International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, October 8, 2008

پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس میں دہشتگردی کا حل نکلنے کی توقع نہیں،نواز شریف




لاہور (اے پی ایس )مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دہشت گردی کا حل نکلنے کی توقع نہیں تاہم ایسے اجلاس ہوتے رہنے چاہئیں۔ شیخ زید اسپتال لاہورمیں مسلم لیگ ن کے رہنما رشید نوانی کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی ایک ناسور بن چکا ہے جسے ختم کرنے کیلئے پوری قوم کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی پالیسی ترتیب دی جانی چاہئے۔انہوں نے ملک میں جاری دہشت گردی کوپرویز مشرف کے آٹھ سالہ آمرانہ دور کا تحفہ قرار دیا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ معزول ججز کو بحال کرنے کی بجائے عدلیہ کی بے حرمتی کی گئی ہے۔اس کے بعد میاں نواز شریف اور وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے علیحدہ علیحدہ لاہور کے پرانے ائیرپورٹ پہنچے جہاں سے وہ اسلام آباد روانہ ہوگئے۔اس موقع پرسیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 6:21 PM 0 comments

پارلیمنٹ میں بحث کے بغیرمتفقہ لائحہ عمل پرپہنچنا مشکل ہے،قاضی حسین احمد

اوکاڑہ :جماعت اسلامی کے امیرقاضی حسین احمدکاکہناہے کہ پارلیمنٹ کے اِن کیمرہ سیشن میں آرمی کی جانب سے بریفنگ دی جا رہی ہے،بحث نہیں کی جا رہی، اسلئے بحث کے بغیرکسی متفقہ لائحہ عمل پرپہنچنے میں کامیابی مشکل ہے۔اوکاڑہ میں ٹرین مارچ کے استقبالی ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمدنے کہا ہے کہ18فروری کے انتخابات بھی ملک میں سیاسی استحکام نہیں لا سکے اورناکام داخلہ اور خارجہ پالیسی سابق حکومت کاتسلسل ہے،ان کاکہناتھا کہ جماعت اسلامی کااجتماع عام ایسا لائحہ عمل دے گاجس سے ملکی سیاست امریکی مداخلت سے آزادہوجائے گی،جماعت اسلامی کے نائب امیرلیاقت بلوچ کاکہناتھاکہ حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اسلئے اسے مستعفی ہو جاناچاہیے۔
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 6:16 PM 0 comments

پاکستان دہشت گردی کا نشانہ ہے عالمی برادری مدد کرے۔صدر زرداری

اسلام آباد (اے پی ایس )صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ ہے عالمی برادری اسے مشکلات سے نکالنے میں مدد کرے ۔ انہوں نے یہ بات برطانیہ کے پاکستان میں سفیر رابرٹ برنکلے سے بات چیت کے دوران کہی۔ جنہوں نے ایوان صدر اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق برطانوی سفیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی مدد کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ اس سے پہلے لیبیا کے سفیر Ibrahim Mukthar Henitish نے بھی صدر زرادری سے ملاقات کی۔ صوبہ سرحد کے گورنر اویس غنی نے صدر زرداری سے ملاقات میں امن و امان اور قبائلی علاقوں کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 6:07 PM 0 comments

آٹھ اکتوبر: حکومت نے تعمیر نو اور نو آباد کاری کا عزم کر رکھا ہے ۔وزیر اعظم گیلانی

اسلام آباد (اے پی ایس) گذشتہ روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمال مغربی علاقوں میں آٹھ اکتوبر 2005ء کو آنے والے تباہ کن زلزلے کی تیسری برسی منائی گئی۔ اس موقع پر زلزلے سے شدید متاثر ہونے والے ضلع مظفرآباد سمیت ملک میں خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔ اسی سلسلے میں دارلحکومت اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کا ایک جامع نظام وضع کیا جارہا ہے جس کی عدم موجودگی میں ان کے بقول پائیدار اقتصادی ترقی پر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت نے تعمیر نو اور نو آباد کاری کے ذریعے آٹھ اکتوبر کے زلزلے کی تباہ کاریوں کو ختم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیشن کی سربراہی کررہے ہیں جو ملک میں قدرتی آفات اور حادثات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کی نگرانی کرتا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی ہے جب کہ صوبائی اور ضلعی سطح پر بھی ہر طرح کی آفت سے نمٹنے کے لیے سیل موجود ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی استطاعت میں اضافے کی ضرورت ہے۔یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سیلاب ، خشک سالی اور پہاڑی تودے گرنے جیسی آفات اور دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے جن سے ہونے والی تباہی اربوں ڈالر کے نقصان کا سبب بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل مینجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 50ایسے اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں قدرتی آفات کے خطرات زیادہ ہیں اور حکومت نے ان علاقوں کے لیے مناسب فنڈز مختص کررکھے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیلاب زلزلوں اور خشک سالی جیسی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے پیشگی اطلاع کا نظام مزید مئوثر بنانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ 8اکتوبر 2005کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور شمالی علاقوں میں آنے والا 7.6شدت کا تباہ کن زلزلہ تقریباً 75ہزار افراد کی ہلاکت اور 35لاکھ افراد کو بے گھر کرنے کا سبب بنا تھا۔حکام کے مطابق زلزلے کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے 5.6ارب ڈالر کی رقم خرچ کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی حکومت کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے کام کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہے۔اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 5:54 PM 0 comments

کم تنخواہ والے طبقے کی اقتصادی مشکلات میں کمی کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اجرائ

اسلام آباد (اے پی ایس)وفاقی حکومت نے کم تنخواہ والے طبقے کی اقتصادی مشکلات میں کمی کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت چھ ہزار سے کم آمدن والے خاندانوں کو ہر ماہ حکومت کی طرف سے ایک ہزار روپے کی امداد دی جائے گی۔بدھ کو وفاقی دارلحکومت میں نیوز کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصدبڑھتی ہوئی مہنگائی سے متاثرہ افراد کو کھانے پینے کی اشیاءکی خرید میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستانی کشمیر، شمالی علاقوں اور فاٹا سمیت ملک بھر میں مستحق افراد اپنے اپنے علاقے کے سینٹر یا ممبران قومی اسمبلی سے ایک فارم حاصل کر سکتے ہیں۔ جس کی نادرہ کی طرف سے جانچ پڑتال کے بعد اس خاندان کو انکم سپورٹ کارڈ جاری کر دیا جائے گا۔ تاہم یہ کارڈ صرف اس خاندان کی خاتون ہی حاصل کر سکے گی۔انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے لیے 34 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے جس سے ملک کی 12 سے 14 فیصد آبادی مستفید ہو سکے گی۔ عوام کی فلاح ریاست کی ذمہ داری ہے اور عالمی سطح پر تیل اور خوراک کے قیمتوں میں اضافے سے جو اقتصادی تنزلی آئی ہے اس کے اثرات سے غریب عوام کو بچانے کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔دوسری طرف ناقدین کاکہنا ہے کہ اس پروگرام کے لیے 34 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنے سے بدعنوانی کے امکانات پید ا ہونگے اور ان کے بقول بہتر ہوتا اگراس رقم سے ملک میں صنعتی یونٹ قائم کر کے روزگار کے مواقع پیداکیے جاتے۔تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 5:42 PM 0 comments

افغا نستان میں مشکل صورتحال ہمارے غلط اندازے کی وجہ سے ہے۔اوبامہ

نیو یارک (اے پی ایس )امریکی صدارت کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار سینیٹر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی بدلنا ہوگی صدر بش کی طرف سے ڈکٹیٹرشپ کی حمایت سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ہے- انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں جمہوری حکومت کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر انہیں یہ معلوم ہو کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہیں تو پھر اسے ہلاک کرنے کےلیے وہ پاکستان میں ضرور کارروائی کریں گے- ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار سینٹیر جان مکین نے کہا کہ وہ سینیٹر باراک اوبامہ کے برعکس اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کےلیے پاکستانی حکومت اور عوام کا تعاون چاہیں گے۔ امریکی صدارتی امیدوار انتخابات سے صرف ستائیس روز قبل منگل کی شب ہونے والے مباحثے میں ووٹروں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے- صدارتی امیدواروں کے دوسرے مباحثے میں ملک میں آنےوالے اقتصادی بحران، ٹیکسوں، ہیلتھ انشورنس، گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، اور سوشل سکیورٹی سمیت معاشی مسائل ووٹروں کے سوالوں کے محور رہے۔ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی مسائل کے متعلق سوالات میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے موضوعات نمایاں رہے۔ پاکستان پر امریکی پالسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے- ہم ماضی کی طرح ڈکٹیٹر کی حمایت نہیں کر سکتے- ہم نے دہشتگردی کےحلاف جنگ کے نام پر اسے اربوں ڈالر دیئے اور اس نےطالبان اورعسکریت پسندوں سے امن معاہدے کیے۔دونوں صدارتی امیدواروں سے خارجہ پالیسی کے میدان میں ان کی ایک ووٹر ٹمی ہاک کا سوال تھا ’ کیا ہمیں پاکستان کی خود مختاری کا اس وقت بھی احترام کرنا چاہیے جب القاعدہ کے دہشتگرد اس کی حدود میں ہو؟ کیا ہمیں سرحد تک ان کا تعاقب نہیں کرنا چاہیے یا پھر ہمیں پاکستان میں بھی اس طرح پالیسی اپنانی جیسی ہم نے ویتنام جنگ کے دوران کمبوڈیا میں اپنے دشمنوں سے کیا تھا؟‘ ڈیموکریٹک پارٹی کےصدارتی امیدوار سینیٹر باراک اوبامہ نے سوال کو عمدہ قرار دیتے ہوئے کہا ’ پاکستان میں ہمارے ساتھ بہت ہی مشکل صورتحال ہے۔’مشکل صورتحال ہمارے غلط اندازے کی وجہ سے ہے کہ ہم نے ابھی افغانستان میں اپنا کام ختم ہی نہیں کیا تھا کہ القاعدہ کو کچلنے سے قبل ہم نے عراق میں مداخلت کردی-‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ یہ ہوا کہ ہم نے اپنی تمام حکمت عملی اور وسائل عراق میں لگائے اور اسامہ بن لادن کو اس بیچ میں پاکستان میں صوبہ سرحد کے پہاڑی علاقوں میں فرار ہوجانے کا موقعہ مل گیا۔ اب وہ ہمارے فوجیوں پر حملے کر رہے ہیں اور افغانستان کی صورتحال سنہ دو ہزار ایک سے بھی کافی درجہ خراب ہو چکی ہے اور یہی دہسشتگردی کا مرکزی علاقہ ہے جہاں وہ اب بھی امریکیوں کو قتل کرنے کے منصوبہ بنا رہے ہیں -‘ سینیٹر اوبامہ نے امریکی وزیر دفاع کی بات کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ دہشتگردی کےخلاف جنگ افغانستان میں شروع ہوئی تھی اور افغانستان میں ہی ختم ہوگی- ایسے ملک میں جب آپ کو کسی اور ملک کےخلاف حمایت کی ضرورت ہو تو اس ملک کی حکومت سے تعاون درکار ہوتا ہے نہ کہ عوامی رائے عامہ اپنے خلاف کر دینا۔اوبامہ نے کہا ’دہشتگردی کےخلاف جنگ کا مرکز افغانستان ہے اس لیے افغانستان کی حکومت پر وہاں (افغانستان) کی صورتحال میں بہتری لانے کےلیے دباو¿ بڑھانا چاہیے- عراق میں جنگ ختم کر کے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھا کر افغانستان میں متعین کرنی چاہیے- افغانستان میں منشیات کی سمگلنگ روکنی چاہیے جس سے آنیوالی رقم دہشتگردی پر خرچ ہورہی ہے- انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان پر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے- انہوں نے جنرل مشرف کا نام لیے بغیر کہا ہم ماضی کی طرح ڈکٹیٹر کی حمایت نہیں کرسکتے- ’ ہم نے دہشتگردی کےخلاف جنگ کے نام پر اسے اربوں ڈالر دیئے اور اس نےطالبان اورعسکریت پسندوں سے امن معاہدے کیے-انہوں نے کہا ’ہمیں پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط بنانا چاہیے اور فوجی امداد کے بجائےغیر فوجی امداد میں توسیع کرنی چاہیے تاکہ پاکستان ہمارے ساتھ کام کرنے کےلیے مزید مستحکم ہو سکے-دونوں امیدواروں کے درمیان آخری اور تیسرا مباحثہ پندرہ اکتوبر کو نیویارک میں ہوگی ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری معلومات یا نظر میں اسامہ بن لادن آتا ہے اور پاکستان کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرنے کے قابل نہیں یا اس کا ارادہ نہیں رکھتی تو ہم خود کارروائی کریں گے- اسامہ بن لادن کو ہلاک کریں گے اور القاعدہ کو کچل کر رکھ دیں گے اور ہماری قومی سلامتی کی یہی سب سے بڑی ترجیح ہے-جان مکین نے اپنے حریف صدارتی امیدوار اوبامہ کی طرف سے طالبان کے تعاقب میں پاکستان کے اندر حملے کرنے کی بات کو احمقانہ قرار دیا ہے۔جان مکین نے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں سے آپ کو کسی اور ملک کےخلاف حمایت کی ضرورت ہو تو اس ملک کی حکومت سے تعاون درکار ہوتا ہے نہ کہ عوامی رائے عامہ اپنے خلاف کر دینا- انہوں نے اعتراف کیا کہ افغانستان میں ’افغان حریت پسندوں‘ کی طرف سے سابقہ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکہ کو علاقے سے ہاتھ صاف کرکے واپس آجانا غلطی تھی جس سے طالبان واپس آ گئے- دونوں امیدوار ایک سوال کے جواب میں اس پر متفق دیکھے گئے کہ اسرائیل پر ایرانی حملے کی صورت میں امریکہ کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا- البتہ باراک اوبامہ نےایران اور شمالی کوریا سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے پر زور دیا جبکہ سینیٹر جان مکین نے کہا کہ ہم اب ایک نئی ’ہولو کسٹ‘ نہیں دیکھنا چاہتے- اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 5:27 PM 0 comments

No comments: