International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, October 1, 2008

سمجھ دار، ویلر ڈیلر،بہادر اور جمہوریت پسندصدر آصف زرداری۔ تحریر : چودھری احسن پریمی۔ اے پی ایس



پاکستان کے نو متنخب صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ طالبان ایک کینسر ہیں اور اس سے ملک کو پاک کر کے دم لیں گے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ میرا فیصلہ ہے کہ ہم ان (طالبان) کا پیچھا کریں گے، اور ملک سے ان کو صاف کریں گے۔‘آصف علی زرداری نے طالبان کے خلاف کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ میری اولین ترجیح ہے کیونکہ دوسری صورت میں ملک نہیں رہے گا تو میں کس کا صدر ہوں گا۔‘ آصف علی زرداری سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اس لیے طالبان کے خلاف ہیں کہ انہوں نے ان کی بیوی کو ہلاک کیا تھا تو انہوں نے کہا ’بالکل، یہ میرا بدلہ ہے جو میں ہر روز لیتا ہوں۔ پاکستان کے اندر مزید امریکی فوجی کارروائیاں نہیں ہونی چاہیں اس سے منفی اثر پڑے گا اور اس کی بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑے گی طالبان پاکستان کے معاشرے کے لیے ایک کینسر ہیں وہ ان کے خلاف صرف اس لیے نہیں کہ انہوں نے بینظر بھٹو کو ہلاک کیا تھا۔ آصف زرداری نے مزید کہا ہے کہ طالبان نے ان کے بچوں سے ان کی ماں کو چھین لیا۔ وہ ان سے آکسیجن چھین لیں گے تاکہ ملک میں کوئی طالبان باقی نہ رہے۔ ایک سوال پر کہ کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا تو آصف زرداری نے کہا کہ انہیں تشویش ضرور ہے لیکن خوف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اتنی جلدی مرنا نہیں چاہتے کیونکہ ان کے سامنے ایک مقصد ہے۔ زرداری نے آئی ایس آئی کے بارے میں ایک سوال پر کہا کہ ’یہ ہمارا مسئلہ ہے اور ہم اسے حل کر لیں گے۔‘ آصف زرداری نے کہا کہ وہ مشرف کی طرح دوغلی پالیسی نہیں اپنائیں گے۔ انہوں نے اس جگہ انگریزی زبان کا ایک محاورہ بھی استعمال کیا جس کا لفظی ترجمہ ہے کہ شکاری کتے کے ساتھ شکار کرو اور خرگوش کے ساتھ بھاگتے رہو۔ اخبار کے مطابق آصف علی زرداری نے نیویارک میں اپنے قیام کے دوران امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ مائیکل ہیڈن کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات بھی کی۔ جس کے بعد میں پتہ چلا کہ آئی ایس آئی کے تین ڈاریکٹوریٹس کے سربراہان کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔آصف زرداری پر سیاسی بنیادوں پر بھی مقدمات قائم کیئے جا تے رہے ہیں ۔آصف علی زرداری نے کہا کہ جو بھی ان کی حکومت کے ساتھ نہیں چلے گا وہ اس کو باہر کر دیں گے۔آصف علی زرداری نے یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ پاکستانی فوجیوں کی دہشت گردی کے خلاف خصوصی تربیت کے لیے بھی امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ وہ امریکی ماہرین کی زیر نگرانی پاکستان کے فوجیوں کی مناسب تریبت کرانا چاہتے ہیں۔لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے اندر مزید امریکی فوجی کارروائیاں نہیں ہونی چاہیں اس سے منفی اثر پڑے گا اور اس کی بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑے گی قبائلی علاقوں میں وہ صنعتیں لگانا چاہتے ہیں، پوست کی جگہ لوگوں کو متبادل فصلیں کاشت کرنے پر راغب کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو یہ باور کرنا چاہتے ہیں کہ ہم طالبان کے خلاف کارروائی کررہے ہیں اور ان کو کوئی پناہ گاہ فراہم نہ کی جائے۔ قبائلی علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کسی نے ان پہاڑوں سے افغانستان اور انڈیا کے درمیان بغیر پیسے دیئے یا انڈیا سے لوٹے ہوئے مالِ غنیمت میں سے حصہ دیئے سفر نہیں کیا ہے۔ آصف علی زرادری نے ملک کے معاشی بحران پر بات کرتے ہوئے سعودی عرب سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے تیل کی درآمد پر ہونے والے پندرہ بلین ڈالر کم کرنے میں مدد کریں اور جمہوری پاکستان کو کم نرخوں پر تیل فراہم کریں۔ انہوں نے فرانس سے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے اور امریکہ سے ہر اس ملک سے جو مدد کرنے کی استاعت رکھتا ہے پاکستان کی مدد کرنے کی بات کرنے کی درخواست کی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے نمائندے راجر کوہن جنہوں نے یہ انٹرویو کیا زرداری کے بارے میں اپنے تاثرات لکھتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے زرداری کو ایک ’سٹریٹ سمارٹ‘ یعنی چالاک یا سمجھ دار، ’ویلر ڈیلر‘ یا سودے باز، ’سیکولر‘، امریکہ نواز، جمہوریت پسند اور بہادر شخص پایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ (زرداری) افغانستان اور بھارت سے تعلقات ٹھیک کرنے میں انتہائی سنجیدہ ہے۔فوج کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں ایک سوال پر زرداری نے کہا کہ پاکستان فوج کے جرنیل ایک دور سے گزرے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سیاسی قیادت کی کیا اہمیت ہے۔ بینظیر بھٹو کے انتقام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں کسی سے جنگ کا شوق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں برداشت کی قوت ہے۔ ان کی سب سے بڑی قوت تکلیف برداشت کرنے میں ہے۔ زرداری نے کہا کہ وہ تکلیف دینے پر یقین نہیں رکھتے بلکے تکلیف جھیلنے یا برداشت کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور وہ سمجھتے کہ جو سب سے زیادہ تکلیف برادشت کر سکتا ہے وہ ہی بہادر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسی لیے عورت کو زیادہ بہادر اور طاقت ور سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔ آصف زرداری سے گذارش ہے کہ آپ نے امریکی اخبار کو انٹرویو میں جو عزم کیا ہے۔وہ اپنی جگہ لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ قبائلی علاقوں میں ایسے افراد کے خلاف کا روائی کی جا ئے جن کے سرحد پار رابطے ہیں اور جو امریکیوں کی ہی بی ٹیم ہیں نہ کہ ان کے نام پر معصوم پا کستا نیوں کا قتل عام شروع ہو کیو نکہ آپ طا لبان کو کینسر جیسی موذی مرض سمجھ رہے ہیں کہیں اگر کو ئی غلط نشا نے سے اگر پا کستا نیوں کی جان جا تی رہی تو عوام یہی سمجھیں گے کہ حکمران عوام کیلئے ایک کینسر ہے اور وہ اس کے تدارک کیلئے کسی اور علاج کی طرف نہ چل نکلیں۔جبکہ امریکہ نے پاکستان کی آزادی اور علاقائی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو پہلے سے زیادہ تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔ یہ بات واشنگٹن میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے سٹریٹیجک مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی ہے جو وزارت خارجہ نے گذشتہ منگل کے روز اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کو جاری کیا ہے۔مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جبکہ امریکی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے نے کی ہے ۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں ملکوں نے پختہ، طویل المعیاد اور کثیر الجہتی اشتراک قائم کرنے کا عزم دہرایا اور پاکستان سمیت پورے خطے میں امن، سلامتی ، استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کا اعادہ کیا ہے۔مذاکرات میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کو دنیا بھر کے لیے خطر ہ قرار دیا گیا اور امریکہ نے کہا کہ وہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو تربیت اور سازوسامان فراہم کرے گا۔دونوں ملکوں نے 20ستمبر کو اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کی اور اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں سے تعزیت کی۔ دونوں ملکوں کے حکام نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی ترقی اور انہیں جدید طرز پر لانے کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے۔ پاکستان اور امریکہ نے زراعت ،تعلیم ، سائنس و ٹیکنالوجی اور اقتصادی میدان سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کا عزم کیا ہے جبکہ امریکہ نے پاکستان میں توانائی کے بحران کے خاتمے اور خوراک کی سیکیورٹی کو بڑھانے میں مدد دینے کا بھی یقین دلایا۔ پاکستان نے ”فرینڈز آف پاکستان“ کے اجلاس کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے اسے آئندہ سالوں کے دوران چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔امریکہ نے پاکستان کی معیشت کو استحکام بخشنے کے حوالے سے حکومت کے مرتب کردہ اصلاحی اقدامات اور ان کے نفاذ کی حمایت کی۔ اجلاس میں طے پایا ہے کہ توانائی اور تعلیم کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات اس سال کے آخر میں ہوں گے۔پاکستان نے سیلاب زدگان اور قبائلی علاقے باجوڑ میں لڑائی کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے امریکہ کی طرف سے 40لاکھ ڈالر کی امداد پر شکریہ ادا کیا ۔ امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات اور جرگے کے عمل کی بحالی کے علاوہ اس سال کے آخر میں اسلام آباد میں علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس منعقد کرنے کے عزم کی حمایت کی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے وہاں Reconstruction Opportunity Zonesقائم کرنے کاعزم دہرایااور کہا کہ اس حوالے سے کانگریس میں قانون سازی کی منظوری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ دونوں ملکوں کے حکام نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اے پی ایس

No comments: