز میں وزیراعظم نے کہا کہ سارک ممالک کے درمیان نان ٹیرف بیریئرز کا خاتمہ کیا جائے ۔ ٹرانسپورٹیشن اور کمیونیکشن کے ذریعے رابطے بڑھائے جائیں ۔ بینکنگ اور فنانسنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے اور سارک ممالک کے تمام مرکزی بینکوں کے گورنروں کو چاہیے کہ ایک دوسرے سے رابطوں کو مضبوط بنائیں سیاحت کے شعبے میں بھی تعاون کو بڑھانا بے حد ضروری ہے وزیراعظم نے دہشت گردی کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بل میں بھارتی سفارت خانے پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتا ہے حالانکہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے اور ہماری اپنی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی کی نذر ہوئیں ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ انفرادی اور اجتماعی سطح پر لڑنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے سارک ممالک کے درمیان تعاون انتہائی ضروری ہے آج کے اس دور میں کوئی ملک الگ تھلگ نہیں رہ سکتا ہمیں خطے کے تمام ہمسایہ ماملک کو ساتھ لے کر چلنا ہے انہوں نے کہا کہ میں تمام سارک اجلاس میں موجود مبصر ممالک کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جنوبی ایشیاء میں سارک کے پروگراموں میں تعاون کریں تاکہ خطے کو ایک خوشحال اور ترقی یافتہ خطہ بنایا جائے ۔ خطے کے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے ممبر ممالک کے درمیان تعاون انتہائی ضروری ہے سارک ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ممبر ممالک کو اپنے تنازعات سمجھنے اور ان کو حل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل جاری ہے جس کے ذریعے ہم اپنے تنازعات کو حل کریں گے اور خطے کے ماحول کو بچانے کے لیے بھی ہمیں مل کر حکمت عملی طے کرنا ہو گی ۔جنوبی ایشیائی ممالک کی دو روزہ سارک سربراہ کانفرنس سری لنکا کے دارلحکومت کولمبو میں گذشتہ روزشروع ہوئی تھی سربراہ کانفرنس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ،بھوٹان کے وزیر اعظم جگمے تھنلے،بنگلہ دیش کے چیف ایگزیکٹو فخر الدین احمد،سری لنکا کے صدر مہندا راجا پاکسے،نیپال کے عبوری وزیر اعظم گریجا پراساد کوئرالا،بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ ،افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیوم شرکت کی۔ جب کہ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی اور امریکی نایب وزیر خارجہ رچرڈ باو¿چر مبصر کی حیثیت سے شریک تھے ۔سارک سربراہ کانفرنس کے موقع ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا گیا۔افتتاحی اجلاس سے خطاب میں سری لنکا کے صدر مہندا راجا پاکسے نے کہا کہ خطے کے بیشتر ممالک کو دہشت گردی کا سامنا ہے جس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کر نے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خطے کے عوام کی خوشحالی سارک کا بنیادی مقصد ہے اور سارک ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کے تبادلے اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے بہت کچھ کرنا ہے ۔اس سے قبل دو روزہ سار ک وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کانفرنس کا ایجنڈا ترتیب دیا گیا تھا ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی خطے کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے اس کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے بنگلور اور احمد آباد میں دھماکوں کا سلسلہ خطے کے امن خراب کی دھمکی ہے ۔ دہشت گردی سلامتی اور ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ سارک ممالک کو خطے کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔ ہمارا مقصد خوشحال ‘ مستحکم اور پرامن جنوبی ایشیاء ہے ۔ من موہن سنگھ نے کہا کہ خطے کی اقتصادیات پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوئی ہے اور اس خطے کے ممالک اقتصادی تعاون سے جڑے ہوئے ہیں ۔ بھارت پچھلے چار سال سے 8.8 فیصد کرشرح سے ترقی کر رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ساو¿تھ ایشین کسٹم یونین اور ساو¿تھ ایشین اکنامک یونین قائم کرنے کی حمایت کرتے ہیں ۔ بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سارک ڈویلپمنٹ فنڈ خطے کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا ۔ جنوبی ایشیاء کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلباءکو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملنا چاہئے ۔ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ کابل، بنگلور اور احمد آباد میں ہونے والے دھماکے ایک ہی سلسلے کی کڑیا ں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی خوشحالی کیلئے توانائی، خوراک کا بحران اور دہشت گردی بڑا خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں میں بے نظیر بھٹو بھی شامل ہیں ۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والے دھماکے پر بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے اظہار افسوس کرتا ہوں ۔دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہم سب کو مل کر مشترکہ اقداما ت کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ القاعدہ اور دیگر شدت پسندوں کو شکست دینا امریکی ملٹری کی اولین ترجیح ہے لیکن تنہا عراق اور افغانستان کی جنگیں جیت لینے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو گا۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کی منظور کردہ نیشنل ڈیفنس اسٹرایٹیجی 2008 ء میں کہا گیا ہے کہ تنہا طاقت کا استعمال ابھی اس مشن کو مکمل نہیںکر سکے گا۔ پالیسی کے تحت ملٹری اہم ترین جو کام کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ دوستوں اور اتحادی ملکوں کو اپنے خود کا دفاع کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ دفاعی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ مستقبل قریب کے لیے تشد د پر آمادہ شدت پسند تحریکات کے خلاف طویل جنگ جیتنا امریکہ کے مرکزی نصب العین ہو گیا ہے ۔ عراق اور افغانستان اس کشمکش کے مرکزی محاذ برقرار رہیں گے۔ لیکن دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ طویل مدتی کثیر محاذی ، کثیر رخی لڑائی کے مضمرات سے اپنی نگاہیں نہیں ہٹا سکتا ۔ کیونکہ یہ لڑائی کمیونزم کے ساتھ سرد جنگ کے ٹکراو¿ سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور کہیں زیادہ متنوع ہے ۔“ 23 صفحات پر مشتمل نیشنل ڈیفنس اسٹرایٹیجی میں پرزور انداز میں کہا گیا ہے ۔ ڈ اس لڑائی کو جیتنے کے لیے عراق اورافغانستان میں کامیابی بے حد ضروری ہے لیکن تنہا یہ کامیابی بھی فتح کی نوید نہیں سنائے گی ۔ دستاویز میں یہ بھی کہا گیاہے کہ طاقت کا استعمال ایک رول ادا کرتا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ سرکاری ومعاشی پروگراموں میں مقامی حصہ داری کو فروغ دینے کے لیے اقدامات اس سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ترقی کے ساتھ ہی ساتھ ان شکایات کو سمجھنا اور ان کا ازالہ کرنا بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ یہی شکایات اکثر شورش کی سب سے اہم وجہ بنتی ہے۔ رابرٹ گیٹس نے بعد میںپینٹاگان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج پر اس بات میں توازن برقرار رکھنا لازمی ہے کہ طویل چلنے والی بے قاعدہ لڑائیوں کو جیتنے کی اہلیت کو یقینی بنایا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی روایتی بالادستی کو برقرار رکھا جائے ۔ امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر میں نئی قومی دفاعی حکمت عملی کو ایک لفظ میں بیان کر سکوں تو وہ لفظ ” توازن “ ہو گا۔ جبکہ دو روزہ عالمی کشمیر امن کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اجتماعی قبروں کی تحقیقات کے لیے آزادانہ اور قابل اعتبار تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نویں عالمی کشمیر امن کانفرنس واشنگٹن میں ختم ہو گئی ہے۔ کانفرنس کا اہتمام کشمیری امریکن کونسل اور ایسوسی ایشن آف ہیونٹیرین لائیرز نے کیاتھا۔ دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر میں حال ہی میں دریافت ہونے والی بے نام اجتماعی قبروں اور بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت سے کہا گیاہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کا وعدہ پورا کیا جائے پاکستان اور بھارت قیام امن کے تحت بات چیت کے عمل میں کشمیر کو مرکزی اہمیت دیں ۔ کشمیر کا مسئلہ پر امن طور پر پائیدار بنیادوں پر اسی صورت میں حل ہو سکتا ہے جب اس کے لیے جمہوری طریقہ اپنایا جائے ۔ کشمیریوں کی مرضی معلوم کی جائے ۔ اعلامیہ میں پاکستان اور بھارت پر زور دیاگیا ہے کہ مذاکراتی عمل کا ٹائم فریم طے کیاجائے اور بات چیت کے عمل میں کشمیریوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے ۔ کشمیر کے سلسلے میں اعتماد کی بحالی کے مزید اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ بات چیت کا ماحول بہتر ہو ۔ اعلامیے میں بھارت پر زور دیاگیا کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے ، کالے قوانین و اپس لئے جائیں ۔ لوگوںکے بنیادی حقوق بحال کئے جائیں۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر میں فرقہ واریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ واریت پھیلانے والوں کو سزا دی جائے ۔ کانفرنس نے امرناتھ شرائن بورڈ کو الاٹ کی گئی زمین کی واپسی کا خیر مقدم کیاگیا ۔ یہ بھی مطالبہ کیاگیاکہ پنڈتوں سمیت تمام بے گھر ہوئے کشمیریوں کی با عزت اور باوقار واپسی کے لیے اقدامات کئے جائیں ۔ اعلامیہ دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ، جسٹس ریٹائرڈ راجندر سچل کی سربراہی میں 8 رکنی ڈرافٹ کمیٹی نے تیار کیا تھا کانفرنس کے شرکاء نے متفقہ طور پر اعلامیہ کی منظوری دی ۔ڈرافٹ کمیٹی میں راجندر سچل کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فرزانہ راجہ ، کشمیر ٹائمز گروپ کے چےئرمین وید بھیسن ، چتندر بخشی صدر جموںو کشمیر فورم ، برطانوی مصنفہ وکٹوریہ شیفلڈ ، ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر ڈاکٹر غلام نبی میر ، کشمیر سنٹر لندن کے سربراہ پروفیسر نذیر احمد شال اور کشمیری امریکن کونسل کے سربراہ ڈاکٹر غلام نبی فائی شامل تھے۔اے پی ایس


ورزش کی جگہ اب گو لی کا استعمال، پٹھوں کی مضبوطی اور سٹیمنا میں اضافہ




’ دوا کے استعمال سے ورزش کر ے والے افراد کی کارکردگی بہتر ہوگی‘ امریکی ساءسدا ایک ایسی دوا کی تیاری کے قریب پہ چ گئے ہیں جس کے ستعمال سے جسما ی ورزش ہ کر ے والے افراد بھی وزرش کے کچھ فوائد سے بہرہ م د ہو سکیں گے۔جر ل سیل کے مطابق امریکی محققی کے پاس اس وقت دو ایسی ادویات یا ’فٹ س پلز‘ ہیں ج کے استعمال سے ممک ہ طور پر ہ صرف پٹھوں کی مضبوطی اور سٹیم ا میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ یہ گولی چربی جلا ے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ا گولیوں کے تجربات کے لیے چوہوں کو استعمال کیا گیا اور تجربات کے دورا یہ دیکھ ے میں آیا کہ چوہوں کی دوڑ ے کی استعداد میں چوالیس فیصد اضافہ ہوا اور ا ہی تجربات کی ب یاد پر کہا جا سکتا ہے کہ کسی تربیت کے بغیر ا سا کے دوڑ ے کی صلاحیت میں بھی ات ا اضافہ ممک ہے۔ ا گولیوں کی تیاری کو مت ازعہ ما ا جا رہا ہے کیو کہ خیال ہے کہ کھیلوں کی د یا میں ا کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس تحقیق میں شامل مرکزی ساءسدا کیلیفور یا کے سالک ا سٹیٹیوٹ کے پروفیسر رو لڈ ایو ز کا کہ ا ہے کہ ا ہوں ے ایک ایسا ٹیسٹ بھی ب ایا ہے جس کے تحت کھلاڑیوں کے خو اور پیشاب کے مو وں میں اس دوا کا پتہ چل جائے گا۔ پروفیسر رو لڈ ایو ز کا یہ بھی کہ ا ہے کہ ا دواو¿ں کو پٹھے خراب کر ے والی بیماریوں کے علاج میں یا پھر ذیا بیطس جیسی بیماریوں کا شکار افراد میں ورزش کے فوائد میں بہتری لا ے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ دو ادویات ج ہیں AICAR اور GW1516 کے اموں سے ش اخت کیا جاتا ہے، ممک ہ طور پر ایک ایسے جی پر اثر ا داز ہوتی ہیں جو پٹھوں کی افزائش اور ا کے کام کر ے کی صلاحیت ک ٹرول کرتا ہے۔’PPAR-Delta‘ امی یہ جی دیگر کئی جی ز کی کارگزاری ک ٹرول کر ے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور اسے ک ٹرول کر ے سے جسم کے ظام پر واضح اثر پر سکتا ہے۔ تجربات کے دورا چوہوں میں بھی اس جی میں تبدیلی کے تیجے میں پٹھوں کی افزائش سام ے آئی۔ پروفیسر رو لڈ ایو ز کے مطابق یقی اً ایک د ایسا آئے گا جب یہ دو وں ادویات ا سا ی استعمال میں آ سکیں گی۔ ا ہوں ے کہا کہ وہ لوگ جو باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں ا ہیں یہ دوا کارکردگی بڑھا ے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور وہ لوگ جو کہ ورزش ہیں کرتے وہ اس دوا کے استعمال سے ورزش کے کچھ فوائد تو حاصل کر ہی سکتے ہیں۔ امریکی پروفیسر بیری پاپک ے کہا تھا کہ پوری د یا کے امیر اور غریب ممالک کے لوگوں میں وز کو بڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔امریکی پروفیسر ے ا ٹر یش ل ایسوسی ایش آف اگریکلچرل اک امکس کو بتایا کہ کم وز والے لوگ د یا میں اسی کروڑ ہیں جبکہ موٹے لوگوں کی تعداد ایک ارب ہو گئی ہے۔پروفیسر بیری ےآسٹریلیا کی کا فر س کو بتایا کہ اس کی وجہ خوراک میں تبدیلی اور ورزش ہ کر ا ہے۔یو یورسٹی آف ارتھ کیرولی ا کے پروفیسر بیری ے یہ بھی کہا کہ ا سا وں کے ا فرادی وز بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ بھوک ات ی تیزی سے کم ہیں ہو رہی ہے۔پروفیسر ے کا فر س کو یہ بھی بتایا کہ بہت ملکوں میں موٹاپاایک بیماری ہیں رہا اور کم ملک اس کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ا ہوں ے یہ بھی کہا کہ موٹاپے سے پیدا ہو ے والی بیماریاں اب صرف شہروں کےامیروں میں ہیں رہیں بلکہ اب یہ دیہی علاقوں کے غریبوں میں بھی آ گئی ہیں۔پروفیسر بیری ے کہا کہ اس کی مثال چی ہے۔ جس کے لوگ سیریل کھا ے کی بجائے ای یمل پراڈکٹس کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اور وہاں آٹومیٹک ٹرا سپورٹ اور ٹی وی دیکھ ےمیں بھی اضافہ ہوا ہے۔پروفیسر ے حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔ اس سلسلے میں وہ کھا ے کی چیزوں کی قیمتوں میں ردوبدل کر کے لوگوں کو صحت م د کھا ے کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر سوفٹ ڈر ک کی ہر کیلوری کے حساب سے اس کی قیمت وصول کی جائے تو لوگ ا کا استعمال کم کر دیں گے۔اگر پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں کم کر دی جائیں تو لوگ ا کا استعمال زیادہ کر دیں گے۔ اس طرح صحت افزا خوراک میں اضافہ ممک ہو گا۔ کم کیلوریز والی خوراک کے استعمال کو وز کم کر ے کے لیے ایک آسا طریقہ سمجھا جاتا ہے ایک سروے کے مطابق ڈائٹ گ کر ے والے لوگ اب وز کم کر ے کے لیے ورزش کی بجائے خوراک میں موجود کیلوریز گ ے لگے ہیں اور ا ہیں کم سے کم استمال کر کے اپ ا وز کم کر ے کی کوشش کر رہے ہیں۔خوراک میں موجود کیلوریز کی تعداد گ ے کی عادت خواتی میں زیادہ پائی جاتی ہے جیسا کہ پچاس فیصد خواتی اپ ی خوراک میں موجود کیلوریز گ تی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں مردوں کی ایک تہائی تعداد ایسا کرتی ہے۔گلیسو سمیتھ کلاء یوٹریش ل ہیلتھ کیر کے زیر اہتمام سروے میں دو ہزار افراد میں ا سٹھ فیصد افراد یہ جا تے ہیں کہ ورزش صحت کو بہتر ب ا ے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ غذائی ماہری کا کہ ا ہے کم کیلوریز والی خوراک کی زیادہ اقسام کی دستیابی کے باعث لوگ ورزش کی بجائے ایسی خوراک کھا ے کو ترجیح دیتے ہیں جس میں کم سے کم کیلوریز ہوں۔گلیسو سمیتھ کلاء کے کھیلوں کے ماہر جا بریور کا کہ ا ہے ’لوگوں کا جم ازیم جا ے کی بجائے کم کیلوریز والی خوراک کا استعمال کر ا بہت پریشا ک ہے‘۔’کم کیلوریز والی خوراک ورزش کا متبادل کسی صورت میں بھی ہیں ہے۔ ایک فعال ز دگی گزار ے کے بہت زیادہ فائدے ہیں‘۔اسی سلسلے میں گلیسو سمیتھ کلاء کے غذائی ماہر گراہم یعل کا کہ ا ہے کہ کم کیلوریز والی خوراک ب ا ے والوں پر اس خوراک کو استعمال کر ے والوں کی طرف ذمہ داری ہے۔ جیسا کہ وہ ئی ئی قسموں کی کم کیلوریز والی خوراک ب ا رہے ہیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم یہ کوشش کریں کہ صارفی اس بات پر توجہ دیں کہ وہ ہ صرف خوراک لیں بلکہ اس سے مل ے والی توا ائی کا استعمال بھی کریں‘۔ کیلوریز کو ورزش کرکے ختم کر ے کا کوئی متبادل ہیں ہے غذائی تحقیق کی مائر شارلی شو یی کا کہ ا ہے ’ میں تائج سے حیرا ہیں ہوں۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں ج کو جم جا ا بہت مشکل لگتا ہے اس لیے وہ وز کم کر ے کے لیے کم کیلوریز لی ے کو ترجیح دیتے ہیں‘۔ا ہوں ے بتایا کہ حال ہی میں ہو ے والے ایک سروے سے پتا چلا ہے کہ صرف بارہ فیصد افراد جم کے ممبر ہیں۔ا کا کہ ا ہے ’ ہم جم جا ے کو ضروری ہیں سمجھتے لیک جسما ی حرکت زیادہ سے زیادہ ہو ی چاہیے۔ جیسا کہ آپ لفٹ کی بجائے سیڑھیوں کا استعمال کریں اور زیادہ سے زیادہ پیدل چلیں تاکہ پورے د میں آپ کی توا ائی کا زیادہ سے زیادہ خرچ ہو۔ د میں ساٹھ م ٹ کی حرکت ضروری ہے اور یہ مختلف وقفوں میں کی جا سکتی ہے‘۔ساءسدا وں ے موٹاپے پر ایک اہم تحقیق کے دورا پہلی مرتبہ موٹاپے کے ا سا ی ’جی ز‘ سے واضح تعلق کا پتا چلا لیا ہے۔اس تحقیق کے دورا ا ہیں معلوم ہوا کہ لوگوں میں دو طرح کی چک ائی یا فیٹس پائے جاتے ہیں، ج کا تعلق جی ز سے ہوتا ہے ا میں موٹا ہو ے کا ستر فیصد امکا زیادہ ہوتا ہے جب کے دوسری قسم کے لوگوں میں یہ کم ہوتا ہے اورا کا اوسطً وز ، تی کلو کم ہوتا ہے۔برطا یہ میں اوکسفورڈ یو یورسٹی کے میڈیکل سکول میں ہو ا والی اس تحقیق میں چالیس ہزار افراد سے حاصل ہو ا والے ’ڈیٹا‘ کا مشاہدہ کیا گیا۔ساءسدا وں ے اس تحقیق کے بعد یہ تجویز کیا کہ موٹاپا کم کر ے کے لیے ز دگی کے طور طریقے بدل ا بہت ضروری ہوتا ہے لیک بعض لوگوں کو اپ ا وز کم کر ے کے لیے بہت کوشش کر ی پڑتی ہے۔ساءسدا وں کا کہ ا ہے کہ اس تحقیق سے موٹاپے کوسمجھ ے میں مدد ملےگی اور اس سے بچاو کے بہتر طریقے بھی اپ ائے جا سکیں گے۔ج لوگوں میں ’ٹائپ ٹو‘ ذیابیطس پائی جاتی ہے ا میں موٹاپے پر مائل کر ے والے جی ز ہوتے ہیں۔ میڈیکل سکول کے پروفیسر ای ڈریو ہیٹرسلی کی تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کیوں دو مختلف آدمیوں کا وز ایک طرح کی خوراک کھا کر اور ایک ہی طرح کی ورزش کرکے مختلف ہوتا ہے۔ا ہوں ے کہا کہ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کا وز زیادہ ہے تو اس کا تعلق زیادہ کھا ے اور کاہلی سے ہے جس کے آپ قصور وار ہیں۔اس تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس میں کچھ عمل دخل جی ز کا بھی ہوتا ہے۔کیمبرج یو یورسٹی کے کلی کل بائیو کیمسٹری کے ڈپارٹم ٹ کی ڈاکٹر صدف فاروقی ے کہا کہ یہ تحقیق بہت اہم ہے کیوں اس سے پہلی دفعہ موٹاپے اور ا سا ی جی ز کے درمیا تعلق کا پتہ چلا ہے۔مسلسل دباو اور امراض قلب کے درمیا تعلق پایا جاتا ہے ایک ئی تحقیق کے مطابق اعصابی دباو والی ملازمت براہ راست آپ کی صحت پر اثر ا داز ہوتی ہے جس سے امراضِ دل کے امکا ات بڑھ جاتے ہیں۔ امراض قلب کے جریدے یورپی ہارٹ جر ل میں شائع ہو ی والی یہ تحقیق برطا یہ میں کام کر ے والے ایک ہزار سرکاری ملازمی کے طبعی مطالعے پر مب ی ہے۔ پچاس سال سے کم عمر کے ج افراد کا کہ ا تھا کہ ا کا کام ذہ ی دباو والا ہے، تحقیق کے مطابق ا کے دل کے عارضے میں مبتلا ہو ے کے امکا ات عام لوگوں کی سبت تقریباً ستر فیصد زیادہ تھے۔ تحقیق کے مطابق اگرچہ یہ بات عام مشاہدہ میں ہے کہ اعصابی دباو میں آپ ورزش اور اچھی خوراک کا دہیا ہیں رکھ سکتے لیک اس سے اہم بات یہ ہے کہ دباوسے آپ کے جسم میں اہم کیمیائی تبدیلیاں بھی پیدا ہو ا شروع ہو جاتی ہیں۔ ل د میں برطا وی سرکاری دفاتر کے مرکز وائٹ ہال میں کام کر ے والے ملازمی پر کی جا ے والی اس تحقیق کا آغاز ا یس سو ساٹھ کی دہائی میں ہوا تھا اور اس میں ہر سطح کے ملازمی کو شامل کیا گیا، تاہم جہاں تک حالیہ تائج کا تعلق ہے اس کے لیے ملازمی کا مشاہدہ ا یس سو پچاسی سے کیا جا رہا ہے۔ اس دورا ہ صرف ملازمی سے پوچھا جاتا رہا کہ وہ کام کا کت ا دباو محسوس کرتے ہیں بلکہ گاہے بگاہے ا کی دل کی دھڑک ، بلڈ پریشر اور ا کے خو میں ’کارٹیسول‘ امی ہارمو کی مقدار کا جائزہ بھی لیا جاتا رہا۔ واضح رہے کہ کارٹیسوسل وہ ہارمو ہے جو ذہ ی دباو کی صورت میں کتا ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق کر ے والی ٹیم ے خوراک، ورزش کر ے یا ہ کر ے، سگریٹ وشی اور شراب وشی سے متعلق ملازمی کی جوابات کو بھی مد ظر رکھا۔ بارہ برس تک ا ملازمی کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کام کے مسلسل دباو اور امراض قلب کے درمیا تعلق پایا جاتا ہے اور یہ تعلق پچاس برس سے کم کے مردوں اور خواتی میں زیادہ واضح ہےا عوامل کو مد ظر رکھ ے کے بعد اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ مذکورہ ملازمی میں سے کِس قدر کو دل کے امراض لاحق ہوئے، کس قدر کو دل کے دورے پڑے اور ا میں سے کِت ے دل کا دورہ پڑ ے سے ا تقال کر گئے۔ تحقیق کی قیادت کر ے والے ڈاکٹر ترا ی چ ڈولا کا کہ ا تھا کہ ’ بارہ برس تک ا ملازمی کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کام کے مسلسل دباواور امراض قلب کے درمیا تعلق پایا جاتا ہے اور یہ تعلق پچاس برس سے کم کے مردوں اور خواتی میں زیادہ واضح ہے۔‘ پچاس برس سے کم عمر کے ملازمی کے برعکس ریٹائرم ٹ کے قریب کی عمر کے لوگوں میں کام کا دباو کم ہو ے کی وجہ سے امراض قلب کے امکا ات کم پائے گئے۔ ج افراد کا کہ ا تھا کہ ا کی وکریاں ذہ ی دباو والی ہیں، ا کے معاملے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ م اسب مقدار میں سبزیاں اور پھل بھی ہیں کھاتے اور ورزش بھی کم ہی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے تحقیق کر ے والوں کا کہ ا تھا کہ اس سے ا کار ہیں کہ طرز ز دگی اور امراض قلب میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے، لیک اب وہ پراعتماد ہیں کہ ا ہیں کیمیائی تبدیلوں کا بھی علم ہو گیا ہے جو ذہ ی دباو کو بیماری سے جوڑتی ہیں۔ اگرچہ ہر کسی کا کہ ا ہے کہ جسم کے ا در کیمیائی تبدیلیوں اور بیماری میں تعلق ہوتا ہے لیک اس تعلق کو ثابت کر ا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ اس تحقیق کے بعد ماہری کا کہ ا ہے کہ اس قسم کی کیمیائی تبدیلیوں کا طرز ز دگی سے کوئی خاص تعلق ہیں ہے۔ اگرچہ تحقیق میں کم عمر کے ملازمی کے امراض قلب شکار کا شکار ہو ے کے خطرات زیادہ دکھائی دیے، تاہم کسی ملازم کی دفتر میں حیثیت اور امراض کے درمیا کوئی تعلق دیکھ ے میں ہیں آیا تحقیق کر ے والے ماہری کا خیال ہے کہ ذہ ی دباو اعصابی ظام کے اس حصے میں گڑ بڑ پیدا کر دیتا ہے جو دل کو ک ٹرول کرتا ہے، اسے بتاتا ہے کہ اسے کیسے کام کر ا ہے اور جو اسکی دھڑک میں اتار چڑہاو کو ک ٹرول کرتا ہے۔ ج افراد کو ذہ ی دباو کی شکایت تھی ا میں دل کی دھڑک کو ک ٹرول کر ے والے عمل ’ویگل ٹو ‘ کی کمی بھی دیکھ ے میں آئی ہے۔اگرچہ تحقیق میں کم عمر کے ملازمی کے امراض قلب شکار کا شکار ہو ے کے خطرات زیادہ دکھائی دیے، تاہم کسی ملازم کی دفتر میں حیثیت اور امراض کے درمیا کوئی تعلق دیکھ ے میں ہیں آیا۔ ماضی کی تحقیقات میں کہا گیا تھا کہ چلے درجوں میں کام کر ے والے ملازمی کے بیمار ہو ے کے امکا ات زیادہ ہوتے ہیں۔ برٹش ہارٹ سوسائٹی ے تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ہمارے اس علم میں اضافہ ہوا ہے کہ دفر میں ذہ ی دباو سے ہمارے جسم میں کس قسم کی کیمیائی تبدیلیں آ سکتی ہیں۔ تاہم ت ظیم کا کہ ا تھا کہ ذہ ی دباو سے کامیابی سے مٹ ے کے کئی طریقے موجود ہیں، مثلاً خود کو مستعد اور فِٹ رکھ ے سے ذہ ی دباو میں بھی کمی کی جا سکتی ہے جس سے امراض قلب کے امکا ات کم ہو جاتے ہیں۔ورزش کے بعد ہو ے والی تھکاوٹ دراصل پٹھوں کے خلیے سے کلشیم کے رِس ے سے ہوتی ہے۔ ساءسدا ورزش سے تھکاوٹ کو دور کر ے کی دوا تیار کر رہے ہیں جس سے دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو بھی فائدہ ہو گا۔ کولمبیا یو یورسٹی کی ٹیم کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش کے بعد ہو ے والی تھکاوٹ دراصل پٹھوں کے خلیے سے کیلشیم کے رس ے سے ہوتی ہے۔ ا ہوں ے دوا تیار کی ہے جس سے کیلشیم کا رس ا ب د ہو جاتا ہے اور ورزش کے بعد تھکاوٹ ہیں ہوتی۔ اس دوا کے چوہوں پر مثبت تائج سام ے آئے ہیں۔ ا کی یہ تحقیق یش ل اکیڈمی آف سائی سز ے شائع کی ہے۔ اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس دوا سے ہایت کمزوری کی وجوہات کا علاج ہو سکے گا۔ اس سے پہلے یہ سوچا جاتا تھا کہ سخت ورزش کے بعد تھکاوٹ کی وجہ لیکٹک ایسڈ کا پٹھوں پر جمع ہو ا ہے۔ لیک جدید تحقیق کے مطابق پٹھوں کے خلیے سے کیلشیم کے رس ے کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ساءسدا وں کو معلوم ہوا کہ یہ رس ے کا عمل چوہوں میں تی ہفتے کی سخت تیراکی کے بعد اور ا سا وں میں تی د کی سخت سائیکل گ کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں میں یہ رس ے کا عمل مسلسل رہتا ہے اور پٹھوں کو بازیاب ہو ے کا موقع ہیں ملتا اور اس وجہ سے خو اور آکسیج کی کمی سے دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو تھکاوٹ ہوتی ہے اس ٹیم ے زور دیا ہے کہ یہ رس ے کا عمل سخت ورزش کر ے والے ا سا وں اور چوہوں میں پایا گیا ہے۔ جب کہ عام طور پر جسم اس قابل ہوتا ہے کہ وہ خود بخود اس رس ے کے عمل کو درست کر سکے۔ تاہم ا کے مطابق دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں میں یہ رس ے کا عمل مسلسل رہتا ہے اور پٹھوں کو بازیاب ہو ے کا موقع ہیں ملتا۔ اور اس وجہ سے خو اور آکسیج کی کمی سے دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو تھکاوٹ ہوتی ہے۔ اس دوا کو چوہوں پر تی ہفتے استعمال کیا گیا۔ دوا کے بغیر جا ور ورزش کے بعد تھکے ہوئے تھے جب کہ وہ جا ور ج کو یہ دوا دی گئی تھی وہ ورزش کے بعد بھی توا ا تھے۔ اب اس دوا کو دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں پر استعمال کر ے کا م صوبہ ہے۔ایک ئی ساءسی تحقیق کے مطابق ڈائٹِ گ کے ذریعے ا سا وں کے جسم میں موٹاپا بڑھا ے والے خلیے کم ہیں ہوتے ہیں۔سویڈ میں واقع کیرولِ سکا ا سٹیٹیوٹ کے ساءسدا وں کا کہ ا ہے کہ موٹاپا بڑھا ے والے خلیوں کی تعداد بلوغت کے دورا طے پاتی ہے جو کہ بعد میں بھی تبدیل ہیں ہوتی ہے۔ ساءسی جریدے یچر میں شائع ہو ے والی ایک رپورٹ کے مطابق ساءسدا وں ے ایسے لوگوں پر تحقیق کی ج کا وز کافی کم ہوگیا تھا لیک خلیوں کی تعداد میں کوئی کمی ہیں ہوئی۔ اس تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص موٹاپا کم کر ے کے لیے ڈائٹ گ کرے تب بھی ایسے خلیوں کی تعداد کم ہیں ہوگی۔ تاہم برطا یہ میں ایک ماہر صحت ے کہا ہے کہ ت درست رہ ے کے لیے کھا ا اور ورزش کر ا ضروری ہیں۔ حالیہ برسوں میں مغربی ملکوں میں ساءسدا وں ے موٹاپے کے حل کی تلاش میں بہت تحقیق کی ہے۔ اس دورا اڈیپوکائٹ امی ایک خلیے پر توجہ دی گئی جو کہ ہماری کمر اور پیٹ کے موٹاپے کی وجہ ہے۔ تاہم یہ دیکھا گیا ہے کہ جیسے جیسے ہم موٹا ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اڈیپوکائٹ امی خلیہ بھی وسیع ہوتا جاتا ہے۔ لیک ساءسدا اس تیجے پر ہیں پہ چ سکے کہ موٹاپے کی وجہ صرف اسی خلیے کی وجہ سے ہے یا ساتھ ہی اس خلیہ کی تعداد میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ لیک اگر اس خلیے کی تعداد میں بھی تبدیلی آتی ہے تو شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ وز گھٹا ے سے اڈیپوکائٹ کی تعداد میں کمی کی جاسکتی ہے۔ برطا یہ میں یو یورسٹی آف لیورپل کے ڈاکٹر پال ٹریہر ے کہا کہ موٹاپا کے بارے میں اس تحقیق سے ایک ب یاد فراہم ہوئی ہے۔ا ہوں ے کہا کہ اچھا ہوگا اگر ہم ا خلیوں کی تعداد گھٹاکر موٹاپا کم کرسکیں لیک اس کوشش میں اور بھی طریقِ کار ہیں، جیسے ڈائٹ گ اور ورزش۔ اے پی ایس




Pakistan, India in process of resolving their disputes: Gilani







COLOMBO : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Friday said Pakistan and India were in the process of dialogue to resolve all their disputes including that of Jammu and Kashmir. Speaking here at a dinner hosted by Pakistani High Commissioner, he said he wanted to see the South Asia as a region of sustainable peace and prosperity which was also the vision of his late leader Mohtarma Benazir Bhutto.
The SAARC region, the Prime Minister said at present was facing a number of challenges which included energy, food and environment issues.
He stressed the need for intra-regional trade between the SAARC region to compete in the globalized world and meet its challenges.
The trade figure of the SAARC countries, he said, was below two percent of the total trade in the region.
The Prime Minister also mentioned the challenges that Pakistan was facing from terrorism and extremism particularly in the tribal areas and said the government has adopted a three- pronged strategy to address these issues.
He said his government did not wish to go for the military approach to resolve these problems and instead its priority is to engage in political dialogue and then developing these areas through economic measures.
Referring to Pakistan-Sri Lanka relations, he termed them exemplary and said these were rooted deep in time through Gandhara civilization. Prime Minister Gilani said the Free Trade Agreement with Sri Lanka in 2002 has ushered in a new chapter of economic and trade relations between the two countries.
The government, he added, firmly believes in good governance and in this connection various measures have already been taken.
The democratically elected government which he said was committed to serving the masses, has rendered many sacrifices for the restoration of true democracy in the country. He said in this struggle for democracy, Benazir Bhutto laid down her life.
The dinner was attended by a large number of Sri Lankan civil and military officials, leaders of business and industry Pakistanis in Colombo besides the members of Prime Minister’s entourage.

Friday, August 1, 2008

حکومت عوام کو چکر پر چکر دئیے جا رہی ہے تحریر : اے پی ایس ، اسلام آباد







حکومت خطرے میں ہے، پیپلزپارٹی اپنے طرزعمل کی وجہ سے کسی انہونی کا راستہ ہموار کررہی ہے۔ اس سسٹم کو چلنا چاہیے اوراپنی مدت پوری کرنی چاہیے، مگر پیپلزپارٹی کی گومگو اور وقت گذاری کی پالیسی حکمران اتحا د میں دوری پیدا کررہی ہے اور اس کا مزید چلنا مشکل ہوتا جا رہاہے 18فروری کے الیکشن کے بعد پوری قوم یہ چاہتی تھی کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن مل کر حکومت بنائیں،حکمران اتحاد مضبوط ہو اورملک و قوم کودرپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے نجات دلائے، ججوں کو بحال کرے، پرویز مشرف کا مواخذہ کرے، لاپتہ افراد کو بازیاب کرائے، قومی ہیروڈاکٹر عبدالقدیرخان کو رہاکرے، اور مہنگائی و غربت کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ پیپلزپارٹی نے اب تک ان اہم قومی ایشوز کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے جس کی وجہ سے جہا ں اس اتحاد کا جواز ختم ہورہاہے وہیں پیپلزپارٹی کو پرویز مشرف کاساتھی سمجھاجارہاہے ، اس کے خلاف عوامی نفرت میں اضافہ ہورہاہے اور لوگ مزید اس پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے ہزیمت اورسبکی کے سو اکچھ حاصل نہیں ہوا۔ اب یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ وزیراعظم کو وضاحتوں کے لیے واشنگٹن طلب کیا گیا تھا۔ پاکستان کے معاملات میں کھلم کھلا امریکی مداخلت اور اس پر حکمران طبقے کا خاموش رہنا اوربش کے سامنے سر جھکائے رکھنا شرمناک اور قوم کے لیے ناقابل قبول ہے بش کا آئی ایس آئی کے کردار پر ناراض ہونا ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ ہمارے حکومتی و اندرونی معاملات میں کس قدر دخیل ہے اور ہماری خفیہ ایجنسیوں کا کردار بھی وہی متعین کررہاہے۔ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ حکمران بھی امریکہ کی بے دام غلامی پر آمادہ ہیں۔ سی آئی اے، موساد اور را کا کردار زیر بحث لانا چاہیے جو دنیا میں فساد پھیلا رہی ہیں اور انھوں نے مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بچھا رکھے ہیں۔ جبکہ قاضی حسین احمد نے یہ بھی کہا ہے ایک طرف بھارت لائن آف کنٹرول پر گڑبڑ کررہا ہے،اور مشیر داخلہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں بدامنی کے تمام معاملات میں بھارت ملوث ہے اورافغانستان میں بھارتی قونصل خانے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں گڑ بڑ پھیلا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وزیر تجارت بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے اور اسے موسٹ فیورٹ نیشن قرار دینے کے اعلانات کررہے ہیں اور وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ امریکہ و بھارت کی قیمت پر چین سے تعلقات نہیں بڑھا سکتے۔ انھوں نے کہا کہ حکمران دشمن کا مقابلہ کرنے کے بجائے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہیں اور دوست کو دشمن بنارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے اور اس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیاہے۔ وزیر خارجہ امریکی زبان بولنے کے بجائے چین کے حوالے سے پاکستانی قوم کے جذبات کو ملحوظ رکھیں حکومت اپنے دیرینہ دشمن بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں سے نمٹنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی بنانے کے بجائے خود کو اس کے سامنے نرم چارہ بنا کرپیش کررہی ہے سندھ میں کوئلے کے دنیا کے سب سے بڑے ذخیرے کو بھارت کے حوالے کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں اور اس کے لیے بھارتی صنعتکاروں کی منتیں کی جارہی ہیں،اور بھارتی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سینکڑوں سینما گھرکھولنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ بھارت کے بارے میں حکومت کایہ رویہ قوم کو قبول نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام محب وطن قوتوں کے ساتھ مل کراس کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ Èئی ایس Èئی کے ادارے پر دوسری دفعہ قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے پہلے 1994ءمیں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک رےٹائرڈ جنرل کو اس ادارے کا ڈائرےکٹر جنرل مقرر کر دےا تھا جبکہ پاکستان کی تارےخ مےں پہلے اےسا کبھی نہےں ہوا تھا۔ جس سے اس ادارے کی افادیت اور ساکھ کو نقصان پہنچا۔ چودھری شجاعت حسین نے یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد وزارت داخلہ اور Èئی ایس Èئی کے درمیان رابطے کیلئے جو سیل بنایا گیا تھا اسے حکومت نے بند کر دیا تھا کیونکہ وہاں سے انتہائی اہم خفیہ کاغذات لیک Èئوٹ ہو جاتے تھے جو غیروں کے ہاتھ چڑھ جاتے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر نے مزید کہا اب دوبارہ Èئی ایس Èئی کے ادارے پر مکمل طور پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ ملکی مفاد کے برعکس قدم تھاجس سے پاکستان کا یہ حساس ادارہ دنیا بھر میں زیر بحث Èرہا ہے جو کسی صورت میں ملکی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا اس طرح کے حساس ادارے دنیا بھر میں کسی وزارت کے ذیلی ادارے نہیں ہوتے بلکہ چیف ایگزیکٹو کے ماتحت ہوتے ہیں۔ جبکہ صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک سے دو ماہ میں اپنی پالیسیاں واضح کر ے۔ صدر کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سیاسی حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے یہ باتیں صدارتی کیمپ آفس راولپنڈی میں فاٹا کے اراکین اسمبلی سے بات چیت کے دوران کیں ہیں۔ اس وقت ملک کو مہنگائی ، امن و امان ، اقتصادی اور سیاسی استحکام جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس لئے حکومت ان مسائل سے نمٹنے کیلئے ایک دو ماہ میں اپنی پالیسیاں واضح کرے۔ صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان مسائل سے نمٹنے کیلئے موجودہ حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیلئے تیار ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل(ر) حمید گل نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی دنیا کے تمام خفیہ اداروں میں سب سے زیادہ منظم اور با اصول ادارہ ہے وائٹ ہاو¿س پہلے ہی پینٹا گان کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آپریشن کے لئے اجازت دے چکا ہے اور اس کے لئے دس ہزار امریکی فوج بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور امریکی فوج قبائلی علاقوں پر حملے کے لئے ڈیورنڈ لائن کے قریب خود کو منظم کر رہی ہے نائن الیون کے بعد امریکی خفیہ اداروں کا کردار اطمینان بخش نہیں رہا اور سی آئی اے بہت کمزور ہے جس کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہوں امریکہ کی الیکٹرانک انٹیلی جنس اب نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے ما تحت کام کر رہی ہے اور ان اداروں کا باہمی تعاون متاثر کن نہیں ہے انہوں نے کہا کہ عراق سے متعلق سی آئی اے کی رپورٹ درست تھی لیکن بش انتظامیہ نے اپنے مخصوص اہداف کے حصول کے لئے اس میں تبدیلی کی پینٹا گون اس قسم کی جھوٹی رپورٹس کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو نا چاہتا ہے آئی ایس آئی دنیا کا بہترین با اصول اور منظم ادارہ ہے آئی ایس آئی کی افرادی قوت پاک فوج سے آئی ہے جو گزشتہ دو تین سالوں سے ایجنسی میں خدمات انجام دے رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی ایک با اصول ادارہ ہے اس لئے وہ ملک کے خلاف کسی بھی سازش میں ملوث نہیں آئی ایس آئی کے وزیر اعظم کے مکمل کنٹرول میں نہ ہو نے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ اس ادارے کے خلاف ایک سازش اور پروپیگنڈہ ہے 1975ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں آئی ایس آئی کو اندرونی انٹیلی جنس کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور آئی ایس آئی کے چارٹر میں پولیٹیکل اینٹلی جنس کا ذکر بھی شامل ہے انہو ںنے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات شیئر کر رہا ہے اور اب تک امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کی فراہمی کے باعث 750 سے زیادہ القاعدہ اور طالبان کو گرفتار اور متعد د کو ہلاک کیاجا چکا ہے در حقیقت نیٹو اور امریکہ افغانستان میں جنگ ہار رہا ہے امریکہ نے اب پاکستانی آئی ایس آئی سے بھی یہ توقع وابستہ کی ہوئی ہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ کی مدد کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت افغان عوام آئی ایس آئی کے ساتھ روس کے خلاف اور اب افغان عوام امریکہ کے خلاف ہے اس لئے امریکہ اور نیٹو افواج کی کامیابی نا ممکن ہے ایک سوال پر کہ کیا پاکستان کی موجودہ حکومت اور آئی ایس آئی میں تعاون کی کمی ہے ؟کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ لیڈر شپ بہت کمزور ہے اس لئے وہ امریکی دباو¿ کو ٹال نہیں سکتا۔ جبکہ صدر بش نے اس تاثر کو مسترد کردیاہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایشیا کا کردار کم کیا جا رہا ہے ۔ ایشیا کے تین ممالک کے دورے پر روانگی کے وقت صدر بش نے سینئر مدیران کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی مشرق بعید کے متعلق خارجہ پالیسی بہت مضبوط ہے ۔ صدر بش پانچ سے گیارہ اگست تک تینوں ممالک تھائی لینڈ ‘ جنوبی کوریا اور چین کادورہ کریںگے۔ دورہ چین کے حوالے سے صدر بش نے کہا ہے کہ وہ صدر کی حیثیت سے کھیلوں کے شوقین بن کر چین جا رہے ہیں۔صدر بش نے اپنی ایشیاءکی پالیسی پر اعتراض کو مسترد کردیا انہوں نے مشرق بعید کی پالیسی پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے چین ‘ جنوبی کوریا ‘اور تھائی لینڈ کے ساتھ تعلقات مضبوط نہیں ہیںاور ہمیں دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ صدر نے کہا کہ وہ بھارت ا ور چین کے تعلقات کو بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بھارت ‘ چین اور امریکہ پورے خطے میں تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے بہت زیادہ مواقع مہیا کررہے ہیں ۔اس سے خطے میں امن کے ماحول کے لیے اکٹھے کام کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سوچ یہ ہے کہ اگر جنوبی کوریا اپنے ہتھیار کو تلف کردے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے اس سلسلے میں چھ ملکی بات چیت مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان اکانومی واچ کے صدر اور عا لمی شہرت یا فتہ ما ہر اقتصادیات ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں تنزلی کا رجحان ہے اور سٹیٹ بینک اس موقع پر شرح سود میں کمی کا اعلان کر کے معیشت میں نئی روح پھونک سکتا ہے۔ ا سٹیٹ بینک کی جانب سے تیل کی بین الاقوامی قیمت 110ڈالر فی بیرل تک گرنے کی صورت میں شرح سود اور ڈسکاونٹ ریٹ میں کمی کا اعلان معاشی صورتحال میں بہتری کے لئے ایک نہایت صائب فیصلہ ہو گا جس کے نتائج ساری قوم کے لئے اچھے ثابت ہونگے۔ اس سے افراط زرکم ہو گا اور گرتی ہوئی کرنسی کو سہارا ملے گا۔ معیشت کوسیاست سے بالاتر ہو کر بچانامرکزی بینک کی زمہ داری ہے جس سے پوری طرح عہدہ براہ ہونا چائیے۔ سٹیٹ بینک مناسب وقت پر معیشت کو بچانے اور افراط زر میں کمی میں ناکام رہا ہے جس نے اس کی ساکھ متاثر کی ہے۔اب ارباب اختیار کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا زبردست موقع ہے جس سے فائدہ نہ اٹھانا زیاتی ہو گی۔تیل کی بین الاقوامی قیمتیں 145ڈالر سے 123ڈالر تک گر گئی ہیں اور مزید گر رہی ہیں۔ اب حکومت اور سٹیٹ بینک کے پاس موجودہ پالیسیاں اور قیمتیں برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ ساری دنیا میںحکومتیں اور تیل کمپنیوں کی اشیاء کے قیمتیں کم کی جا رہی ہیں۔ بھارت نے سی این جی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں آٹھ روپے کی کمی کر دی ہے جبکہ پٹرول کی قیمت ساڑھے چار روپے کم کی جا رہی ہے۔ادھر ہماری حکومت عوام کو چکر پر چکر دئیے جا رہی ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے ایسے اعلان سے بینکوں اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گااور انھیں اپنی سرمایہ کاری پر منافع نظر آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے صرف ماحول میں بہتری آئی ہے کیونکہ ساری دنیا میں گاڑیوں کا استعمال کم ہوا ہے۔ اے پی ایس

شوکت عزیز کے خلاف مقدمہ ، مدعی کو انصاف ملناچائیے ۔کالم ۔ممتاز احمد بھٹی





سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھا جاناچائیے کیونکہ شوکت عزیز دنیا کے کرپٹ تین سابق وزیر اعظم ہیں ۔جس نے مال بنانے کے لالچ میں بے شمار غریبوں کو برباد کر دیا ۔سٹا ک ایکسچینج کی تباہی سے غریب اپنی جمع پونجی لٹا بیٹھے لٹنے والے بے کس لوگ سٹاک ایکسچینج میں ہی بے ہوش ہو گئے جن کو ایمبولینسز میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا گیا ۔مگر شوکت عزیز بینک بیلنس بڑ ھاتا رہا ۔شوگر مافیاسے ساز باز کر کے راتوں رات چینی کا بحران پیداکر دیا ۔خود بھی اربوں روپے کمائے اور اپنے ہمنواؤں کے ’’وارے نیارے‘‘ کر دئیے آ ج کا آٹے کا بحران بھی سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کا پیداکر دہ ہے کیونکہ گزشتہ سیزن میں جب گندم کی کٹائی شروع ہوئی تو ابھی حکومت پاکستان کے گندم کی خریداری کا ہدف پورا نہیں ہوا تھا تو گندم مافیاسے میٹنگ کی کہ گندم ایکسپورٹ کر دیتے ہیں جس سے اربوں روپیہ کمایاجاسکتاہے اور پھر جب پاکستان کو گندم کی کمی سامنا ہو گا پھر امپورٹ کر لیں گے پھر بھی اربوں روپے بچیں گے ۔مال آٹا تو دیکھ کر مافیا کو کھلی چھٹی دے دی گئی ۔اسٹیل ملز کو کوڑیوں کے بھا ؤ بیچنے کی سازش و کوشش کے پیچھے بھی موصوف کھڑے نظر آتے ہیں دولت اکھٹی کرنے کا حرص بڑہتا چلا گیا ایک خفیہ میٹنگ میں شوکت عزیز نے اپنے ہمنواؤں کو حکم دیا کہ آنکھیں کھول کر دیکھو کیہ ڈالرز کہاں سے آرہے ہیں اور ہم ان کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں پھر ایک ادارے کو ورلڈ بینک کی طرف سے ملنے والے 260ملین ڈالرز کو ہر حال میں حاصل کرنے کا پراگرام بنا لیا ۔سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے ایف آئی اے کو درخواست بھیج دی کہ میرے جعلی دستخطوں کے ذریعے ڈاکٹر زاہدہ ملک 260ملین ڈالرز حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ایف آئی اے کے ذریعے ڈاکٹر زاہدہ ملک کو گرفتار کراکے جیل بھیج دیا ۔
حقیقت میں اوورسیز پاکستانیز سو شیو اکنامک ڈویلپمنٹ کلب جو بیرون ملک پاکستانیوں کا کنسورشیم ہے ڈاکٹر زاہدہ ملک اس کی کنٹری ڈائیر یکٹر ہیں یہ ادارہ بزنس ،تعلیم اور فلاحی ادارے چلاتا ہے ۔مختلف منصوبوں کے لئے ورلڈ بینک ورلڈبینک نے اس ادارے کو 260ملین ڈالرز دئیے ۔جن میں سے 130ملین ڈالرز کا سافٹ لون اور 130ملین ڈالرز کی انوسٹمنٹ تھی ورلڈ بینک نے اتنی بڑی رقم ہانگ کانگ کی کمپنی ہا ر کو ہولڈنگ کے ذریعے دی کنسورشیم کویہ رقم پہلے سے جاری اور کچھ نئے منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے دی گئی ۔پاکستان کے بڑے شہروں میں اعلی درجے کا سکولز سسٹم بنایا جانا تھا ۔10ملین ڈالر سوڈایش فیکٹری سندھ کیلیے ۔20ملین ڈالرز پراجیکٹس کیلئے ۔12ملین میڈیکل کالج کے قیام کے لئے۔15ملین “ پی سی بی اے “ پروفیشن کئیر ئیر اکیڈمی کے لئے۔15ملین ڈالرز ٹرانسپورٹ کیلئے .۔71ملین ڈالرز اگر اس روٹ لیول تک تعلیمی ترقی کے لئے ۔ 7ملین ڈالرز محمڈن اوپن یونیورسٹی کے لئے مختص تھی ۔شوکت عزیز نے جو درخواست ایف آئی اے کودی اس میں لکھا کہ ڈاکٹر زاہدہ ملک میرے جعلی دستخطوں سے اپنی بڑی رقم حاصل کرنا چاہتی ہے حالا نکہ اس کے لئے شوکت عزیز کے دستخطوں کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔اورنہ ہی اصل خط پر شوکت عزیز کے دستخط موجودتھے اس خط کوبعد میں گورنر سٹیٹ بینک نے عدالت میں بھی پیش کیا ۔جو ڈائیریکٹر زاہدہ ملک نے گورنر اسٹیٹ بینک کو لکھا تھا شوکت عزیز نے یہ سمجھ لیا کہ میرامنصوبہ مکمل ہو چکا ۔کیو نکہ جیل میں بڑے بڑے لوگ حوصلے ہا ر جاتے ہیں ۔یہ تو پھر بھی خاتون ہے مگروہ نہیں جانتے تھے ان کو ڈاکٹر زاہدہ ملک کے حوصلے اور ہمت کا اندازہ نہیں تھا ۔جیل نے ڈاکٹر زاہدہ ملک کی ہمت توڑنے کی بجائے ہمت میں اضافہ کیا ۔دو سال بعد عدالت نے ڈاکٹر زاہدہ ملک کو باعزت بری کر دیا ڈاکٹر زاہدہ ملک نے دوسال پریشانی اورر ذہنی دباؤ میں گزراے دوسری طرف شوکت عزیز نے ہتھیائے گئے260ملین سے سٹا ک ایکسچینج میں لگائے سٹاک ایکسچینج کو جوئے کا اڈہ بنادیاچند کرپٹ لوگوں سے ساز باز کر کے غریبوں کا خوب خون نچوڑا اور اربوں ڈالرز کے مالک بن گئے اس حوالے سے تما م حقائق منظر عام پر آچکے ہیں ۔
شوکت عزیز کے خلا ف -182 ppc 476,476,CRCPکے تحت مقدمہ درج ہو چکا ہے ۔شوکت عزیز کی گرفتاری کے لئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں۔ شوکر عزیز کے کرپشن کے کارناموں سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بد نامی ہوئی ہے ۔اورپاکستان میں غربت بڑھی ہے جبکہ شوکت عزیز دولت سمیٹ کر باہر جا کر بیٹھ گیا ہے ۔حالانکہ جب شوکت عزیز باہر جارہا تھا تو میڈیا چیخ رہا تھا لوگ شور مچارہے تھے ۔کہ شوکت عزیز کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے مگر کسی نے نہیں سنی۔آج حکومت وقت کا فرض بنتاہے کہ انٹر پول کے ذریعے شوکت عزیز کو گرفتار کرکے پاکستان لایا جائے۔مکمل اور اعلی سطحی تحقیقات کر کے قانون کے مطابق سخت سزادی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسا شخص غریبوں کی جمع پونجی لوٹ کر اور ڈاکٹر زاہدہ ملک جیسی رفاہی کا م کرنے والی خاتون کوجیل میں نہ بھیجا جا سکے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہونگے کہ کرپشن کے معاملے میں سب ملے ہو ئے ہیں ۔

آتی ہے چاہ یوسف سے صدا تحریر : اے پی ایس، اسلام آباد



وزیر اعظم کے دورہ امر یکہ کے حوالے سے مبصرین اور عوامی حلقوں میں یہی بحث ہو رہی ہے۔ کہ وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اسی طرح تھا جس طرح قیام پا کستان کے فورا بعد لیاقت علی خان جلد بازی میں روس کی طرف رخ کر نے کی بجا ئے امریکہ یا ترا چلے گئے۔ اور ہما رے حکمران آج تک امریکی غلامی سے نجات حا صل نہیں کر سکے۔ اور لیا قت علی خان نے واپس آکر اپنی کا بینہ کو کہہ دیا تھا کہ قیام پا کستان کا مقصد امریکی پا لیسیوں کو Fallow کر نا ہے۔ اگر قا رئین اس بات سے اتفاق نہیں کر تے تو صرف کیلکو لیٹر لے کر ما ہر ریا ضی دان کی طرح ساٹھ سا لہ پاک امریکہ تعلقات کا دن بدن کب، کہاں، کیوں اور کیسے فار مو لے کے تحت بھی نتا ئج اخذ کر سکتے ہیں کہ مذ کورہ با لا بات میں کس حد تک صداقت ہے۔ پالیساں حا لات کے تا بع ہوتی ہیں اور اس وقت جو صورتحال ہے اس میں ہمارے حکمرانوں کو یہ دیکھنا ہے کہ پا کستان دشمن کون ہے اور پا کستان دوست کون ہے۔ اس وقت پاکستان جو آئے دن عدم استحکام کی طرف بڑ ھ رہا ہے اگرچہ اس کے پس پردہ پاکستان دشمن عالمی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔ اس حوالے سے ضروری تھا کہ وزیر اعظم امریکہ کی طرف منہ کرنے کی بجائے پہلے چین جا تے اور عنقریب مستقبل میں پاکسان دشمن عالمی طاقتوں کی طرف سے پا کستان کو درپیش آنے والے خوفناک خطرات کا سا منا کرنے اور ان سے نمٹنے کیلئے کو ئی فا ئنل حکمت عملی وضع کر تے۔ جبکہ اس مو قع پرچین نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ چین کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لی جن چاو¿ نے اپنے ایک بیان میں امریکہ چین کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی چھوڑ دے اور صدر بش بیجنگ میں ہونے والی اولمپکس گیمز کو سیاسی بنانے کی کوشش نہ کرے۔ چینی وزارت خارجہ کا یہ سخت بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اولمپکس گیمز کو شروع ہونے میں صرف 8دن باقی رہ گئے ہیں۔ لی جن چاو¿ نے کہا کہ امریکی صدربش نے واشنگٹن میں 5چین مخالف گروہوں کے رہنماو¿ں سے ملاقاتیں کی ہیں جو چین کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔جبکہ عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت جو دنوں کی مہمان ہے وہ دڈالر اکھٹے کر نے کے چکر میں ہے۔ جبکہ پاکستان کے عوام نے یہ بھی مطا لبہ کیا ہے ۔ کہ امریکہ کی طرف سے پا کستان کو حا لیہ اربوں ڈالر ملنے والی غیر فوجی امداد پر نظر رکھی جائے ۔خدشہ ہے کہ کہیں سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمرانوں کی لوٹ مار پروگرام کی نظر نہ ہو جائے۔ عوامی حلقوں میں یہ بھی پشین گوئیاں کی جا رہی ہیں کہ حکومت جو اس وقت بو کھلاہٹ کا شکار ہے یہ عوامی توجہ کے ایشو سے توجہ ہٹانے کیلئے معزول ججز کی بحالی کے حوالے سے کوئی نیا شگوفہ چھوڑ ے گی۔ اور کچھ دنوں بعد پھر یو ٹرن لے جائے گی۔ آئی ایس آئی کا ایشو بھی ابھی سب کی نظروں میں ہے۔ آ ئی ایس آئی جو ابھی تک خدائی مدد سے چل رہی ہے اگر حکمرانوں کا بس چلتا تو اسے بھی پرائیویٹائز کر کے کمیشن کھا بیٹھے ہوتے۔ پاکستان کے عوام کو قو می سلامتی کی ضا من آ ئی ایس آئی پر فخر ہے۔ پاکسان کے عوام کو جب کبھی بھی ما یوسی ہوئی ہے اپنے حکمرانوں اور دفتر خارجہ کے افسروں سے کیونکہ ڈائیلاگ اور مذاکرات میں ہم نے ہمیشہ شکست کھا ئی ہے اور جس کا نتیجہ ہم کئی بحرانوں میں بھگت رہے ہیں۔ جبکہ پی ایم ایل ق نے ایک فیکٹ شیٹ بھی جاری کی ہے جس میں وزیر اعظم کے دورے کو تنقید کہا نشا نہ بنا نے کیلئے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کادورہ امریکہ کسی بھی پاکستانی وزیراعظم کا انتظامی لحاظ سے سب سے زیادہ غیر منظم دورہ تھا۔ جس کے دوران وزارت خارجہ اور وزارت اطلاعات کے درمیان کسی قسم کی کو آرڈینیشن نظر نہ آئی،اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ہر قدم پر انتطامی نا اہلی کا ثبوت دیا گیا اس نا اہلی سے وزیر اعظم کو کافی ندامت کا سامنا کرنا پڑا اور ایسادکھائی دیتا ہے کہ نا اہلی کی یہ خصوصیت پیپلز پارٹی کا طرہ امتیاز بن گئی ہے ، جس کی حالیہ مثال 20جولائی کو وزیر اعظم کا قوم سے خطاب بھی تھا ۔ یہ حقیقت کہ ،وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سب سے اہم مسئلے پر پارلیمان سے مینڈیٹ لئے بغیر امریکہ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ، سے بھی وہ سیاسی طور پرکمزورہوئے ۔اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ کی قیادت نے 15جولائی کو مسلم لیگ ہائوس میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی جس میں انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ پارلیمان کے ایک مشترکہ سیشن کا اجلاس بلوائے تا کہ ان کا دورہ سیاسی اعتبار سے مضبوط ہو اور ان کو مکمل سیاسی تائید و حمایت حاصل ہو ۔1۔آئی ایس آئی کے متعلق جاری کردہ ناکام نوٹیفکیشن کی وجہ سے وزیراعظم کی واشنگٹن میں آمد کی خبر پس پردہ چلی گئی ۔ 2۔جس دن وزیر اعظم واشنگٹن پہنچے عین اسی دن امریکہ نے وزیرستان میں میزائل حملوں کا تحفہ دیا ،جس میں6شہری مارے گئے ایک رپورٹ کے مطابق امریکی دبائو کے تحت پاکستان نے بھارت امریکہ جوہری معاہدے پر تنقید کرنا بند کر دیا جس پر ایک مشترکہ بیان میں ملک کے 30ریٹائرڈ سفیروں اور خارجہ سیکرٹریوں نے احتجاج کیا ۔1۔وزیرا عظم کا یہ پہلا دورہ ہے کہ جس میں وزار ت خارجہ کی جانب سے نہ تو وفد کے اراکین اور نہ ہی میڈیا ٹیم کو بریفنگ دی گئی ۔2۔پیپلز پارٹی کی مخصوص نا اہلی کے بموجب ©وزیراعظم کے دورے پر گئے ہوئے صحافیوں کے لئے ذرائع ابلاغ کی کوئی سہولیات فراہم نہ کی گئیںجس پر محمود شام نے ایک رپورٹ لکھی ۔3۔ وزیرا عظم کی سرکاری میڈیا ٹیم کے 13ارکان میں سے 6کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر روانگی سے صرف ایک گھنٹہ قبل جہاز سے اتارا گیا کیونکہ انہیں امریکی ویزا نہیںدلوایا جا سکا ۔یہ وزارت اطلاعات اور وزارت خارجہ کی انتہائی نا اہلی کا نتیجہ تھا ۔ ”ہیتھرو ایئر پورٹ پر وزیر ااعظم کے طیارے کی دیر سے لینڈنگ “ کے مطابق وزیر اعظم کے طیارے کو کافی دیر تک ہوا میں رکھا گیا اور انہیں کوئی باقاعدہ پروٹوکول بھی نہیں دیا گیا،جو عموماً ملکی سربراہان کو دیا جاتا ہے ۔5۔ہیتھرو ایئر پورٹ پر وزیر اعظم کے استقبال کے لئے کوئی بھی موجود نہ تھا ۔لندن میں نہ تو برطانوی حکومت کا کوئی عہدیداران کے استقبال کے لئے موجود تھا اور نہ ہی وزیر اعظم اپنے ہوٹل سے باہر نکلے کہ وہ پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کر سکیں ۔6۔ حکومتی نا اہلی کا یہ عالم تھا کہ 27جولائی کی صبح 10:30بجے ہیتھرو ایئر پورٹ پر جب میڈیا ٹیم اتر ی تو انہیں بتایا گیا کہ پروگرام میں اچانک تبدیلی لائی گئی ہے اور وہ شام 6:00بجے وہاں سے رخصت ہوں گے۔7۔ہیتھرو ایئرپورٹ پر جہاں صحافیوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا وہاں سیکیورٹی کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے وی آئی پی لائونج پر بھی انہیں دو تین گھنٹے روکا گیا ۔ پی آئی اے کے مرکزی دفتر کے فلائیٹ آپریشن ڈیپارٹمنٹ نے وزیراعظم کے طیارے کی بابت برطانوی ایئر ٹریفک کنٹرول کے اہلکاروں کو آگاہ کیا تھا اور نہ ہی اس متعلق کوئی درخواست دائر کی گئی ،جس کی وجہ سے گیلانی کے طیارے کو ٹیک آف کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی وزیراعظم جب واشنگٹن اترے تو انہیں طیارے سے شیڈ تک دو تین منٹ پیدل جانا پڑا جبکہ شیڈ کی گیٹ پر امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری رچرڈبائوچر کے علاوہ کوئی اعلیٰ عہدیدار موجود نہ تھا ۔ پیدل جاتے وقت گیلانی اور انکی اہلیہ کافی پریشان دکھائی دیئے کیونکہ نہ تو انکے استقبال کےلئے کوئی عام قالین اور نہ ہی سرخ قالین ،جو بالعموم سرکاری دوروں پر بچھائی جاتی ہے، نظر آئی جبکہ شیر ی رحمان سمیت تما وزراءاور دوسرے لو گو ں کو جہا ز میں ہی رہنے کو کہا گیا۔10۔وزیرا عظم کے لئے امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے اعشائیے کے موقع پرچار صحافیوں کو مدعو کیا گیا جن کو عوام الناس کی موجودگی میں پولیس کے سراغ رساں کتوں کے ذریعے تلاشی کے تذلیل آمیز مرحلے سے گزرنا پڑا۔ متعلقہ وزارتیں وزیراعظم کی میڈیا ٹیم کے ساتھ غلط انداز میں پیش آئیں ۔میڈیا ٹیم کو نہ صرف غلط انداز میں ہینڈل کیا گیا بلکہ وزیراطلاعات اور پاکستانی سفیر نے ان کے بارے میں نازیبا الفاظ بھی استعمال بھی کئے ۔ رپورٹ کے مطابق مقامی اور قومی میڈیا نے واشنگٹن میں صدر بش اور وزیر اعظم گیلانی کی ملاقات کے بعد پریس بریفنگ کے موقع پر وزیراطلاعات شیری رحمان اور پاکستانی سفیر حسین حقانی کے رویئے پر سخت احتجاج کیا اور اسے تذلیل آمیز سلوک قرار دیا ۔12۔بد انتظامی اس حدتک تھی کہ پاکستانی وفد وائٹ ہائوس میں مقررہ وقت سے قبل ہی پہنچ گیا جس کی وجہ سے ان کے استقبال کے لئے وہاں پر کوئی بھی امریکی عہدیدار موجود نہیں تھا ۔13۔یہ پہلا موقع تھا کہ غیر ملکی دورے پر گئے ہوئے معزز مہمان وزیراعظم اور امریکی صدر کے درمیان کوئی مشترکہ پریس کانفرنس منعقد نہ کی گئی اور نہ ہی صحا فیو ں کے سوالات کے جو ابا ت دیئے گئے ۔1۔دورے کے دوران وزیر اعظم یاا ن کے کسی وزیر میں یہ اخلا قی جر ات نہ تھی کہ وہ پا کستان پر امریکہ حملے کی مذ مت کر تے ۔2۔ امریکہ کے بارے میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک معذرت خواہانہ اورمدافعانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے ۔اس کا واحد کام امریکی الزمات کو رد کئے بغیر بار بار دہرانہ ہے مثال کے طور پر وزیراعظم نے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے 11ستمبر جیسے حملے کا امریکی خدشہ رد کئے بغیر دوبارہ دہرایا ،حالانکہ 11ستمبر کے حملوں میں کوئی ایک پاکستانی بھی شامل نہ تھا۔3۔امریکی دورے کے دوران وزیر دفاع احمد مختار نے 30جولائی کو آئی ایس آئی کے متعلق سی آئی اے کے الزامات دہرائے ۔کم از کم حکومت کو سی آئی اے کی سابقہ کارکردگی کو چیلینج کرتے ہوئے الزامات کی نفی کرنی چاہیئے تھی ۔جو اس نے عراق کے جوہری ہتھیاروں کے متعلق جاری کی تھی جس کی وجہ سے عراق پر مارچ 2003میں حملہ کیا گیا ،علاوہ ازیں سی آئی اے 1998ءمیں انڈیا کے جوہری دھماکوں کی پیشگی اطلاع دینے میں ناکام رہا ۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ پی پی پی حکومت پارلیمنٹ کو نظر انداز یا بائی پاس کرنے کا سلسلہ بند کرے اور وزیر اعظم وطن واپسی پر امریکی دورے کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے ۔سینٹ کا سیشن 4اگست کو ہو رہا ہے، وزیر اعظم کو چاہیئے کہ وہ یہ موقع اپنے دورے کے متعلق تفصیلات پیش کرنے کے لئے استعمال کرے۔ پی پی پی حکومت ایک انکوائری بٹھائے جو وزیر اعظم کے دورے کے دوران آئی ایس آئی کے متعلق غلط نوٹیفیکشن جاری کرنے والوں کو سراغ لگائے ۔ جبکہ پی ایم ایل ق نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پی پی پی حکومت کے ساتھ اس امر پر مکمل تعاون کرے گی کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر موجود تمام سیاسی قوتوں کے باہمی مشورے اور اتفاق سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک خارجہ پالیسی مرتب کرے۔ امریکہ کے ممتاز اخبارات نے امریکہ پاکستان تعلقات کو آنے والے برسوں میں انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بش انتظامیہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورے کے موقع پر پاکستانی عوام کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنائے ۔ وزیر اعظم کے امریکہ کے دورے کے موقع پر واشنگٹن پوسٹ نے اپنے تبصرے میں دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کئی چیلنجوں کے باوجود پاکستان میں جمہوریت کی بحالی سے پاکستان کے عوام میں کامیابی کی امید پیدا ہو گئی ہے امریکہ اس اہم دورے میں پاکستان میں نئی جمہوری حکومت کی مکمل حمایت کرے اور دونوں ملکوں کے درمیان ا سٹرٹیجک پارٹنر شپ کو فروغ دے ۔ ذرائع کے مطابق ایک اور ممتاز روزنامے نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ امریکہ پاکستان میں جمہوری قوّتوں اور ترقیاتی کاموں کے اپنے وعدوں کی پاس داری کرے ۔ امریکہ میں خارجہ امور کی کونسل میں جنوبی ایشیاء امور کے ماہر ڈیمنل ملکی نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمے اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ اداروں کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی کاموں میں تعاون کرنا ہو گا ۔ امریکہ دوران سفر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے یہ بھی کہا کہ 2008ء کے انتخابات کو کسی حد تک آزادانہ اور منصفانہ بنانے اور موجودہ جمہوریت کی بحالی میں امریکا کا واضح کردار ہے۔ ہم اسی حوالے سے پاکستانی عوام کیلئے جمہوریت کے منافع میں عوام کا حصہ حاصل کرنے کیلئے امریکی صدر کی دعوت پر امریکا جارہے ہیں ہم امریکا کھلے ذہن سے جارہے ہیں ہمارے کوئی تحفظات نہیں ہیں ہم انکی دعوت پر جارہے ہیں اسی لئے پہلے وزرائے اعظم یا صدور کی طرح کوئی شاپنگ لسٹ لیکر نہیں اور نہ ہی امداد مانگنے جارہے ہیں۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے درمیان وائٹ ہاو¿س کے اوول آفس میں 50 منٹ سے زائد دیر تک مذاکرات ہوئے صدر بش نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ہمارے مذاکرات بہت تعمیری تھے، اوول آفس میں بات چیت بہت اچھی رہی، ابھی میں وزیراعظم کو وائٹ ہاو¿س کھانے کی دعوت دے رہا ہوں، پاکستان ہمارا پرانا اتحادی ہے، یہاں کی فعال جمہوریت اور خود مختاری کی ہم قدر کرتے ہیں، ہماری بات چیت زیادہ تر معیشت پر رہی۔ امریکا پاکستان اور پاکستانی عوام کی اقتصادی خوشحالی کیلئے تعاون کر رہا ہے۔ یہ بات وزیراعظم سمجھتے ہیں اور اس کیلئے پرعزم ہیں۔ وہ انتہا پسندی کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے، انتہا پسند بہت ہی خطرناک ہیں۔ ہم نے پاک افغان سرحد کی سیکیورٹی پر بھی بات کی ہے۔ افغانستان میں جمہوریت، پاکستان کے حق میں ہے، وزیراعظم گیلانی نے بھی کہا کہ وہ مستحکم افغانستان چاہتے ہیں، پاکستان ایک ترقی کرتی ہوئی جمہوریت ہے اور ہم اس کی خود مختاری کا مکمل احترام کرتے ہیں، وزیراعظم کے انتہاپسندی کے خلاف شدید مخالفانہ خیالات ہیں اور وہ اپنے ملک میں انتہاپسندوں کیخلاف بہت ہی مثبت کام کر رہے ہیں، ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ پاکستان میں جمہوریت اور خود مختاری کیلئے جو تعاون کر رہے ہیں اس کی ہم قدر کرتے ہیں، ہم نے جمہوریت اور دوسرے شعبوں پر بات چیت کی ہے، ہمارے امریکا سے دو طرفہ تعلقات 60 سال سے ہیں اور انہوں نے لبرٹی (آزادی) کا نعرہ بلند کیا، ہم بھی انکے لبرٹی اور خود ارادیت کے نعروں سے متاثر ہوئے ہیں۔ انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں ہم پرعزم ہیں، وہ ہمارے معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں، دنیا کا امن خراب کر رہے ہیں، یہ ہماری اپنی جنگ ہے، یہ دہشت گردی پاکستان کیخلاف ہے، اسلئے ہم اپنے طور پر اسے اپنی جنگ کہتے ہیں، دہشت گردی کی وجہ سے ہی ہم اپنی قائد محترمہ بینظیر بھٹو سے محروم ہوچکے ہیں، پاکستان کے عوام اور بالخصوص صوبہ سرحد اور فاٹا کے لوگ محب وطن ہیں، امن چاہتے ہیں اور امن کے قیام کے سلسلے میں تعاون کرنا چاہتے ہیں، انتہاپسند اور دہشت گرد بہت محدود اور مٹھی بھر ہیں، ہم نے صدر بش کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے، جمہوریت اور عوام کی خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں گے، صدر بش نے بھی ہمیں اپنے پورے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دونوں رہنماو¿ں کی بات چیت کے اختتام پر صحافیوں کو سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور صدر بش وزیراعظم کو لیکر واپس اوول آفس چلے گئے۔ وزیراعظم گیلانی نے اپنے بیان میں متعدد بار صدر بش کو مسٹر پریذیڈنٹ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے پاکستان کیلئے ا±ن کی حمایت کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر بش نے دہشت گردی کے حوالے سے اپنے بیان میں پاکستان پر دباو¿ بڑھانے سے گریز کرتے ہوئے اس مثبت بیان پر اکتفا کیا کہ پاکستان دہشت گردی کیلئے مفید کردار انجام دے رہا ہے اور دہشت گردی کے بارے میں وزیراعظم کے انتہائی سخت الفاظ کے استعمال کرنے کو سراہا۔ نیز نئی منتخب جمہوری پاکستانی حکومت کی حمایت کی۔ صدر بش کا یہ بیان امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیلئے پاکستان پر مزید دباو¿ بڑھانے کے مطالبے کے تناظر میں ایک مثبت امریکی سرکاری رویّہ ہے، البتہ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے گیلانی حکومت کیلئے حمایت اور تعاون کا اظہار عوامی سطح پر کیا گیا ہے تاکہ کمزور اتحادی گیلانی حکومت کا اعتماد اور امیج بہتر ہوسکے لیکن نجی طور پر وزیراعظم گیلانی پر واضح کر دیا گیا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کیلئے ملٹری آپریشن اور دیگر فیصلے اور اقدامات پاک فوج کی قیادت پر چھوڑ دیا جائے اور امریکی سینٹرل کمان، افغانستان میں اتحادی کمان اور پاک افواج کے درمیان رابطوں اور مشوروں سے طے پانے والے فیصلوں اور اقدامات پر سویلین حکومت اپنی رائے اور رائے عامہ ہموار کرنے کے کام پر توجہ مرکوز رکھے۔ گیلانی حکومت کو اقتصادی اور سیاسی مسائل کے حل کرنے کیلئے بش حکومت تعاون کرے گی اور یہ پاکستانی حکومت کا دائرہ اختیار ہو گا۔ بعض مبصرین نے بش، گیلانی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملاقات بالکل ویسی ہی ملاقات ہے جیسی عراق کے وزیراعظم نوری المالکی اور صدر بش کے درمیان تھی۔ خوشحال پاکستان پوری مہذب دنیا کے مفاد میں ہے، امریکا جلد بازی نہ کرے اور یکطرفہ کارروائی خودمختاری کے خلاف ہو گی پاکستان نے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کا عزم کررکھا ہے وہ جمہوریت کے استحکام اور قومی مفاہمت کی سیاست پر یقین ر کھتا ہے امریکہ کو مزید صبر کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کے اندر جنگجوو¿ں کیخلاف یکطرفہ کارروائی نہیں کرنا چا ہیے یوسف رضا گیلانی نے براہ راست امریکہ پر میزائل حملے کا الزام لگانے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ثابت ہوگیا کہ حملہ امریکہ نے کرایا ہے تو یہ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہوگا انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر امریکی بے صبری اور جلد باز واقع ہوئے ہیں مستقبل میں انٹیلی جنس تعاون بڑھانا ہوگا اور اگر کوئی کارروائی کرنا پڑی تو پاکستان خود کرے گا ۔امریکا پاکستان کی حدود میں دہشت گردی کے خلاف یکطرفہ کارروائیاں کرنے کے بجائے ہمیں جدید ترین اسلحہ دے تاکہ ہم افغانستان سے آنے والے خطرناک غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف موثر جنگ لڑ سکیں۔ وہ کو نسل آف فارن ریلیشنز اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے مشترکہ اہتمام سے منعقد ہونے والے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ جس میں امریکا کے ممتاز دانشوروں، پاکستانی امور کے ماہروں، سابق ا ور موجودہ سفارت کاروں، تھنک ٹینکس کے نمائندوں کی بڑی تعدا د نے شرکت کی۔ کونسل آف فارن ریلیشنز کے صدر رچرڈ این ہاس خود بھی تند و تیز سوالات کررہے تھے اور شرکاءکی طرف سے ارسال کردہ تحریری سوالات بھی پڑھ کر سنارہے تھے۔ زیادہ تر سوالات پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کیخلاف کارروائیوں، پاکستان میں جمہور یت کی ناکامی، پاکستان کے وجود اور خودمختاری کو لاحق خطرات، صدرپرویز مشرف سے تعلقات کار، بھارت سے مذاکرات کے حوالے سے تھے۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ امریکی صدارتی انتخابی مہم میں یہ حوا لہ بار بار آرہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کیخلاف جان بوجھ کر موثر اقدامات نہیں کررہا ہے اس لئے امریکا کو یکطرفہ کاررو ائی کر نی پڑ رہی ہے۔ اس پر آپ کا کیا کہنا ہے۔ وز یر اعظم نے جواب میں کہا کہ امریکا اگر یکطرفہ کارروائی یہ سمجھ کر کرتا ہے کہ ہم اس قابل نہیں ہیں تو یہ تاثر بالکل غلط ہے ہمارے پاس طاقت ہے لیکن یہ عسکریت پسند دوسرے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ چیچنیا سے ہیں، ازبک ہیں اور دوسری قوموں سے ہے۔ انہیں ہم نشانہ بناتے ہیں تو یہ افغانستان چلے جاتے ہیں افغانستان میں کاررو ائی ہوتی ہے تو پاکستان آجاتے ہیں۔ یہ بہت زیادہ تربیت یافتہ ہیں ان کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی کے ہتھیار ہیں، فنڈز ہیں، امریکا بھی ان پر قابو نہیں پاسکا ہمیں انٹیلی جنس میں تعاون کرنا ہوگا، ہمیں جدید ترین اسلحہ بھی درکار ہے اس سے ہم اپنی فوج کی صلاحیت بڑھا سکتے ہیں۔ ان دشوار گزار علاقوں میں یہ عسکریت پسند گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں جس کی فوجوں کو تربیت نہیں ہے تربیت اور نئے ہتھیار ہی زیادہ اہلیت بڑھا سکتے ہیں۔ رچرڈ ہاس بار بار ایک جیسے سوالات کرکے پاکستان کے وزیراعظم کو دباو¿ میں لانے کی کوشش کررہے تھے۔ وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی عوام یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا جنگ کا حامی ہے غیر منتخب حکومت ہو تو وہ امریکا کے دبا و¿ میں آجاتی ہے۔ انہوں نے فوج استعمال کی تھی لیکن انہیں سیاسی حمایت حاصل نہیں تھی اس لئے وہ ناکام رہے اب منتخب صوبائی حکومت کو دہشت گردوں نے 5 دن کی دھمکی دی تو انہوں نے فوج کی مدد حاصل کی فوج آئی اسے عوام کی سیاسی حمایت حاصل تھی، عو ام نے مدد کی تو فوج کامیاب رہی۔ ہمیں امید ہے کہ ا مریکا منتخب حکومت سے بھرپور تعاون کرے گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ پاک بھارت معاملات میں امریکا کیا کوئی کردار ادا کرسکتا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ بالکل کرسکتا ہے، کر نا چاہئے۔ بھارت سے ہمارا دیرینہ تنازع کشمیر پر ہے اس مسئلے کو حل کروا نے میں اسے مدد کرنا چاہئے۔ رچرڈ ہاس نے کہا کہ کس طرح، کیا وہ ثالثی کرے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا تو جو چاہے کرسکتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا آمرانہ حکومتوں کی طویل عرصے تک مدد کرتا رہا ہے اب انہیں پالیسی بدلنا پڑے گی۔ بعض مبصرین نے کہا ہے کہ ممتاز امریکی تھنک ٹینک کو نسل آن فارن ریلیشنز اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے باہمی اشتراک سے منعقدہ اجتماع سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا خطاب ایک اہم اور تاریخی واقعہ یوں ہے کہ اس وقت امریکا کی نظرمیں پاکستان کی جو اہمیت ہے اس کے تناظر میں پاکستانی وزیراعظم کے خطاب کو سننے کیلئے امریکا کے پالیسی سازوں، دانشوروں اور عالمی امور کے ماہرین میں اتنا اشتیاق تھا کہ جنوبی ایشیا کے حوالے سے چوٹی کے امریکی ماہرین اور سفارتکار پہلے سے اپنی شرکت کو کنفرم کرکے سننے کیلئے آئے ہوئے تھے ان میں کا رل انڈرفرتھ (سابق اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی ایشیا) جو طالبان سے مذاکرات بھی کرتے رہے ہیں، رابرٹ ہاتوے، ڈائریکٹر ایشیا پروگرام وڈروولسن سنٹر، جارج ٹاو¿ن کے پروگر ام لاء ایشیا کی سوزن روزویلٹ، تھنک ٹینک سی ایس ایس آئی ایس کی ٹریسٹا شیفر، کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ایمرٹیس اور سابق ڈین پروفیسر ایمبری جارج ٹاو¿ن یونیورسٹی کے ڈا ئریکٹر آف اسٹڈیز اور سابق سفارتکار ہاورڈ شیفر، کونسل آف فارن ریلیشنز کے سربراہ رچرڈ ہاس، مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ پاکستان میں امریکا کی سابق سفیر وین ڈی چیمبرلین شامل تھے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا موقف پیش کرکے امریکی ایوانوں میں امریکی پالیسی کو متاثر کرنے کا کتنا اہم اور سنہری موقع تھا جسے وز یر اعظم یوسف رضا گیلانی کی انتہائی مایوس کن کارکردگی نے نہ صرف ضائع کردیا بلکہ خود وزیراعظم کی شخصیت اور صلاحیت کے بارے میں امریکیوں پر انتہائی منفی تاثر چھوڑا ہے پاکستان، بھارت اور امریکا کے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کا منظر اپنی آنکھوں سے اور وز یر اعظم کے جوابات اپنے کانوں سے سنے ہیں اور پھر تقریب کے اختتام پر سامعین کے چہروں اور تبصروں کو بھی دیکھا اور سنا گیاہے۔ کوئی بھی پاکستان کا دوست امریکی یا پاکستانی ایسا نہیں ملا جو شرمندگی اور غصہ کی حالت میں نہ ہو۔ ہمیں ان پابندیوں کے ساتھ ہی زندہ رہنا ہوگا۔ کیونکہ ورلڈ بینک نے دیامر بھاشا ڈیم سمیت آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں میں بننے والے پانی وبجلی کے منصوبوں کیلئے فنڈز دینے سے قطعی طورپر انکار کردیا ہے۔ ا بینک کی طرف سے فنڈز کی فراہمی سے انکار نے دیامربھاشا ڈیم کو عملی طور پر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اے پی ایس